امن، خوشحالی: وزیراعظم، ولی عہد کا ملکر کام کرنے پر اتفاق
شہزادہ محمد بن سلمان کا سعودیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کا اعتراف، عوامی روابط، ثقافتی تبادلے اور تعلیمی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور، شراکت داری نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا بھی اعادہ
جدہ، اسلام آباد ( ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے اقتصادی تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنے مشترکہ وژن کو فروغ دینے کے لئے ہر سطح پر مل کر کام کرنی پر اتفاق کیا ہے
رہنمائوں کا اقتصادی تعاون پر اظہار اطمینان، تجارتی، توانائی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق: باہمی تعلقات کے فروغ پر تعمیری گفتگو ہوئی، مشرق وسطیٰ اور یوکرین میں امن کیلئے سعودی کردار قابل ستائش ہے، شہباز شریف
پی ایم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی، اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھے۔ ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اور تاریخی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا اور اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے سعودی عرب کے عزم کو سراہا جو پاکستان کی اقتصادی ترقی اور استحکام میں معاون ثابت ہوگا۔ فریقین نے علاقائی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے ابھرتی علاقائی صورتحال کے ساتھ ساتھ خطے کے سیاسی منظر نامے پر بھی بات چیت کی۔ انہوں نے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنے مشترکہ وژن کو فروغ دینے کی لیے ہر سطح پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ سعودی ولی عہد نے سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کی نمایاں خدمات کا اعتراف کیا اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنمائوں نے عوام کے درمیان روابط، ثقافتی تبادلے اور تعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم اور ولی عہد نے باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور ترقی و خوشحالی کے مشترکہ وژن کی رہنمائی میں پاکستان اور سعودی عرب کی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مزید برآں ملاقات کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق بھی وزیر اعظم شہباز شریف اور شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر گفتگو کی گئی جبکہ پاک سعودی سرمایہ کاری اور تجارتی امور پر بات چیت ہوئی۔
ملاقات میں آرمی چیف بھی موجود رہے: سعودی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ، توانائی، انفرسٹرکچر، زراعت اور ٹیکنالوجی میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت کاروباری مواقع سے استفادے کی دعوت
وزیراعظم اور ولی عہد نے پاک، سعودی مضبوط اور تاریخی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا جبکہ ملاقات میں اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم نے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے سعودی عرب کے عزم کو سراہا جبکہ دونوں رہنمائوں نے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ جبکہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد سے ملاقات میں باہمی تعاون کے فروغ کے لئے تعمیری گفتگو ہوئی، مشرق وسطیٰ اور یوکرین میں امن کے لئے سعودی عرب کا کردار قابل ستائش ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ سعودی ولی عہد سے ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری ، توانائی اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے پاکستان سے مسلسل تعاون پر ولی عہد کے شکر گزار ہیں۔ ہماری پائیدار دوستی اور خوشحالی کے لئے مشترکہ وژن کی بدولت باہمی تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور مضبوط دوطرفہ تعلقات باہمی اقتصادی شراکت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ مزید برآں وزیر اعظم نے سعودی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے توانائی، انفرسٹرکچر ، زراعت اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت کاروباری مواقع سے استفادہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ وزیراعظم سے سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح اور جوائنٹ ٹاسک فورس برائے اقتصادی مصروفیات کے سربراہ محمد التویجری نے ملاقات کی۔ ملاقات میں اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے، پاکستان میں مزید سعودی سرمایہ کاری لانے اور اہم شعبوں میں مشترکہ اقدامات کو تیز کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی سٹریٹیجک پوزیشن اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو اجاگر کیا۔
سعودی وزیر خالد الفالح اور ٹاسک فورس کے سربراہ محمد التویجری نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں سعودی عرب کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے منصوبوں کو تیز کرنے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے ادارہ جاتی تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے باقاعدہ اور منظم رابطوں اور مشترکہ منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد کے ذریعے پاکستان سعودی اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں طویل مدتی اور باہمی طور پر مفید اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے دونوں ممالک کے عزم پر زور دیا گیا۔ مزید برآں وزیراعظم کی مدینہ منورہ آمد پر گورنر مدینہ شہزادہ سلمان بن سلطان نے وزیر اعظم کا ایئر پورٹ پر استقبال کیا۔
شہباز شریف مدینہ منورہ میں روضہ رسولؐ کی زیارت کریں گے، مسجد نبویؐ میں عبادات اور نوافل ادا کریں گے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کریں گے۔ مزید برآں وزیراعظم نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بدلتے موسموں اور بڑھتے ہوئے اوسط درجہ حراست کی وجہ سے 10000سے زائد گلیشیئر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، نتیجتاً سیلاب اور خشک سالی کی بدولت دریائوں، زراعت اور ان سے جڑے لاکھوں لوگوں کے روزگار کو خطرات لاحق ہیں، سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک کے طور پر پاکستان کو گلیشیئرز کی مانیٹرنگ کے پروگرام، قبل از وقت پیشگوئی کے نظام، ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے محفوظ زرعی طریقوں کو اپنانے اور پانی ذخیرہ کرنے کے متبادل حل میں سرمایہ کاری کے لیے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ گلیشیئرز کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ گلیشیئرز کرہ ارض پر زندگی کی ضمانت ہیں جو ماحولیاتی نظام کو قدرتی انداز سے برقرار رکھتے ہیں اور اہم قدرتی وسائل بالخصوص صاف پانی کی فراہمی یقینی بناتے ہیں۔ 2025ء میں ہم دنیا کا پہلا گلیشیئرز کا دن منا رہے ہیں، آج کے دن ہم صاف پانی کے ان اہم ذخائر کی حفاظت کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 13000سے زائد گلیشیئر موجود ہیں، یہ تعداد زمین کے قطبی خطوں کے بعد کسی بھی جگہ گلیشیئرز کی پائی جانے والی سب سے زیادہ تعداد ہے، پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کی صف اول میں کھڑا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 2022ء کے سیلاب نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے شدید خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی سطح پر مشترکہ ماحولیاتی سیاحت کے رہنما خطوط کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے جو زہریلے مادوں اور آلودگی کو ان قیمتی اثاثوں کو تباہ کرنے سے روکے، آئیے ہم سب مل کر گلیشیئرز کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات اٹھائیں، کیونکہ اگر گلیشیئرز ختم ہو گئے تو ان سے منسلک زندگیاں بھی تباہ ہونے کا خطرہ ہے۔



