بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

جب عورت کو ہتھیار بنا دیا گیا

تحریر: محمد محسن اقبال

وسائل سے مالا مال مگر دشوار گزار خط? بلوچستان میں جاری شورش نے حالیہ برسوں میں ایک نہایت تشویش ناک اور المناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی اور اس سے وابستہ تنظیموں کی طویل مسلح مہم، جو کبھی چھاپہ مار کارروائیوں تک محدود تھی، اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں خواتین کو دہشت گردی کے آلہ? کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف علیحدگی پسند عناصر کی بے بسی اور مایوسی کی عکاس ہے بلکہ اس بھاری انسانی قیمت کو بھی آشکار کرتی ہے جو بلوچستان کے عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے، جہاں خاندان بکھر رہے ہیں اور بستیاں خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا، اور جس نے ایک جان کو بچایا، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا” (المائدہ: 32)۔ یہ مقدس تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بے گناہ جان کا قتل اللہ کے نظامِ عدل کے خلاف ایک سنگین جرم اور زمین میں فساد برپا کرنے کے مترادف ہے۔ مگر افسوس کہ دہشت گرد عناصر اس ابدی ہدایت سے بے نیاز اپنی تباہ کن راہ پر گامزن ہیں۔
بلوچ لبریشن آرمی نے حالیہ برسوں میں خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کا رجحان اختیار کیا ہے۔ ان حملوں کا ہدف سکیورٹی فورسز، قومی تنصیبات اور بعض اوقات شہری سرگرمیوں سے وابستہ مقامات بھی بنتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل بلوچستان کی روایتی سماجی اقدار کے بالکل برعکس ہے، جہاں خواتین کو عزت، استحکام اور خاندان کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ اب انہی خواتین کو ایک ایسی جنگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے جو تباہی اور خونریزی کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ پاکستانی حکام کے مطابق متعدد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں نوجوان خواتین یا تو انتہا پسند نظریات کے زیرِ اثر آئیں یا پھر بعد ازاں انکشاف ہوا کہ انہیں ذہنی دباؤ، بلیک میلنگ یا جھوٹے وعدوں کے ذریعے اس راستے پر دھکیلا گیا۔
اس سلسلے کا سب سے نمایاں واقعہ اپریل 2022 میں پیش آیا جب دو بچوں کی ماں اور سائنس کی استاد شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ میں خودکش حملہ کیا۔ اس دھماکے میں تین چینی اساتذہ اور ایک پاکستانی ڈرائیور جاں بحق ہوئے۔ بلوچ لبریشن آرمی نے اسے اپنی پہلی خاتون خودکش کارروائی قرار دیا۔ اس واقعے نے پورے ملک کو حیرت میں ڈال دیا اور یہ سوال پیدا کیا کہ آخر تعلیم یافتہ اور بظاہر مستحکم پس منظر رکھنے والی خواتین اس قدر خطرناک انتہا پسندی کا شکار کیسے ہو جاتی ہیں۔
اس کے بعد اسی نوعیت کے واقعات کا سلسلہ جاری رہا۔ جون 2023 میں سمیعہ قلندرانی بلوچ نے تربت میں ایک فوجی قافلے پر حملہ کیا۔ بعد ازاں ماہل بلوچ سمیت دیگر خواتین بھی مختلف کارروائیوں میں شریک رہیں۔ 2026 کے آغاز تک یہ رجحان مزید شدت اختیار کر گیا۔ جنوری اور فروری میں بلوچستان بھر میں ہونے والے مربوط حملوں میں خواتین کا کردار نمایاں رہا۔ آصفہ مینگل، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی اکیسویں سالگرہ کے دن تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی، سکیورٹی تنصیبات پر حملوں میں شامل رہی۔ ہوا بلوچ کو بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا گیا جہاں وہ گوادر میں فورسز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اسی طرح زریں رفیق نے نومبر 2025 میں نوکنڈی میں نیم فوجی ہیڈکوارٹر پر بارود سے بھری گاڑی چڑھا دی اور یوں وہ مختصر عرصے میں سامنے آنے والی متعدد خاتون خودکش حملہ آوروں میں شامل ہو گئی۔
تاہم ان واقعات کا سب سے تاریک پہلو ان خواتین کے اعترافات ہیں جو اپنی کارروائیاں مکمل کرنے سے پہلے گرفتار ہو گئیں۔ مثال کے طور پر سابقہ ہیلتھ ورکر عدیلہ بلوچ نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اسے تنظیم کے کارندوں نے مسلسل نفسیاتی دباؤ اور جبر کا نشانہ بنایا۔ دیگر خواتین نے بھی اعتراف کیا کہ انہیں مزاحمت اور آزادی کے دلکش نعروں کے ذریعے راغب کیا گیا، مگر بعد میں وہ ایسے جال میں پھنس گئیں جہاں واپسی کا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ پاکستانی حکام کے مطابق اگرچہ بعض افراد نظریاتی وابستگی رکھتے ہیں، لیکن ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جس کی معاشی مشکلات، خاندانی دباؤ اور سماجی محرومیاں ان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کی جاتی ہیں۔
