پاکستانتازہ ترینکالم

پولیس کے نیک نیت افسران

اسد مرزا

لاہور پولیس میں ایماندار افسروں کی تعیناتی کے بعد محکمہ میں انصاف کی فراہمی ارزاں ہوگئی ہے، بلکہ بہت سے اہلکار ملزموں کو انصاف انہی کے گھر کی دہلیز پر دے رہے ہیں ،مگر چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی فرسودہ نظام کی طرح ہے کہ کوئی شکایت آجائے تو فوری ایکشن ،ورنہ دفاتر میں آرام کریں۔ لاہور میں ٹریفک وارڈن اجمل نے رکشہ ڈرائیور وسیم اقبال کو پکڑا اور چالان کرنے کی بجائے اسے پولیس اسٹیشن اچھرہ بند کرواکے مقدمہ 1319/25 درج کرواکے روانہ ہو گیا تاہم پولیس اہلکاروں نے رکشہ ڈرائیور کیساتھ ہونیوالی زیادتی کا ازالہ کیا، انہوں نے وسیم اقبال کو سی آر او کرکے گھر بھیج دیا اوراگلے دن دوبارہ تھانے آنے کیلئے کہا، اگلے روز اِس رکشہ ڈرائیور سے کاغذات پر دستخط کرائے، تب اِسے معلوم پڑا کہ پولیس نے بغیر اِس کے پیش ہوئے ، ہی اِس کی ضمانت کرادی ہے۔ اگرچہ یہ واقعہ ناقابل یقین ہے لیکن ایسا ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی خصوصی ہدایات پر سادہ پوشاک میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ،اِس شعبے کا سربراہ پروفیشنل اور کرائم فائٹر پولیس افسر سہیل ظفرچٹھہ کو تعینات کیاگیا ہے،اور _ سہیل ظفرچٹھہ نے اِس شعبے کی کامیابی کیلئے اپنی ٹیم کے منجھے ہوئے افسران کو شامل کیا ، یہ وہی افسران ہیں جو پنجاب میں اہم عہدوں پر تعینات تھے لیکن وہاں شائد اپنی کارکردگی سے مطمئن نہ کرسکے، پس انہیں سی سی ڈی میں بھیج دیاگیا ہے ، اگرچہ یہ پولیس افسران اور جوان اپنے کام کے لحاظ سے تو منجھے ہوئے ہیں مگر آج کے مجرم اُن سے زیادہ ’’ایڈوانس‘‘ اور زیادہ تیز چل رہی ہے ، پس یہی وجہ ہے کہ پولیس کے پاس زیادہ جدید ہتھیار اور ساز و سامان موجود ہونے کے باوجود پولیس ’’ایڈوانس مجرموں ‘‘سے چند قدم پیچھے ہے، پھر رہی سہی کسر فِلموں نے پوری کر دی ہوئی ہے جس میں نت نئے منصوبے اور آپریشن مجرموں کو واردات کے جدید طریقے سیکھنے کا موقعہ فراہم کرتے ہیں لہٰذا وہ مجرم محکمہ پولیس کیلئے ’’درد ِ سر‘‘بن جاتے ہیں۔
پنجاب پولیس نے ابھی تک وہی پرانا سکرپٹ اپنا رکھا ہے کہ ملزم کو برآمدگی یا شناخت کیلئے لیجارہے تھے، اسی دوران وہ اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ماراگیا، جو اِس کو پولیس سے چھڑانے کیلئے آئے تھے، جبکہ ملزمان انگلش اور دوسری ویب سیریز سے ’’استفادہ‘‘ کرتے ہوئے آگے چل رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب بھی حقیقت میں پولیس کا مجرموں سے سامنا ہوتا ہے، دونوں جانب سے مارے جانیوالوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہوتا اور ایسے واقعات کے بعد پولیس افسران کے اعادے اور ملزموں کو ’’انصاف‘‘ دینے کیلئے پولیس کی بڑی بڑی ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے پریشانی چہرے سے عیاں ہوتی ہے۔
سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے لاہور میں ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا تو انہیں عمارت اور آئی ٹی سنٹر کے بارے میں بریفنگ دی گئی ، جس پر وہ سابق سربراہ عمران کشور اور انکی ٹیم کی تعریف کئے بغیر رہ نہ سکے،یہاں انہوں نے افسران و ملازمین کو مختلف ہدایات دیں جن میں ایک یہ بھی تھی کہ افسران و ماتحت وردی صرف ریڈ کے دوران پہنیں ، لیکن عدالت میں پیش ہونے پر سفاری سوٹ، پینٹ شرٹ ٹائی یا شلوار قمیص اور ویسکوٹ پہنیں ۔
