بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

غدار غدار کی گردان آخر کب تک؟

عقیل انجم اعوان

غدار!یہ لفظ ہمارے ہاں سب سے آسان اور سب سے سستا ہتھیار بن چکا ہے۔ یہ الزام اتنی بار لگایا گیا، اتنی آسانی سے استعمال ہوا کہ اب اس کی معنویت ہی ختم ہو گئی ہے۔ کبھی یہ لفظ کسی فوجی پر چسپاں کیا گیا، کبھی کسی سیاستدان پر، کبھی کسی صحافی پر اور کبھی کسی طالب علم پر۔ اب حال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے نکل کر یہ فتوے کشمیر اور گلگت بلتستان تک جا پہنچے ہیں۔ جو بھی اپنے حق کی بات کرے، اپنے دکھ کا ذکر کرے یا کسی اور کے لیے انصاف مانگے اسے دشمن کا ایجنٹ اور غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ کھیل کب تک چلے گا؟ہمیں ذرا تاریخ کی طرف جھانکنا ہوگا۔ پاکستان کے قیام کے چند سال بعد ہی لیاقت علی خان کے دور میں اپوزیشن کے سیاسی رہنماؤں کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دینا شروع کر دیا گیا تھا۔ پھر مشرقی پاکستان کے رہنما جب اپنے صوبے کے حقوق مانگتے تو ان پر بھی غداری کے فتوے لگتے۔ شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات کو بھارتی ایجنڈا کہا گیا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ آدھا ملک ہاتھ سے نکل گیا لیکن آج بھی ہم وہی کام دہرا رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے پشتون جب اپنے خون کے حساب کی بات کرتے ہیں تو غدار کہلاتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے گاؤں کیوں اجڑے، ہمارے نوجوان کیوں لاپتہ ہوئے، ہماری عورتیں بیوہ کیوں ہوئیں؟ مگر جواب دینے کے بجائے ان کے منہ پر مہر لگا دی جاتی ہے کہ یہ سب دشمن کے ایجنٹ ہیں۔

بلوچستان میں جب لوگ اپنے وسائل، اپنے تیل، گیس اور معدنیات پر حق مانگتے ہیں تو ان پر بھی غداری کا فتوی جڑ دیا جاتا ہے۔

گلگت بلتستان کے نوجوان جب روزگار اور آئینی شناخت کی بات کرتے ہیں تو ان پر بھی شک کیا جاتا ہے۔ اور اب کشمیر میں بھی یہی رویہ اپنایا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب دشمن کے ہاتھوں بک چکے ہیں؟ کیا کروڑوں لوگ بیک وقت غدار ہو سکتے ہیں؟ یا اصل مسئلہ کچھ اور ہے جسے ہم چھپانے کے لیے یہ لیبل استعمال کرتے ہیں؟یہ رویہ دراصل طاقتور طبقوں کی کمزوری کا اعتراف ہے۔ جب دلیل ختم ہو جاتی ہے، جب انصاف نہ دیا جا سکے، جب سوالوں کا جواب نہ ہو تو پھر سب سے آسان راستہ یہی ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے کو غدار قرار دے کر خاموش کرا دیا جائے۔ اور یہی ہم دہائیوں سے کر رہے ہیں۔

آئیے ذرا ان صحافیوں کو یاد کریں جنہیں صرف اس لیے غدار کہا گیا کہ انہوں نے سچ لکھا یا سچ بولنے کی کوشش کی۔ کتنے اخبارات بند کیے گئے، کتنے چینلز پر پابندیاں لگیں، کتنے کالم سنسر ہوئے۔ یہ سب اس لیے کہ حکمرانوں کو اپنی غلطیاں چھپانی تھیں۔ یہی نہیں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی غداری کے فتوے کا سامنا کرنا پڑا۔ آج جو اقتدار میں ہیں کل وہ بھی اسی لفظ کی زد میں تھے۔ نواز شریف کو بھارتی ایجنٹ کہا گیا بے نظیر بھٹو کو سیکیورٹی رسک کہا گیا عمران خان کو یہودی لابی کا نمائندہ کہا گیا اور یہ سب الفاظ تاریخ کے کوڑے دان میں جا چکے ہیں۔

اب یہی سلسلہ گلگت بلتستان اور کشمیر تک پہنچ گیا ہے۔ اگر کوئی طالب علم اپنے مستقبل پر سوال اٹھائے تو اس کے والدین کو دھمکی دی جاتی ہے۔ اگر کوئی صحافی اپنی بستی کے مسائل لکھ دے تو اسے دشمن کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس حکومت کو کس سے محبت ہے؟ اپنے عوام سے یا صرف ان لوگوں سے جو ہر بات پر تالیاں بجائیں، جھوٹ کو سچ اور اندھیرے کو روشنی کہنے پر آمادہ ہوں؟غداری کے اس کھیل نے ہماری سیاست اور معاشرت دونوں کو تباہ کر دیا ہے۔ محبت کم ہوئی ہے، نفرت بڑھی ہے۔

حکومت اور عوام کے درمیان دیوار کھڑی ہو گئی ہے۔ اس دیوار کو گرانے کی ضرورت تھی مگر ہم اسے اور اونچا کر رہے ہیں۔ جس ملک میں اپنے ہی شہریوں پر اعتبار نہ ہو، وہاں کونسی ترقی اور کونسا امن آ سکتا ہے؟اب ذرا سوچئے کہ دنیا کہاں جا رہی ہے۔ برطانیہ میں لوگ بریگزٹ کے فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔

امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر کی تحریک چلی، کسی نے ان کو دشمن کا ایجنٹ نہیں کہا بلکہ ان کی آواز کو سنا گیا۔ مگر ہمارے ہاں جو اپنی عزت، اپنی روٹی اور اپنے ووٹ کی بات کرے وہ غدار ٹھہرتا ہے۔یہی وہ رویہ ہے جو ملک کو اندر سے کمزور کرتا ہے۔ دشمن باہر سے وار کرے تو ہم سب مل کر اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن اگر اندر سے ہی کروڑوں لوگوں کو غیر وفادار قرار دے دیا جائے تو پھر کون بچے گا؟ پھر نہ ریاست بچے گی نہ عوام۔ یہی المیہ ہے جس سے ہم نے سبق نہیں سیکھا۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ قوموں کو طاقت ان کے شہریوں کے اعتماد سے ملتی ہے۔ اگر شہریوں کو مسلسل زبردستی دبایا جائے تو وہ یا تو خاموشی سے مایوس ہو جاتے ہیں یا پھر بغاوت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہی کچھ مشرقی پاکستان میں ہوا، یہی بلوچستان میں ہوا، یہی کے پی میں ہوا اور اب خطرہ ہے کہ یہی سلسلہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی نہ دہرایا جائے۔ریاست کے پاس ایک ہی راستہ ہے۔ لوگوں کے سوالوں کو سنیں، اختلاف کو برداشت کریں، حق کو حق تسلیم کریں۔ ورنہ غداری کے اس کھیل کا انجام بہت خطرناک ہوگا۔

اس ملک کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔یہ ملک ہم سب کا ہے۔ اس کا دفاع بھی ہم سب نے کرنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو عزت دی جائے، ان کے سوالوں کو سنا جائے اور ان کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے ایک طاقت بنایا جائے۔ بصورت دیگر یہ غدار غدار کا کھیل ایک دن سب کو لے ڈوبے گا ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button