تازہ ترینتعلیم/ادب

ایک ممنوعہ محبت کی کہانی۔۔۔

تبصرہ :حسنین جمیل(لندن)

اردو ناول اپنے ارتقا سے لئے کر ابتک بڑا فکشن تخلیق کر چکا ہے اگر اردو فکشن جس میں افسانہ اور ناول دونوں شامل ہیں موزانہ عالمی ادب سے کیا جائے تو کسی طرح بھی اردو فکشن کا قد چھوٹا محسوس نہیں ہو گا ۔


پاکستان میں تو تواتر سے اردو ناول پر کام جاری ہے مگر بھارت جو اردو کی جنم بھومی ہے وہاں اردو فکشن پر کیسا کام ہو رہا ہے جو سنگ میل قرہ العین حیدر جیسی عظیم لکھاری نے وضع کئے تھے اب بھارت کے اردو ادیب کیا کر رہے ہیں ، اردو کا جنم لکھنئو دہلی میں ہوا مگر ترویج پنجاب میں ہوئی تھی ۔

اتر پردش پنجاب کے علادہ حیدرآباد میں اردو پر کام ہوا ہے مگر جس ناول نگارکے ناول پر میں تبصرہ کر رہا ہوں وہ رحمان عباس ہیں جو مہا راشٹرا سے ہیں ان کا ناول ( ایک ممنوعہ محبت کی کہانی) پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے بھارت میں اردو فکشن کا مسقبل محفوط ہاتھوں ہے ، کیا کمال کا ناول ہے پہلے صفحہ کے پہلے مصرعے سے ہی قاری کو اپنی گرفت میں لیے لیتا ہے

اردو مراٹھی مسلمانوں کی بھاشا نہیں ہے انکی زبان مراٹھی ہے مگر چونکہ اردو کا مسلم تہذیپ و ثفاقت سے بہت گہرا تعلق ہے کیونکہ ہندوستان میں اردو کا جنم مسلمانوں کے عہد میں ہوا تھا لہذا یہ زبان مسلم زبان ہی کہلائی جیسے ہندی بھاشا ہندو زبان بن گئی یہ زبانوں کا المیہ بھی بن جاتا ہے کہ ان کو کسی مذہب کے ساتھ منسوب کر دیا جائے ۔

یہی اس ناول کا موضوع ہے رحمان عباس نے کمال مہارت سے اس موضوع کے ساتھ کہانی کا تانا بانا بنا ہے ، مہا راشٹرا کے مسلمانوں کی ثفافتی زندگی غربت پھر خوشحالی اور پھر مذہبی جنونیت یہ سب کچھ اس ناول میں ہے ۔
اردو زبان کا مذہبی زبان جانا بسا اوقات ایک مسلم کردار کے دل میں اس زبان سے نفرت کا باعث بن جاتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ زبان اس کو اسکی مٹی مہاراشٹرا سے دور کر رہی ہے کیونکہ اسے جب یہ کہا جاتا ہے مراٹھی ہندئوں کی زبان تم مت بولو تو اسے برا لگتا ہے کیونکہ وہ سکول میں مراٹھی ہی بولتا چلا آتا ہے مگر دھیرے دھیرے جب وہ کردار اردو ادب سے روشناس ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ وہ اردو کے بارے میں غلط سوچتا رہا۔

زبان کی سیاست اور ادب کی ثفافت میں واضح فرق ہوتا ہے اور اردو شاعری جس قدر روشن خیال ہے شاید کوئی اور بھاشا کی شاعری میں روشن خیالی پائی جاتی ہو ہی اس ناول کی خوبصورتی یہ ہے جب کوئی زبان مذہبی مبلغ کے ہاتھ لگ جائے تو اسکی خوبصورتی ختم کر کے مذہبی اور لسانی شاخت دے دی جاتی ہے اور ناول کےآخر میں جس شدت پسندی کو دکھایا گیا وہ کلاسیک ہے رحمان عباس کا ناول ( ایک ممنوعہ محبت کی کہانی) اردو فکشن میں گراں قدر اضافہ ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button