انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکاروبار

بلوچستان کے وسائل پر امریکہ کی نظراور بھارتی ایجنسی کی کارروائیاں(آخری قسط)

لاہور:(رپورٹ/محمد قیصر چوہان)بلوچستان کے خوبصورت پتھر جیسے چاغی کا آنکس ماربل اور لسبیلہ کی سبز اور لال سرپنٹین جیسے شاندار پتھروں کو تراشنا پاکستان میں کسی کو نہیں آتا۔ کراچی میں جولوگ اس سے برتن ، ظروف اور اینڈے بینڈے جانور تراشتے ہیں وہ فن کاری نہیں جانتے۔ یہی پتھر جب چین اور اٹلی جا کر تراشے جاتے ہیں تو انسان سبحان اللہ کہہ اٹھتا ہے۔

کاش اگر ہم خام پتھر باہر بھیجنے کے بجائے اسے دیدہ زیب برتنوں، مجسموں او رسجاوٹی اشیا میں تراش کر باہر کے ملکوں کو بھیجنے کے قابل ہوجائیں تو کس قدر منافع ہو۔اسی طرح اگر ہم اپنے جم اسٹونز کو بھی تراش کر باہر بھیجیں تو خوب زرمبادلہ کماسکتے ہیں۔ یہ صنعت بھی پاکستان میں ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

پشاور اور کوئٹہ میں کچھ ٹریننگ کے ادارے پیدا تو ہوئے ہیں مگر ایک عمر چاہیے اس دشت کی سیاحی کے لیے۔ پتھر کاٹنے ، تراشنے اور پالش کرنے کا فن سکھانے کے لیے ابھی تو ڈھنگ کے اساتذہ بھی ایک اچھی تعداد میں پیدا کرنے کا کام وقت طلب ہے۔ کوئٹہ میں اس صنعت کو ترقی دے کر ہم اپنے جم اسٹونز سے جیولری، مینوفیکچرنگ سنٹر اور ڈیزائنگ سنٹر بنا کر تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں۔

pakistan america

ظاہر ہے کہ ان کاموں سے پہلے تو ہمیں امن وامان کا مسئلہ حل کر کے مائننگ کو بھی جدید طرز پر لانا ہوگا۔ ایسے ضوابط کو لاگو کروانا چاہیے جن کی روسے کسی غیر کوالیفائڈ فرد کو ایکسپلوریشن اور مائننگ کی ٹریننگ لیے بغیر لائسنس نہ دئیے جائیں کیونکہ ایسے لوگ صحیح کام نہیں کرپائیں گے اور وسائل کا نقصان ہوگا۔ یہ سیفٹی کے لیے بھی اچھی بات نہیں۔ ایسے لوگ ہی مزدوروں سے کچے گڑھے کھدواتے ہیں جن کی دیواریں گر جاتی ہیں اور ایسی سرنگیں لگواتے ہیں جو بیٹھ جاتی ہیں اور جانی نقصان ہوتا ہے۔

ایکسپلوریشن اور مائننگ کے لائسنس اور پرمٹ کے حصول میں کرپشن اور رشوت بھی ایک لعنت ہے جو غلط کام کرواتی ہے۔ہمیں ارضیاتی اور مائننگ انجینئرنگ کی تعلیم کو سنوارنا ہوگا۔ارضیاتی سروے ، تفصیلی نقشہ بندی (Detailed Mapping) ،جیوفزیکل اور جیو کیمیکل سروے (Geophysical & Geochemical Survey) جہاں جہاں بھی ضروری ہوں، کرنے ہوں گے اور اس قسم کا سارا مواد خواہشمند اور کوالیفائیڈ لوگوں کو فراہم کروانا ہوگا۔ اسی طرح بہتر مالی فنڈنگ اور بینکنگ کی سہولیات بھی پیدا کرنی ہوں گی۔ ان کاموں کے لیے سالہا سال تک سنجیدہ کوششوں اور بے لوث محنت کی ضرورت ہے۔

بلوچستان کی اس خطے میں اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ بلوچستان سنٹرل ایشین معدنی ذخائر کی ترسیل کا واحد پوائنٹ ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی طاقتیںاس علاقے پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہیں۔امریکہ کی اس علاقے میں دلچسپی کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ مستقبل میں اس کا حریف ملک چین گوادر کی تعمیر میں عملی حصہ لے رہا ہے۔ جو چین ، روس کے علاوہ بین الاقوامی بحری راستے کی ایک اہم بندرگاہ ہے۔

اس پورٹ کے ذریعے یورپ ، مشرق وسطیٰ، چین اور روسی ریاستوں کی باہم تجارت آسان ہو گئی ہے۔ امریکہ اس پورٹ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن اس کا انتظام و انصرام پاکستان نے چین کو دے دیا۔ یہی بات امریکہ کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ گوادر ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر اور پاکستان کی معیشت پر اس کے گہرے مثبت اثرات کے ساتھ وسط ایشیاءسے اقتصادی تعلقات شاندار مستقبل اور ایشیائی خطے کی سیاست میں پاکستان کو جس مقام پر لے جائیں گے وہ امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی قبول نہیں۔ بھارت کی پریشانی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ بھارت کی بحری فوج کے سربراہ کابیان ریکارڈ پر ہے کہ بھارت کو گوادر میں چین کی موجودگی پر سخت تشویش لاحق ہے۔

