لاہور:(سید ظہیر نقوی)پنجاب یونیورسٹی میں ڈائریکٹر آئی ای آر کے دفتر پر طلبا تنظیم کی جانب سے حملہ کے حوالے سے ہوشرباانکشافات سامنے آگئے ۔
طلباء تنظیم کے کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر میں 30ملزموں کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ پولیس کے مطابق توڑ پھوڑ کے الزام میں 2 مرکزی ملزمان مجتبی اور زین کو گرفتار کیا گیا ہے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس کے چھاپے جاری ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ایک طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے پنجاب یونیورسٹی ادارہ تعلیم و تحقیق کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالقیوم کے دفتر پر حملہ کرکے شیشے توڑے۔
پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق شعیب فخری، طیب گجر، مجتبیٰ، انیس، زین شوکت اور دیگر نے حملہ کیا سی سی ٹی وی فوٹیج میں تنظیم کے کارکنوں کو دفاتر کی توڑ پھوڑ کرتے دیکھا جا سکتا ہے ۔

پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق جماعت اسلامی طلبہ تنظیم کے کارکن کھیلوں کے پروگرام کی اجازت مانگنے آئے تھے ،ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالقیوم نے ایس او پیز کی پیروی کرنے کا کہا جس پر کارکنوں نے ڈاکٹرعبدالقیوم کے ساتھ غلیظ زبان بھی استعمال کی، دفتر میں توڑ پھوڑاور تشدد بھی کیا ۔
دوسری جانب جماعت اسلامی طلبہ تنظیم کےرکن طیب نے نمائندہ سی این این اردوڈاٹ کام کو تفصیلات بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ پنجاب یونیورسٹی کے ڈائریکٹر عبدالقیوم طالبات اور خواتین کو ہراساں کرتے ہیں ان کیخلاف ہراسگی کا کیس بھی عدالت میں زیر سماعت ہے ۔
طلبہ تنظیم کا موقف ہے کہ ڈائریکٹر عبدالقیوم باقی اپنی چہیتی تمام تنظیموں کو پروٹوکول دیتے ہیں جبکہ ہمارے ساتھ مخاصمت رکھتے ہیں،ناجائز پریشان اور دھمکیاں دیتے ہیں ،ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈائریکٹر عبدالقیوم طلبہ کی حاضری پوری کرنے کیلئے فی کس 5،پانچ ہزار بھی لیتے ہیں۔
ڈائریکٹر آئی ای آر عبدالقیوم کا موقف جاننے کیلئے متعددبار فون کئے گئے مگر انہوں نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔طلبہ وطالبات اور ان کے والدین مارکٹائی کے واقعہ کے بعد خوف وہراس کا شکار ہیں ۔



