بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

نمبرپلیٹ سے چھیڑچھاڑکرنیوالوں کیخلاف آپریشن، پولیس والےبھی پکڑے جائیں گے؟

ای چالان سے بچنے کیلئےنمبر پلیٹ کی شناخت تبدیل کرنا سنگین خلاف ورزی:سی ٹی اولاہورسید عبدالرحیم شیرازی

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)سی این این اردوڈاٹ کام کی خبر پر ایکشن،نمبرپلیٹ سے چھیڑچھاڑکرنیوالوں کیخلاف کریک ڈائون شروع کردیا گیا۔

سی ٹی اولاہورسید عبدالرحیم شیرازی

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق ای چالان سے بچنے کے لیے نمبر پلیٹ کی شناخت تبدیل کرنا سنگین خلاف ورزی ہے، جس پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ غیر نمونہ اور غیر قانونی گرین نمبر پلیٹس استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے چالان کے ساتھ مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔

تاہم شہری حلقوں کی جانب سے یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس مہم کا اطلاق پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کی گاڑیوں پر بھی یکساں طور پر ہوگا؟

ٹریفک قوانین کے تحت کسی بھی گاڑی کی نمبر پلیٹ کو غیر واضح کرنا، نمبر مٹانا، جعلی یا تبدیل شدہ پلیٹ لگانا قابلِ سزا جرم ہے۔ حالیہ آپریشن میں عام شہریوں کے خلاف کارروائیاں تو سامنے آرہی ہیں، لیکن بعض سرکاری گاڑیوں خصوصاً پولیس کی گاڑیوں پر مبینہ طور پر دھندلے، چھپے ہوئے یا غیر واضح نمبروں کے حوالے سے سوالات بدستور موجود ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قانون کی عملداری مقصود ہے تو اس کا اطلاق بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ قانون صرف عام شہریوں کیلئے نہیں بلکہ سرکاری اہلکاروں اور اداروں پر بھی یکساں نافذ ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر عوام میں دوہرے معیار کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر نمبر پلیٹوں کے خلاف مہم واقعی شفاف اور غیر جانبدار ہے تو پھر تمام سرکاری گاڑیوں کا بھی مکمل آڈٹ کیا جائے اور جہاں کہیں خلاف ورزی پائی جائے وہاں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مبصرین کے مطابق حالیہ مہم کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہوگا کہ آیا قانون کی گرفت صرف عام شہریوں تک محدود رہتی ہے یا پھر سرکاری محکموں اور بااثر افراد کی گاڑیاں بھی اس کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب عوام عملی اقدامات کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

 

 

یہ بھی پڑھیں:چالان سے بچائویاخفیہ نقل وحرکت؟،پولیس والے نمبر پلیٹیں ٹمپر،خودجرم کا راستہ بتانے لگے

دریں اثنا سی این این اردوڈاٹ کام نے 6روز قبل محکمہ پولیس پنجاب کی گاڑی کی تصویراورثبوت کے ساتھ خبر ناظرین تک پہنچائی تھی جس کو اس لنک پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کی جانب سے کرپشن سے پاک اور قانون کی بالادستی والے صوبے کے دعوے سوالیہ نشان بن گئے ۔صوبائی دارالحکومت لاہور کی سڑکوں پر مبینہ طور پر پنجاب پولیس کی متعدد سرکاری گاڑیاں بغیر واضح نمبر پلیٹس کے گھومنے لگیں۔

 

سی این این اردوڈاٹ کام نے لاہورمیں دندناتی ایسی ہی ایک پولیس کی گاڑی جس کا نمبر ٹمپر کیا گیا تھا ایل آراو5468کاسراغ لگالیا جو اعلیٰ حکام کیلئے ٹیسٹ کیس ہے ،سی این این اردوڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے زیر استعمال سرکاری بعض سرکاری گاڑیوں کے نمبر جان بوجھ کر مٹا دیئے گئے یا چھپا دیے گئے ہیں تاکہ ٹریفک چالانوں سے بچا جا سکے اور خفیہ نقل و حرکت جاری رکھی جا سکے۔

شہریوں نے اس صورتحال کو “بلی کو دودھ کی رکھوالی” کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرم ختم کرنے والے خود جرم کا راستہ دکھانے لگے ہیں۔ لاہور کی سڑکوں پر سرکاری گاڑیوں کے بغیر نمبر یا دھندلے نمبروں کے ساتھ کھلے عام گھومنے سے یہ تاثر مضبوط ہورہا ہے کہ قانون صرف عام شہری کیلئے ہے۔

سماجی حلقوں نے آئی جی پنجاب اور ڈی آئی جی آپریشنز سے مطالبہ کیا ہے کہ “چراغ تلے اندھیرا” ختم کیا جائے اور پنجاب پولیس سمیت تمام اداروں کیلئے قانون کو یکساں بنایا جائے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی گاڑیوں کے خلاف فوری محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button