غزہ پر حملے، خواتین، بچوں سمیت 82فلسطینی شہید : ابھی جنگ جاری، ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں، امریکہ
60روزہ سیز فائر کے دوران مستقل جنگ بندی پر بات ہوگی، حماس کو غزہ کی پٹی میں رہنے کی اجازت نہیں دوں گا، نیتن یاہو
غزہ، واشنگٹن (ویب ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مزید 82فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایک ممکنہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور فلسطینیوں کو جبراً رفح منتقل کرنے کے اسرائیلی منصوبے پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ادھر اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں مئی سے اب تک خوراک کے متلاشی 798فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ مزید برآں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں مجوزہ 60روزہ جنگ بندی کے دوران مستقل جنگ بندی کے لیے بات چیت کی جائے گی۔
لیکن حماس کو غزہ کی پٹی میں رہنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ اگر اسرائیل کی شرائط اس مدت میں پوری نہ ہوئیں تو ان پر فوجی طاقت سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔
ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ ابھی جنگ جاری ہے، ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ترجمان محکمہ خارجہ ٹیمی بروس میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ میں معصوم لوگوں کی اموات نہیں ہونی چاہئے، امن کی کوششوں کیلئے ٹرمپ انتظامیہ اپنا کردار جاری رکھے گی۔