انہی تمام منصوبہ جات کی تکمیل کیلئے امریکہ نے کوئٹہ میں قونصل خانہ کھولنے کی اجازت طلب کی تھی جس کو وزرات دفاع اور خارجہ نے مستر د کر دیا تھا۔امریکہ گوادر میں چین کی موجودگی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے جبکہ ہمسائے میں ایران بھی ہے۔ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں سی آئی اے اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے۔ امریکہ محسوس کر رہا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی کام چینی انجینئروں کی نگرانی میںہو رہے ہیں اور مستقبل میں گوادر کی بندر گاہ اور بلوچستان چین کیلئے گرم پانیوں تک رسائی کا باعث بن سکتے ہیں۔

دوسری طرف امریکہ کو بلوچستان میں معدنیات گیس، تیل اور قیمتی ہیرے جواہرات کے خزانے نظر آرہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان مستقبل میں ان خزانوں سے استفادہ کرسکے۔ یہود و نصاریٰ اور ہنود ایک ایسا اتحاد ثلاثہ ہے جو بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کر کے افغانستان اور ایران کے بعض علاقے اس کے ساتھ ملا کر گرم پانیوں کے ساحل کو گریٹر بلوچستان کے نام پر اپنی زیر تسلط ریاست بنانا چاہتا ہے۔

pak army

لیکن ملک دشمن قوتوں کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قیمتی معدنی وسائل سے نوازا ہے جنہیں استعمال کرکے ہم ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں مگر افسوس کہ ہم 75 سالوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس زیر زمین دولت کو زمین سے نکال کر ملک کی خوشحالی کیلئے استعمال نہیں کرسکے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ملکی مفاد کے ان اہم منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ حکومت ان ذخائر سے صحیح معنوں میں استفادہ کرکے عوام کو خوشحال اور ملک کو ترقی کی سمت گامزن کرے گی ۔

جیولوجیکل انجینئرز انجینئرنگ کمپنیوں، الیکٹریکل یوٹیلٹیز، کان کنی اور پٹرولیم کمپنیوں، اور حکومت، تحقیق اور تعلیمی اداروں میں مشاورت کرتے ہیں۔ارضیاتی انجینئرز سول انجینئرنگ، کان کنی، اور تیل اور گیس کے منصوبوں کے لیے مقامات کی مناسبیت کا جائزہ لینے کے لیے ارضیاتی اور جیو ٹیکنیکل مطالعہ کرتے ہیں۔ اور جیولوجیکل ڈیٹا کے حصول کے پروگراموں کی منصوبہ بندی، ڈیزائننگ، ترقی اور نگرانی اور ارضیاتی انجینئرنگ رپورٹس اور سفارشات کی تیاری کا تجزیہ کرتے ہیں ۔

سول انجینئرنگ، کان کنی، پیٹرولیم، اور فضلہ کے انتظام کے منصوبوں کو تیار کرنے یا علاقائی ترقی کے لیے جیو ٹیکنیکل، جیولوجیکل، جیو فزیکل، یا جیو ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کے حصول، تجزیہ، اور نقشہ سازی کے پروگراموں کی منصوبہ بندی، تیار کردہ اور مربوط پروگرام تیار کرتے ہیں۔سول انجینئرنگ کے منصوبوں جیسے پتھر کی کھدائی، پریشر گرائوٹنگ، اور ہائیڈرولک چینل کے کٹائو کو کنٹرول کرنے کی بنیادوں کی تعمیر یا بہتری کے لیے سفارشات اور رپورٹس کا تجزیہ کریں اور تیار کرتے ہیں۔

کان کنی کی صنعت سے متعلق کان کنی کی تلاش، کان کی تشخیص، اور فزیبلٹی اسٹڈیز میں نظریاتی اور تجرباتی مطالعات کی منصوبہ بندی، ترقی، ہم آہنگی اور ان کا انعقاد کرتے ہیں۔وفاقی وصوبائی حکومتیں جیولوجیکل کے شعبے کو جدید ترین کمپیوٹرز ، اورجی پی ایس جیسے انٹرنیشنل معیار کے مطابق آلات اور ٹرانسپورٹ کے لیے ریموٹ ایریاز کے لیے نئی گاڑیاں خرید کردیں ۔

پاکستانی جیولوجیکل کے شعبے میں اس وقت بہترین نوجوان اور باصلاحیت پروفیشنلز جیولوجیکل انجینئراور آفیسرز موجود ہیں جو ادارے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں،حکومت ریسرچ کے لیے کا م کرنے والے افسران کو صرف اپنی پروفیشنل ڈیوٹی کیلئے تعینات کرے ان سے دفتر میں انتظامی معاملات کام نہ لیا جائے۔اور اس وقت بہت سے اچھے پروجیکٹس پر کام بھی ہو رہا ہے۔اگر حکومت انہیں مکمل معاونت فراہم کرے تو پاکستان آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت دیگر غیر ملکی قرض سے نجات حاصل کرسکتاہے۔

نوٹ:اس سلسلے کی پہلی قسط 24ستمبر2025کو بعنوان بلوچستان سونے کی چڑیا،جغرافیائی،معدنی دولت سے مالا مال ،دوسری قسط 26ستمبر کو بلوچستان کے سونا سمیت قیمتی معدنیات اگلتے پہاڑاور اہم علاقے ، تیسری قسط بلوچستان کی ترقی،معدنی وسائل کی تلاش اور تحقیق میں بڑی رکاوٹیں 28ستمبر کو شائع کی گئی جبکہ آج 30ستمبر بروزمنگل چوتھی اور آخری قسط شائع کی جارہی ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button