دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ،خوشحال اور مضبوط ملک کےلئے ضروری ہے کہ اس کی سیاست اور معیشت میں استحکام ہو، عدالتیں انصاف دے رہی ہوں،ملک کے کسی بھی حصہ میں احساس محرومی نہ ہو،کسی بھی ملک کی نظریاتی سرحدیں اس کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہوتی ہیں۔تاریخ کی کتابیں بڑی بڑی سلطنتوں کے عروج و زوال سے بھری پڑی ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد کئی درجن ممالک میں فوجی آمروں کی حکومتیں بھی رہیں لیکن اب یہ زیادہ تر قصہ پارینہ بن چکی ہیں اورچند ممالک میں ہی فوجی آمریت باقی رہ گئی ہے۔ اب بڑی سلطنتیں، بادشاہتیں اور آمریتیں پہلے کی طرح تو موجود نہیں ہیں کیونکہ زیادہ تر ممالک میں اب جمہوری نظام (اچھا یا برا) ہی چل رہا ہے ،لیکن ہر ملک کا استحکام سیاست، معیشت اور انصاف سے ہی مشروط ہے۔
کیا پاکستان کی 78 سال کی تاریخ ان میں سے کسی بھی حوالہ سے اطمینان بخش ہے؟ اس کا جواب یقینا نفی میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ پون صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نہ صرف یہ ہمیشہ سیاسی عدم استحکام اور سماجی و عدالتی ناانصافی کا شکار رہا ہے بلکہ معاشی بدحالی کی وجہ سے ترقی اور خوشحالی سے کوسوں دورہے۔
پاکستان کی پوری تاریخ کے دوران کیا کبھی ملک میں پارلیمان کی بالادستی رہی اور آئین کی حرمت کا پاس رکھا گیا؟کیا اپنی پوری تاریخ کے دوران ملک کی معیشت کمزوراور دوسروں کی دستِ نگر نہیں رہی؟ کیا پاکستان میں غربت، بھوک، افلاس، بے روزگاری اور لاچارگی کا راج نہیں رہا؟باقی رہ گیا انصاف، تو کیا ہماری عدالتوں نے انصاف کے تقاضوں کے تحت فیصلے دئیے یا تقریباً ہر موقع پر نظریہ ضرورت ہی غالب رہا؟ سماجی انصاف تو ہمیشہ سے ملک میں ناپید ہی رہا اس تاریخ اور موجودہ حالات کو مد نظر رکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام ہو اور عوام خوشحال ہوں۔
سیاسی استحکام کی بنیاد پارلیمان کی بالا دستی اور آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد پر ہے۔ اگر ایساہو گا توریاست کے تمام ستون اور ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے سسٹم کی مضبوطی کےلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ ریاست کے تین اہم ستون پارلیمان، حکومت اور عدلیہ ہوتے ہیں۔ سسٹم اس وقت ہی چلتا ہے جب حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کا وجود دل سے تسلیم کریں۔ ریاستی اداروں کا رول محض مددگار کا ہوتا ہے جو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان اس وقت جن داخلی چیلنجز سے گزر رہا ہے ان میں معیشت، سیاسی انتشار، عدالتی نظام پر سوالات، خارجہ پالیسی میں دبائواور عوامی اعتماد میں کمی جیسے مسائل سرفہرست ہیں۔ ان تمام چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے قومی سطح پر ایک متفقہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس کیلئے ” میثاق استحکام پاکستان“ کی اشدضرورت ہے۔میثاق جمہوریت کی طرز پر اگر تمام سیاسی قوتیں ایک ٹیبل پر بیٹھ کر چند بنیادی قومی امور پر اتفاق کر لیں، تو یہ ملک کی تقدیر بدلنے کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے۔ ایسے معاہدے کا مقصد کسی ایک جماعت کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ پورے نظام کو بچانا ہے تاکہ ادارے مضبوط ہوں، عوام کا اعتماد بحال ہو، اور دنیا کو یہ پیغام جائے کہ پاکستان ایک مستحکم اور بالغ نظر ریاست ہے۔
