انٹر نیشنلتازہ ترین

یوکرین جنگ جاری رکھیں گے،امریکی پابندیاں ہمیں نہیں یورپی یونین کو نقصان پہنچائیں گی:روس

کبھی 24 گھنٹے، کبھی 100 دن اور اب 50 دن ہم یہ سب دیکھ چکے،نئی پابندیوں کیلئے تیار ہیں، ہتھیاروں کی فراہمی سے یورپی یونین یوکرین کی موت کے لئے مالی امداد کر رہی ہے:سرگئی لاروئوف

ماسکو:(ویب ڈیسک)روس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے پچاس روز کی مہلت اور بصورت دیگر سو فیصد تجارتی محصولات عائد کرنے کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

روس نے کہا ہے کہ یوکرین کے لئے ہتھیاروں کی ادائیگی کرکے یورپی یونین یوکرین کی موت کے لئے مالی امداد کر رہی ہے، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ یورپی یونین کے ٹیکس دہندگان کے خرچ پر یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھنے کی تجویز ایسے ہی ہے جیسے کوئی صرف اس وجہ سے کسی دوسرے کے کھانے کا بل ادا کرے کہ وہ اسے یہ کھانا کھا کر مرتے دیکھے گا۔

دریں اثنا روسی وزیر خارجہ سرگئی لارو ئوف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس اس طرح کے دبا میں آنے والا ملک نہیں اور وہ کسی بھی نئی پابندی کا سامنا کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔سرگئی لارو ئوف نے ٹرمپ کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اس بیان کے پیچھے محرکات کیا ہیں؟ کبھی 24 گھنٹے، کبھی 100 دن اور اب 50 دن ہم یہ سب دیکھ چکے ہیں۔ ہم واقعی سمجھنا چاہتے ہیں کہ امریکی صدر کو ایسا کہنے پر کیا مجبور کر رہا ہے۔ا

نہوں نے دعوی کیا کہ یورپی یونین کی جانب سے امریکی صدر پر یوکرین کو مزید ہتھیار فراہم کرنے کے لیے شدید دبا ڈالا جا رہا ہے۔ لارو ئوف نے یورپی ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ روس کے خلاف پابندیوں کے نئے مسودے تیار کر رہے ہیں، لیکن ان ہی اقدامات کا نقصان انہیں خود بھگتنا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں کوئی شک نہیں کہ ہم مغربی دنیا کی کسی بھی نئی پابندی کا سامنا بخوبی کر سکتے ہیں۔لاوروف نے یورپی قیادت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے کیئر اسٹارمر، فرانس کے ایمانوئیل میکرون اور یورپی یونین کی صدر ارزولا فان ڈیر لائن یوکرین کو فوجی امداد میں اضافے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ان کے مطابق جرمن عسکری حکام روسی سرزمین پر حملوں کے لیے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل دینے پر غور کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، یورپ کی نظر میں سیزفائر کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی روک دی جائے۔ دراصل یہ جنگ بندی صرف مزید عسکری تیاریوں کا موقع بن چکی ہے۔

لارو ئوف نے مزید کہا کہ امریکی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ روس اس طرح کی یکطرفہ جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا۔اس سے قبل روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے بھی ٹرمپ کے الٹی میٹم کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ روس کسی بھی قسم کے مطالبے یا الٹی میٹم کو تسلیم نہیں کرے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button