مشرق وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر بارود کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف سفارتی میزوں پر مذاکرات کے چرچے ہیں اور دوسری طرف میزائلوں اور ڈرونز کی گھن گرج سنائی دے رہی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے تہران پر حملے نے خطے میں ایک نئی بے یقینی کو جنم دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی امریکہ کے کردار پر بھی سوالات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے۔ بظاہر امن مذاکرات کی حمایت اور پس پردہ عسکری سرپرستی یہ تضاد عالمی سیاست کے اس دوہرے معیار کی علامت بن چکا ہے جس پر برسوں سے تنقید ہوتی آئی ہے۔

ایران اور مغرب کے تعلقات کی تاریخ صرف حالیہ کشیدگی تک محدود نہیں۔ 1979 کے انقلاب کے بعد سے ایران اور امریکہ کے درمیان عدم اعتماد کی ایک گہری خلیج موجود ہے۔ جوہری پروگرام، پابندیاں، خفیہ آپریشنز اور پراکسی جنگیں اس کشمکش کے اہم ابواب ہیں۔ جب بھی مذاکرات کی کوئی کھڑکی کھلتی ہے کوئی نہ کوئی واقعہ اسے بند کر دیتا ہے۔ ایسے میں تہران پر حملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ واقعی صرف ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا چاہتا ہے یا اس کے مقاصد اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں؟ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک واشنگٹن کی اولین ترجیح خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں برقرار رکھنا ہے۔ اسرائیل اس حکمت عملی کا مرکزی ستون ہے۔ اگر ایران عسکری اور سیاسی طور پر مضبوط ہوتا ہے تو وہ نہ صرف اسرائیل کے لیے بلکہ خلیجی اتحادیوں کے لیے بھی چیلنج بن جاتا ہے۔ چنانچہ ایران کو کمزور رکھنا امریکی مفاد کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔رجیم چینج کا سوال بھی بارہا اٹھایا گیا ہے۔ عراق میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے اور لیبیا میں معمر قذافی کے انجام کو سامنے رکھا جائے تو یہ خدشہ بے بنیاد نہیں لگتا۔ تاہم ایران کی صورت حال مختلف ہے۔
یہاں ایک مضبوط ریاستی ڈھانچہ، نظریاتی بنیادیں اور عوامی مزاحمت کی تاریخ موجود ہے۔ بیرونی دباؤ سے حکومت کی تبدیلی آسان عمل نہیں۔ اس کے باوجود معاشی پابندیاں اور داخلی بے چینی کو ہوا دینا ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔گریٹر اسرائیل کا تصور بھی اس بحث میں شامل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اسرائیلی قیادت سرکاری طور پر ایسے کسی توسیع پسندانہ منصوبے کا اعلان نہیں کرتی لیکن خطے میں جغرافیائی اور سیاسی برتری کا خواب اس کی پالیسیوں میں جھلکتا ہے۔
ایران چونکہ فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی حمایت کرتا ہے اس لیے اسے اسرائیل اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ تہران پر حملہ اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیل اپنے دشمن کو اس کے گھر میں نشانہ بنانے کی صلاحیت دکھانا چاہتا ہے۔ایران اب کیا کرے گا؟ اس کا ردعمل کئی سطحوں پر ہو سکتا ہے۔ براہ راست عسکری جواب، سائبر حملے، یا خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے دباؤ بڑھانا۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق اور شام میں مختلف ملیشیا گروپس، اور یمن میں حوثی تحریک ایران کے اثر و رسوخ کے اہم مراکز ہیں۔ ایران ماضی میں صبر و تحمل کا مظاہرہ بھی کرتا رہا ہے اور بعض اوقات محدود لیکن علامتی جواب بھی دیتا رہا ہے تاکہ مکمل جنگ سے بچتے ہوئے اپنی ساکھ برقرار رکھ سکے۔

