پاکستانتازہ ترینکالم

ماحول اور قومی یکجہتی

سپیڈ بریکر،میاں حبیب

پاکستان اور بھارت کے درمیان اٹ کھڑکا لگا رہتا ہے کئی بار جنگ کا ماحول بنا کئی بار یقینی جنگ ٹل گئی کئی بار خوفناک جھڑپیں ہوئیں کئی سرحدوں پر فائرنگ تو معمول کی بات ہے بارڈر کے دونوں طرف رہنے والے لوگ اس ماحول کے عادی ہو چکے ہیں 1971 کے بعد دونوں ملکوں میں کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی لیکن اصل جنگ 1965 کی تھی آج تک کے ہونے والے معرکوں بارے دونوں ملک اپنی اپنی مرضی کی تصویر کشی کر کے اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج تک دونوں ملکوں میں کوئی فیصلہ کن جنگ نہیں ہوئی ایک دوسرے سے چھیڑ خانی میں دونوں ممالک ایٹمی قوت بن گئے اور کہا جا رہا تھا کہ ایٹم بم بقا کی ضمانت ہیں ۔

اب دونوں ملکوں کے درمیان جنگ نہیں ہو گی لیکن دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے دراصل بھارت پاکستان پر مسلسل دباو برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کی پون صدی سے خواہش ہے کہ پاکستان اس کی طفیلی ریاست بن جائے دونوں ملک ایک دوسرے کو اپنا جانی دشمن تصور کرتے ہیں دونوں ممالک بہت سارے وسائل دفاع پر خرچ کرتے ہیں دونوں ملکوں کے لوگ ترقی میں پیچھے رہ گئے ہیں اور خوف کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں نہ آج تک تنازعات ختم ہو سکے ہیں اور نہ ہی دونوں ایک دوسرے کا وجود ختم کر سکے ہیں۔

دونوں ملکوں کے پاس بڑی بڑی فوجیں موجود ہیں ہتھیاروں کی دوڑ میں بھی دونوں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں دونوں ملکوں کے لوگ جذباتی ہیں اور قیادتیں ان جذبات کو کیش کرواتی رہتی ہیں خاص کر بھارت جب چاہتا ہے ایک خاص قسم کا ماحول بناتا ہے اور پاکستان کو باامر مجبوری اس کا جواب دینا پڑتا ہے پاکستان بھارت کے مقابلے میں چھوٹا ملک ہونے کے باوجود دفاعی معاملات میں بھارت سے بھارت سے زیادہ صلاحیتوں کا مالک ہے افواج پاکستان اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے پیش نظر دنیا میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے ۔

حالیہ کشیدگی میں بھارت نے پاکستان کو بےجا دبانے کی کوشش کی لیکن پاکستان ڈٹ گیا پاکستان نے مشترکہ تحقیقات کا پتہ پھینک کر بھارت کی جارحیت کا جواز ختم کر دیا ہے بھارت کے پاس اب واپسی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اس کے باوجود اگر بھارت کی جانب سے کوئی شرارت کی جاتی ہے تو پاکستان ہائی الرٹ ہو چکا ہے پاکستان فوری جواب کا فیصلہ کر چکا پاکستان نے ٹارگٹ بھی سیٹ کر لیے ہیں بھارت یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید پاکستانی قوم تقسیم ہو چکی ہے اور وہ اندرونی مسائل کا شکار ہے لیکن بھارت کے جنگی ماحول کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ پوری پاکستانی قوم دفاع پاکستان کے لیے اکھٹی ہو چکی ہے۔

پوری قوم دفاع کے لیے تیار ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت جن کو ڈرانے کے لیے ماحول بنا رہا تھا وہ سب پرسکون ہیں انھیں رتی برابر بھی خوف نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ایسے ایسے شگوفے گڑے جا رہے ہیں کہ جنگ مذاق بن کر رہ گئی ہے اور جو ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے وہ اپنے ہی پیدا کردہ ماحول سے خوفزدہ ہیں بھارت کا بزنس مین افراتفری کا شکار ہے پاکستان کی جانب سے اپنی ائیر سپیس پر پابندی لگانے کے بعد بھارت کی ہوا بازی کی صنعت شدید مسائل کا شکار ہے ان کو گھنٹوں طویل مسافت طے کرنا پڑ رہی ہے ۔

روزانہ کی بنیاد پر درجنوں فلائیٹس لیٹ ہو رہی ہیں سول ایوی ایشن کا سارا نظام ڈسٹرب ہو گیا ہے ان کے میڈیا نے ازخود اتنا خوف پیدا کر دیا ہے کہ پوری قوم پریشانی کا شکار ہو گئی ہے علیحدگی پسند تحریکیں انتظار میں ہیں کہ کب بھارت جنگ چھیڑے اور وہ حالات کا فائدہ اٹھائیں بھارتی فوج غیر یقینی اور تذبذب کا شکار ہے بھارت کا اشتعال اس کے گلے پڑ گیا ہے بھارت اگر کوئی چھیڑ خانی کرتا ہے تو وہ پاکستان کا اتنا نقصان نہیں کر سکتا جتنا اپنا کر لے گا اب فیصلہ بھارت کے ہاتھ میں ہے وہ کم بےعزتی پر کان لپیٹ کر خاموش ہو جاتا ہے یا پھر کسی ایڈونچر کے شوق میں اپنا تماشہ لگوانا ہے اب تو بین الاقوامی میڈیا بھی واضح کر رہا ہے کہ بھارت کے پاس پہلگام واقعہ کے کوئی ثبوت نہیں اور اب شاید وہ ثبوت گھڑنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم 5مئی تک کا وقت بڑا اہم ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button