بدقسمتی سے ہم نے خود اپنے معاشر ے کو تعصبات، انتہا پسندی اور انتشار کا شکار کر دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر مختلف الزامات لگا کر جس طرح عوام میں نفرت پیدا کر رہی ہیں، اس سے ملکی استحکام کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب ملک کو مہنگائی، بے روزگاری، اور معاشی بحران نے گھیر رکھا ہے، عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے بجائے سیاست دان اپنے بیانیوں کے ذریعے صرف الزامات اور جوابی الزامات کی سیاست میں مصروف ہیں۔ کوئی پارٹی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ شاید اس سے بھی کہیں غلطی ہوئی ہو۔ ہر ایک اپنے آپ کو معصوم اور باقیوں کو قصور وار قرار دیتا ہے۔
اس ذہنیت کو ختم کیے بغیر قومی مفاہمت ممکن نہیں۔ملک کے موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اب ضد، انا اور ذاتی مفادات کو چھوڑ کر اجتماعی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ جمہوریت صرف الیکشن کا نام نہیں بلکہ برداشت، مکالمہ، اور شراکت اقتدار کا نام ہے۔ جس ملک میں اپوزیشن کو دشمن اور حکومت کو ظالم قرار دیا جائے، وہاں نہ تو سیاسی نظام پنپ سکتا ہے اور نہ ہی معیشت بہتر ہو سکتی ہے ،اس وقت ہمیں سیاست کی تطہیر اور نیت کی درستگی کی اشد ضرورت ہے۔
ہمیں اپنے تعلیمی نصاب، میڈیا کے کردار، اور سوشل میڈیا کے رویوں پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔ سچ، تحقیق اور دلیل کا کلچر پروان چڑھانا ہوگا۔ صرف نعروں، جذبات اور وائرل بیانات سے ملک نہیں بنتے۔ ہمیں صبر، مستقل مزاجی، اور تدبر سے کام لینا ہوگا۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، جو انصاف، مساوات اور انسان دوستی پر قائم ہوا، اگر ہم ان اصولوں کو پس پشت ڈال دیں تو پھر صرف جغرافیہ باقی رہ جائے گا، روح ختم ہو جائے گی۔
ہماری سیاسی جماعتیں اگر واقعی پاکستان سے محبت رکھتی ہیں تو وہ ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دیں۔ایک مضبوط، خوشحال اور متحد پاکستان ہی ہر جماعت کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ اگر ملک ہی نہ رہے، یا عوام ہی بد حال رہیں، تو اقتدار کا حاصل کیا ہوگا؟ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچنا ہوگا۔تحریکِ پاکستان کے رہنمائوں نے جس نظریاتی ریاست کا خواب دیکھا تھا، اس کی بنیاد دین اسلام، عدل، مساوات، اخوت اور خود داری پر رکھی گئی تھی۔
قائداعظمؒ محمد علی جناح نے واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہوگی جہاں ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے، قانون کی حکمرانی ہوگی، اقلیتوں کو تحفظ ملے گا اور ریاست اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیوں میں خود مختار ہوگی، مگر آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں ان خوابوں کی محض جھلکیاں ہی نظر آتی ہیں، حقیقت بہت حد تک مختلف اور تلخ دکھائی دیتی ہے۔معاشی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ صحت، تعلیم اور انصاف جیسے بنیادی شعبے مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔
ملک کے بڑے شہر تو کسی نہ کسی طور سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں، مگر دیہی علاقوں کی حالت زار دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ترقی کا پہیہ صرف چند مخصوص طبقات کیلئے ہی گھوم رہا ہے۔ کیا یہی وہ پاکستان تھا جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کیلئے لاکھوں افراد نے جانیں قربان کیں؟۔بدقسمتی سے آج بھی ہم لسانی، مسلکی، صوبائی اور نسلی تعصبات کا شکار ہیں۔ اتحاد، یقین اور قربانی کے وہ جذبے جو تحریک پاکستان کا خاصا تھے،آج بکھرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ نوجوان نسل جو کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتی ہے، بے راہ روی، مایوسی اور غیر یقینی کا شکار ہے۔ ان کے پاس نہ مناسب تعلیم ہے، نہ روزگار اور نہ ہی کوئی واضح سمت۔ جب قوموں کے نوجوان منزل سے نا آشنا ہو جائیں تو ان کی ترقی کا خواب فقط خواب ہی رہ جاتا ہے۔
