انٹر نیشنلپاکستان

دوحہ مذاکرات کامیاب: پاک، افغان جنگ بندی: اعلامیہ جاری

پاکستان، افغانستان نے پائیدار امن اور استحکام کیلئے میکنزم پر اتفاق کرلیا، فالو اپ ملاقاتوں پر رضامندی، جنگ بندی کے تسلسل اور عملدرآمد کو یقینی بنانے پر بھی متفق

دوحہ، اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں ہمسایہ ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان، افغانستان دوحہ مذاکرات کی میزبانی ریاستِ قطر اور جمہوریہ ترکیہ نے کی، دوران مذاکرات پاکستان اور افغانستان نے جنگ بندی کا فیصلہ کرتے ہوئے پائیدار امن اور استحکام کیلئے میکنزم پر اتفاق کیا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاکستان اور افغانستان نے فالو اپ ملاقاتوں پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے، جنگ بندی کے تسلسل اور عملدرآمد کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کی جانب سے امن اور استحکام کیلئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے مطابق قطر کی وزارتِ خارجہ نے جنگ بندی معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام سرحدی کشیدگی ختم کرنے میں مدد دے گا۔ مزید برآں، قطر نے اس پیش رفت کو خطے میں پائیدار امن کی بنیاد قرار دیا ہے، اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ اقدام افغانستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان اعتماد سازی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ مزید برآں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے۔
ایکس( سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پہ افغانستان سے دہشتگردی کا سلسلہ فی الفور بند ہو گا، دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے، 25 اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ وفود میں ملاقات ہو گی اور تفصیلی معاملات پر بات ہو گی۔
وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ہم قطر اور ترکیہ دونوں برادر ممالک کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ مزید برآں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں، یہ صحت سمت میں پہلا قدم ہے۔ ایکس( سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے لکھا کہ برادر ملک قطر اور ترکیہ کے تعمیری کردار اور تعاون کا دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کرتے ہیں۔
ہم ایک ٹھوس اور قابل تصدیق نگرانی کے طریقہ کار کے قیام کے منتظر ہیں، جس کی میزبانی ترکیہ کی طرف سے کی جانے والی اگلی میٹنگ میں کی جائے گی۔ اسحاق ڈار نے لکھا کہ نگرانی کا طریقہ کار ضروری ہے تاکہ افغان سرزمین سی پاکستان کی طرف اٹھنے والی دہشت گردی کے خطرے سے نمٹا جا سکے، مزید جانوں کے ضیاع کو روکنے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لانا ضروری ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button