براہ راست جنگ ایران کے لیے بھی خطرناک ہوگی کیونکہ اسرائیل کی عسکری طاقت کے پیچھے امریکی حمایت کھڑی ہے۔ امریکہ اگر کھل کر میدان میں آتا ہے تو یہ تصادم پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ تیل کی سپلائی، خلیج کی آبی گذرگاہیں اور عالمی معیشت سب متاثر ہوں گی۔ اس لیے ایران غالباً ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرے گا جس میں فوری جوش کے بجائے طویل المدتی دباؤ شامل ہو۔چین اور روس کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ چین خطے میں توانائی کے مفادات رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے معاشی معاہدے موجود ہیں۔ وہ کھلی جنگ نہیں چاہے گا لیکن سفارتی سطح پر ایران کی حمایت کر سکتا ہے اقوام متحدہ میں بیانات اور ممکنہ ویٹو کے ذریعے دباؤ کم کرنے کی کوشش کرے گا۔ دوسری جانب روس پہلے ہی مغرب کے ساتھ کشیدگی کا شکار ہے۔
روس ایران کو دفاعی تعاون فراہم کر سکتا ہے انٹیلی جنس شیئرنگ بڑھا سکتا ہے اور اسلحہ کی فراہمی میں اضافہ کر سکتا ہے لیکن وہ بھی براہ راست جنگ میں کودنے سے گریز کرے گا۔مسلم دنیا کا ردعمل روایتی بیانات تک محدود رہنے کا امکان زیادہ ہے۔ خلیجی ممالک ایک پیچیدہ صورتحال میں ہیں۔ ایک طرف وہ ایران کی علاقائی پالیسیوں سے نالاں ہیں دوسری طرف اسرائیل کے کھلے حملے کی حمایت بھی نہیں کر سکتے۔ کچھ ممالک سفارتی مذمت کریں گے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جا سکتا ہے مگر عملی اقدامات محدود ہوں گے۔ عوامی سطح پر غم و غصہ ضرور دیکھنے کو ملے گا لیکن ریاستی سطح پر محتاط طرز عمل اپنایا جائے گا۔اس ساری صورتحال میں سب سے اہم پہلو عالمی نظام کا دوہرا معیار ہے۔
جب یوکرین پر حملہ ہوتا ہے تو اسے عالمی قانون کی خلاف ورزی کہا جاتا ہے لیکن جب مشرق وسطیٰ میں طاقتور ممالک کارروائی کرتے ہیں تو بیانیہ بدل جاتا ہے۔ یہی تضاد عالمی سیاست کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے۔ اگر بین الاقوامی قانون سب کے لیے برابر نہیں تو پھر طاقت ہی اصل معیار بن جاتی ہے۔ایران کے اندر بھی یہ حملہ داخلی سیاست پر اثر انداز ہوگا۔ سخت گیر عناصر کو تقویت ملے گی جو پہلے ہی مغرب پر عدم اعتماد رکھتے ہیں۔ اصلاح پسند حلقے کمزور پڑ سکتے ہیں کیونکہ بیرونی دباؤ کے ماحول میں قومی سلامتی کا بیانیہ غالب آ جاتا ہے۔ یوں ممکن ہے کہ حملہ ایران کو کمزور کرنے کے بجائے اس کے سخت گیر دھڑوں کو مزید مضبوط کر دے۔
امریکہ کے لیے بھی یہ صورتحال سادہ نہیں۔ وہ بیک وقت یوکرین، ایشیا پیسیفک اور مشرق وسطیٰ میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ براہ راست ایران سے جنگ اس کے لیے سیاسی اور معاشی بوجھ بن سکتی ہے۔ امریکی عوام بھی طویل جنگوں سے تھک چکے ہیں۔ اس لیے واشنگٹن ممکنہ طور پر محدود تصادم اور دباؤ کی پالیسی اپنائے رکھے گا تاکہ مکمل جنگ سے بچتے ہوئے ایران کو قابو میں رکھا جا سکے۔اسرائیل کی حکمت عملی عموماً پیشگی حملوں پر مبنی رہی ہے۔ وہ اپنے دشمن کو طاقت حاصل کرنے سے پہلے ہی روک دینا چاہتا ہے۔ تہران پر حملہ اسی سوچ کا تسلسل ہو سکتا ہے۔ تاہم ہر حملہ ردعمل کو جنم دیتا ہے اور اگر ردعمل غیر متوقع ہوا تو خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔
عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جائے۔ اگر سفارتی راستے بند ہو گئے تو عسکری راستے خود بخود کھل جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کی راہ کو مکمل طور پر ختم نہ ہونے دیا جائے۔ ایران اور مغرب کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات، جوہری پروگرام پر شفافیت اور علاقائی سیکیورٹی ڈائیلاگ جیسے اقدامات ہی دیرپا حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔آخرکار یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ سب گریٹر اسرائیل یا رجیم چینج کا منصوبہ ہے یا صرف طاقت کے توازن کی جنگ؟ شاید حقیقت ان سب کے درمیان کہیں موجود ہے۔ عالمی سیاست میں مقاصد کبھی یک رخے نہیں ہوتے۔ معاشی مفادات، جغرافیائی حکمت عملی، داخلی سیاست اور نظریاتی تصادم سب مل کر فیصلے تشکیل دیتے ہیں۔مشرق وسطیٰ ایک بار پھر امتحان میں ہے۔ اگر عقل اور تدبر غالب نہ آئے تو آگ کے یہ شعلے سرحدوں کو نہیں پہچانیں گے۔ ایران، اسرائیل، امریکہ، چین، روس اور مسلم دنیا سب ایک پیچیدہ شطرنج کے کھیل میں بندھے ہوئے ہیں۔ ہر چال کے اثرات دور رس ہوں گے۔