اسلام کی تعلیمات اس طرزِ عمل کی صریح نفی کرتی ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے جنگ کے دوران بھی عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جب ایک مقتولہ عورت دیکھی گئی تو آپ ﷺ نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو ممنوع قرار دیا۔ ایسے میں یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ جو لوگ خود کو مسلمان کہتے ہیں، وہ اپنی ہی بیٹیوں اور بہنوں کو خودکش حملوں کی آگ میں جھونکنے کا جواز کیسے پیدا کرتے ہیں؟ قرآنِ مجید واضح حکم دیتا ہے: ”اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے” (النساء: 29) اور ”اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو” (البقرہ: 195)۔ یہ قرآنی اور نبوی تعلیمات دہشت گردوں کی اس حکمتِ عملی پر ایک واضح اور دوٹوک ردِ عمل ہیں۔
خواتین کو خودکش حملہ آوروں کے طور پر استعمال کرنے کی یہ روش عالمی سطح پر بھی شدید تشویش کا باعث بنی ہے۔ یورپی یونین اور متعدد مغربی ممالک نے پاکستان کے اس حق کی حمایت کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر اقدامات کرے۔ مختلف بین الاقوامی فورمز پر ان حملوں کی مذمت کی گئی ہے اور ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جو تشدد اور عدم استحکام کو فروغ دیتے ہیں۔ عالمی برادری اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں، خصوصاً بلوچستان کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت کے پیشِ نظر۔
اگرچہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو پذیرائی مل رہی ہے، تاہم بیرونی سرپرستی کے الزامات بھی مسلسل زیرِ بحث رہتے ہیں۔ پاکستانی حکام طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ بھارت اور بعض دیگر عناصر پسِ پردہ ایسے گروہوں کی معاونت کرتے ہیں جو بلوچستان میں بدامنی کو ہوا دیتے اور ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نئی دہلی ان الزامات کو مسترد کرتا ہے، مگر انٹیلی جنس رپورٹس اور ماضی کے بعض واقعات کی روشنی میں یہ معاملہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بدستور ایک حساس موضوع بنا ہوا ہے۔
اس تمام کشمکش کا سب سے دردناک پہلو انسانی المیہ ہے۔ بلوچستان کی وہ خواتین جو جبر کا شکار ہوئیں یا اپنی مرضی سے اس راستے پر چل پڑیں، ایک ایسی اجتماعی سانحے کی علامت ہیں جو میدانِ جنگ سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ گرفتار ہونے والی متعدد خواتین بعد ازاں اپنے فیصلوں پر ندامت کا اظہار کرتی ہیں، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی اکثر انہی لوگوں کو نشانہ بناتی ہے جو سب سے زیادہ کمزور اور بے سہارا ہوتے ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی ادارے ایک طرف دہشت گرد خطرات کا مقابلہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف گمراہ ہونے والوں کی بحالی پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔
بلوچستان میں خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی یہ خطرناک حکمتِ عملی اس امر کی یاد دہانی ہے کہ شورش پسند عناصر افراتفری کو زندہ رکھنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام امن، استحکام اور خوشحالی کے مستحق ہیں، نہ کہ ایسی جنگ کے ایندھن بننے کے جو ان کی بیٹیوں اور بہنوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ پاکستان کا عزم، جسے عالمی حمایت اور عدل و رحمت پر مبنی اسلامی اصولوں کی پشت پناہی حاصل ہے، اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب دہشت گرد عناصر کا قلع قمع کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی محرومیوں کا ازالہ ترقی، تعلیم، روزگار اور بامعنی مکالمے کے ذریعے بھی کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تشدد کے اس نہ ختم ہونے والے چکر کو توڑ سکتا ہے اور بلوچستان کو ایک پرامن اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button