ہمیں ایک ایسی سوچ اپنانا ہوگی جو صرف ذات تک محدود نہ ہو بلکہ قوم کی فلاح پر مبنی ہو۔ ہم سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ملک سلامت ہے تو ہم سب سلامت ہیں، اگر ریاست کمزور ہوئی تو ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔تعلیم وہ ہتھیار ہے جس سے ہم نہ صرف غربت، جہالت اور شدت پسندی کا خاتمہ کرسکتے ہیں بلکہ ایک پر امن، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ بھی قائم کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایسا نصاب جو تحقیق، تخلیق اور تنقیدی سوچ کو فروغ دے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنا ہوگا تاکہ وہ بدلتی ہوئی دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔
صرف رٹا سسٹم سے قومیں ترقی نہیں کرتیں بلکہ علمی و فکری بیداری ہی اصل اثاثہ ہوتی ہے۔ سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکن، ادیب، شاعر، اور فنکار بھی قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ان سب کو چاہیے کہ وہ اپنے ہنر، قلم اور اثر و رسوخ کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ معاشرے میں برداشت، رواداری اور محبت کو فروغ دیا جا سکے۔ فرقہ واریت، تعصب اور نفرت کے بیج بونے والوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔دوستیاں، اتحاد اور معاہدے صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں۔ کشمیر کا مسئلہ آج بھی ایک کھلا زخم ہے۔ ہمیں ہر فورم پر اس مسئلے کو اجاگر کرنا ہوگا، مگر اس کیلئے ہمیں سفارتی مہارت، داخلی اتحاد اور بین الاقوامی قوانین سے واقفیت کی ضرورت ہے۔ فلسطین، یمن، روہنگیا، اور دیگر مظلوم اقوام کے لیے آواز بلند کرنا ہماری اخلاقی ذمے داری ہے، مگر اس کے لیے ہمیں پہلے اپنی صفوں کو درست کرنا ہوگا۔
آزادی کا مہینہ ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا ادراک کریں، اپنے ماضی سے سبق سیکھیں، حال کو سنواریں اور مستقبل کیلئے واضح لائحہ عمل طے کریں۔ آزادی ایک نعمت ہے، مگر اس کی حفاظت، بقا اور استحکام کے لیے قربانی، شعور اور محنت درکار ہوتی ہے۔ ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگاکیا ہم نے اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا حق ادا کیا ہے؟ کیا ہم نے نئی نسل کیلئے ایک محفوظ، خوشحال اور پر امن پاکستان چھوڑا ہے؟اگر ان سوالات کے جواب نفی میں ہیں تو ہمیں خوشی کے بجائے فکر، جشن کے بجائے تجدیدعزم اور نعروں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
یہ دن ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم ذاتی، اجتماعی اور قومی سطح پر اپنے کردار کا ازسرنو جائزہ لیں۔ ہمیں وعدہ کرنا ہوگا کہ ہم اس ملک کو قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے خوابوں کے مطابق ایک اسلامی، جمہوری، ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست بنانے کیلئے انتھک محنت کریں گے۔
ؒ




بہت اچھا اور حقیقت پر مبنی کالم ہے۔ ہمارے مسائل کی جڑ واقعی سیاسی عدم استحکام، عدالتی ناانصافی اور معاشی کمزوری ہی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ اگر سیاسی قوتیں مل بیٹھ کر ‘میثاق استحکام پاکستان’ پر متفق ہو جائیں تو ملک کا مستقبل سنور سکتا ہے