لاہور ( بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) جامعہ پنجاب کی انتظامیہ اور جمعیت طلباء اسلام میں گزشتہ روز ایک بار پھر محاذ آرائی سامنے آئی ۔ جمعیت نے یونیورسٹی میں گرینڈ افطار ڈنر کا اہتمام کر رکھا تھا جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے کھانے پینے کا ساما ن اندر لانے اور افطار ڈنر کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے ہنگامی آرائی شروع ہوئی اور پولیس کو بلانا پڑ ا۔
جمعیت کا کہنا تھا کہ ایک افطاری روکنے کیلئے پنجاب یونیورسٹی کے تمام گیٹس پر ڈنڈا بردار گارڈز فورس لگادی گئی جنہوں نے طلبہ پر تشدد بھی کیا۔گارڈز نے ڈنڈے سوٹوں کیساتھ یونیورسٹی میں خوف و ہراس پھیلایا۔ترجمان جمعیت کے مطابق ڈی جی کیمپس اور سی ایس او نے طلبہ پر لاٹھی چارج کا حکم دیا جس کے بعد ہمارے سٹوڈنٹس پر تشدد کیا گیا ۔
پولیس نے طلبہ پر تشدد کرنے سے انکارکیا تو یونیورسٹی نے اپنے گارڈزکو ڈنڈے تھمادئے ۔جمعیت نے دھمکی دی کہ اگر ایک گھنٹے کے اندرڈی جی کیمپس اور سی ایس او کااستعفی نہ آیا تو پورالاہور بند کرینگے تاہم بعد ازاں جمعیت اپنا افطار ڈنر کروانے میں کامیاب ہو گئی ۔ پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا اسلامی جمعیت طلباء نے انتظامیہ سے گرینڈ افطار ڈنر کی اجازت نہیں لی۔ افطار کی آڑ میں کسی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ملکی حالات کے پیش نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے جمعیت کو افطاری کی اجازت نہیں دی۔ طلبا نے کیٹرنگ کا سامان اندر لانے کے لئے یونیورسٹی گیٹ کا تالہ توڑا اور ڈنڈا بردار کارکنوں نے گیٹ پر گارڈ کو زخمی بھی کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس کو واقعہ کی اطلاع دی۔ واقعہ میں ملوث طلباء کے خلاف ڈسپلنری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پنجاب یونیورسٹی میں حالات پر امن رہے اور تمام گیٹ بھی کھلے رہے جبکہ ہاسٹل گیٹ اور مولانا شوکت علی روڈ گیٹ کو سکیورٹی صورتحال کے باعث کچھ دیر کے لئے بند کیا گیا۔



