سیلاب سے تباہی ،متعددہلاک، بارشوں کے پانچویں سپیل کا الرٹ جاری
گلگت میں9 جانیں ضائع، لینڈ سلائیڈنگ کے بعد سیاحتی مقام فیری میڈوز کا ٹریک بند ،پاک فضائیہ کا ریسکیو مشن،125 افراد کو بچایا گیا
لاہور، اسلام آباد (بیوروچیف ،نمائندگان) پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں کے پانچویں سپیل کا الرٹ جاری کر دیا۔ترجمان کے مطابق 28 سے 31 جولائی کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی ہے ۔ مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاوالدین، گجرات، گجرانوالہ، حافظ آباد ، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب، سرگودھا، میانوالی، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اور اوکاڑہ میں بارش کی پیشگوئی ہے۔
29 جولائی 31 سے ڈیرہ غازی خان، بھکر، بہاولپور، خانیوال، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ اور راجن پور میں بارشوں کی پیشگوئی ہے۔ دوسری طرف محکمہ موسمیات نے آئندہ ہفتے ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی کردی، 28 جولائی سے خیبرپختونخوا، پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت دیگر علاقوں میں وقفے وقفے سے بارشوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے بالائی علاقوں میں کم شدت کی مون سون ہوائیں داخل ہو چکی ہیں، تاہم28 جولائی سے یہ ہوائیں شدت اختیار کر سکتی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواوں کا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں 27 سے 31 جولائی کے دوران کشمیر اور گلگت بلتستان میں وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں۔
28 سے 31 جولائی کے دوران خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع چترال، دیر، سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور وزیرستان سمیت دیگر علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اﷲ فراق نے کہا ہے صوبہ بھر میں سیلابی تباہ کاریوں سے اب تک 9 افراد جابحق ہوئے ہیں جن میں 2خواتین اور 2 بچے بھی شامل ہیں ۔ لاپتہ افراد کی تعداد 10 سے 12 ہوسکتی ہے ۔ سیلاب کی تباہ کاریوں سے 500 سے زائد گھر تباہ ہوئے ہیں ۔مجموعی طور پر 12 کلومیٹر سے زائد سڑکیں تباہ ہوئیں ۔ صوبہ بھر میں 27 پل اور 22 گاڑیاں سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئی ہیں ۔
لاتعداد دکانیں و مویشی خانے تباہ ہوئے ہیں اور ہزاروں فٹ عمارتی لکڑی ریلوں کے ساتھ بہہ گئی ہے ۔ سب سے زیادہ مالی و جانی نقصانات ضلع دیامر میں ہوئی ہیں ۔ سیلابی تباہ کاریوں سے درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔ 300 سے زائد پھنسے مسافروں اور سیاحوں کو ریسکیو کیا گیا ۔ لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے ۔ مختلف علاقوں میں پانی کے بہائو اور سلائیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ سلائڈنگ اور پانی کے بڑھنے بہا کی وجہ سے سرچ آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ پانی کے بہا کی وجہ سے سڑکوں کی بحالی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ امدادی کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ، پانی و بجلی کی بحالی کیلئے کام شروع کیا گیا ہے ۔ صوبائی حکومت متاثرین سیلاب کو تنہا نہیں چھوڑے گی ہر ممکن مدد کرے گی ۔
ذرائع کے مطابق دیامر کے علاقے چلاس میں لینڈ سلائیڈنگ کے بعد سیاحتی مقام فیری میڈوز کا ٹریک بند ہونے سے سیاحوں کی بڑی تعداد پھنس گئی۔ پولیس کے مطابق سیاحوں کی بڑی تعداد فیری میڈوز میں موجود ہےتاہم چلاس روڈ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد مقام پر بند ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جو نوجوان ٹریکنگ کرسکتے ہیں ان کو کراس کروا کے لایا جارہا ہے جب کہ خواتین، بوڑھے اور بزرگوں کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا جا رہا ہے۔ سیلاب سے فیری میڈوز میں تقریباً 200 کے قریب بکریاں ہلاک ہو چکی ہیں۔
دریں اثنا پاک فضائیہ نے گلگت بلتستان میں شدید موسمی حالات کی بنا پر پھنسے ہوئے سیاحوں اور مقامی افراد کو کامیابی کے ساتھ ریسکیو کر لیا۔ 25 جولائی کو پاک فضائیہ کے C-130 طیارے نے خصوصی پرواز کے ذریعے ان افراد کو قادری بیس سے نور خان ایئر بیس منتقل کیا۔ ریسکیو آپریشن میں 125 افراد کو بچایا گیا، جن میں 82 شہری، 25 پاک فوج کے اہلکار اور 18 پاک فضائیہ کے اہلکار شامل تھے۔ مزید برآں کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے بتایا کہ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور ہیڈ قادر آباد پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر دریا کے کنارے پر آباد افراد اور مویشی محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں جب کہ مختلف دیہات کی کئی ایکڑ فصلیں کٹاؤ کے باعث دریا برد ہوگئیں۔ دریائے راوی ، جہلم اور ستلج میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔



