انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پاکستان یقینی طور پر اپنی سرحد پر جنگ نہیں چاہتا، بلاول

امن کیلئے آواز اٹھاتے رہیں گے، چاہے وہ افغانستان ہو، ایران ہو یا بھارت: پریس کانفرنس

برسلز(ویب ڈیسک) پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان یقینی طور پر اپنی سرحدپر جنگ نہیں چاہتا، پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے جو پچھلے چند دنوں میں ہمارے ہمسایہ ملک پر کیے گئی اور ہم اپنی تمام سرحدوں پر امن کیلئے آواز اٹھاتے رہیں گے، چاہے وہ افغانستان ہو، ایران ہو یا بھارت۔ برسلز کے پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران بیلاروس کے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے جس کی 65فیصد آبادی نوجوان ہے جن کی عمریں 35سال سے کم ہیں جبکہ یورپی ممالک بشمول بیلاروس اس کے برعکس آبادیاتی رجحان کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یورپ کے کئی حصوں میں نوجوان ہنرمند افراد کی ضرورت ہے تاکہ وہ آپ کی معیشتوں کو سہارا دے کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں اور دوسری طرف پاکستان ایسے مواقعوں کی تلاش میں ہے جہاں ہم انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں لیکن یہ عمل قانونی طور پر عمل درآمد ہونا چاہیے تاکہ غیر قانونی اور ہجرت کرنے جیسے بڑھتے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ کار عدم توازن کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوگا جس سے ہنرمند پاکستانی باوقار طریقے سے بیرون ممالک میں اپنی خدمات سرانجام دے سکیں گے۔
پاکستانی نژاد بیلج پولیس ایڈوائزر سٹی برسلز کونسلر محمد ناصر نے چیئرمین پی پی سے سوال کیا کہ اسرائیل کے ایران پر حملے سے چند روز قبل خواجہ آصف نے میڈیا پر بیان دیا تھا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، آپ کی اس بیان پر کیا رائے ہے ؟ جبکہ اسرائیل ایران پر میزائلوں سے حملہ کر چکا ہے۔
اس کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی سرحد ایک طرف افغانستان سے ملتی ہے اور ہم افغان۔1کے نتائج بھگت چکے ہیں اور اب ہم افغان۔2 کے نتائج بھگت رہے ہیں، دوسری سرحد جہاں ہم تقریبا ایک فوٹوگرافک تنازع میں مشغول تھے، وہ بھارت کے ساتھ ہے اور تیسرا ملک ایران ہے، ہم یقینی طور پر اپنی اس سرحد پر جنگ نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ان حملوں کی مذمت کی ہے جو پچھلے چند دنوں میں ہمارے ہمسایہ ملک پر کیے گئے اور ہم اپنی تمام سرحدوں پر امن کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے چاہے وہ افغانستان ہو، ایران ہو یا بھارت، ہم بالکل اس تصادم کو عراق 2.0یا تیسری عالمی جنگ میں تبدیل کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور اب یہ بہت آسان ہو گیا ہے کہ ہر مہینے ایک نئی قانونی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نسل کو کیا ہو گیا ہے؟، ہمیں تو جنگ کی لعنت سے بچانے کے لیے سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے تحفظ دیا جانا چاہیے تھا، لیکن اب یہ دفاعی ترتیب بن چکی ہے کہ جب بھی کوئی تنازع ہو جب بھی کوئی اختلاف ہو، تو فورا مکمل جنگ میں کود پڑو، پرانی نسلوں کے لیے ان تصادم کو روکنے کا فیصلہ کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن میری نسل کو ان کے نتائج سمیٹنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں بین الاقوامی برادری سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنا کردار ادا کرے اور فورا اس ایرانی تنازع میں، جو مقبوضہ فلسطین کی افواج کے ساتھ ہے، جنگ بندی نافذ کرے، ہم دائمی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے، یہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button