دوسری طرف آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو رپورٹ دی گئی ہے کہ گزشتہ دو سال میں آرگنائز کرائم یونٹ نے ڈکیتی و چوری کے متاثرین کو 15 ارب سے زائد ریکوری دی ہے جس پر آئی جی پولیس پنجاب حیران رہ گئے۔اب پولیس افسران کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جہاں محکمہ میں افسران و ماتحتوں کو ترقیاں دیں اور نئے شعبہ سی سی ڈی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، اب پولیس افسران اور اہلکاروں کو روایتی تربیت سے ہَٹ کر دورِ حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت، جدید ہتھیار اورٹیکنالوجی فراہم کریں تاکہ آپریشن کے دوران زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جائیں اور پولیس کا کم سے کم جانی نقصان ہو۔ اور اگر تربیت، ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں کے سہارے ہی دور حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کی گئی تو نہ ہی مطلوبہ نتائج ملیں گے اور نہ ہی کرائم کنٹرول ہوگا بلکہ پولیس اہلکاروں کے جانی نقصان کا خطرہ زیادہ ہوگا۔ کیونکہ ساری دُنیا میں آؤٹ سورسنگ کی جاتی ہے، اگر محکمے کے اندرجدید تربیت دینے والوں کی خدمات حاصل کرلی جائیں تو بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
سی ٹی او لاہور ڈی آئی جی اطہر وحید انتہائی دلیر اور بااصول پولیس افسر ہیں، ڈی آئی جی اطہر وحید لاہور میں ٹریفک کے مسائل پیدا کرنے والے افراد ، تاجروں اور دکانداروں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اب قانون نے اپنا راستہ بنا لیاہے کیونکہ اب لاہور میں ٹریفک کے مسائل 70فیصد حل ہو گئے ہیں، ڈی آئی جی اطہر وحید ٹریفک وارڈنز کے مسائل حل کرنے کے ساتھ عوام کے مسائل دیکھنے کیلئے اکثر راتوں کو عام لباس میں شہرکا دورہ کرتے ہیں، گزشتہ دنوں داتا دربار کے علاقے میں ٹریک سوٹ پہنے وہ دکانداروں سے ٹریفک کے مسائل سن رہے تھے، جبکہ ان کے ٹریفک پولیس افسران اُن کی موجودگی سے لاعلم تھے، انہوں نے تفصیل سے تاجروں کے مسائل سنے اور پھر اپنے افسران کو موقع پر بلاکر ان مسائل کو حل کرنے کی ہدایت کی۔یوں برملا کہا جاسکتا ہے کہ ایسے افسران نیک نیت اور جہاں بھی جائیں اپنے محکمے کا جھومر ہوتے ہیں۔
موضوع سے ہٹ کر چند سال پہلے کا ایک سچا واقعہ قارئین کی نذر !
لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں تعینات میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا اپنی بیگم سے زبردست جھگڑا ہوا، ایم ایس غصے میں گھر چھوڑکر اپنے ہسپتال آگئے، باوجود کوشش کے، جب نیند نہ آئی تو عملے کو طلب کرکے درمیانی شب ہسپتال کا سرپرائز وزٹ شروع کردیا، اسی دوران اُس وقت کے وزیراعلیٰ بھی سرپرائز وزٹ کیلئے پہنچے تو ایم ایس کو وہاں موجود پاکر بہت خوش ہوئے ، بیوی سے جھگڑا کرکے قیام کی غرض سے ہسپتال پہنچے ایم ایس نے بتایا کہ ’’یہ تو ان کا معمول ہے ‘‘جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب ایم ایس کی تعریفوں کے پُل باندھتے واپس چلے گئے، پھر جب بھی محکمہ صحت کی میٹنگ ہوتی اُس ایم ایس کا ہمیشہ تعریفی الفاظ کے ساتھ ذکر ہوتا۔ یوں یہ کہاوت سچ ثابت ہوئی کہ ’’ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button