پہلگام واقعے کے بعد جنوبی ایشیا کی دو بڑی ایٹمی قوتیں پاکستان اور بھارت جنگ کے لیے آمنے سامنے ہیں اور دونوں اطراف سے تیز بیانات جاری ہیں ۔پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔حملے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بھارت نے ابتدائی طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا جبکہ پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا بند اور بھارت میں موجود پاکستانی شہریوں سے ملک سے چلے جانے کے لیے کہا گیا تھا جبکہ گزشتہ روز بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک بند کمرے کے اجلاس میں فوج اور سیکورٹی کے سربراہوں سے کہا کہ مسلح افواج کو مقبوضہ کشمیر میں شہریوں پر حملے کے بارے میں ہمارے ردعمل کے موڈ، اہداف اور وقت کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مکمل آپریشنل آزادی ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ مستند انٹیلیجنس اطلاعات ہیں کہ بھارت پہلگام واقعہ سے جڑے بےبنیاد اور خودساختہ الزامات کو بنیاد بنا کر 24 سے 36 گھنٹے میں پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال پر سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو پاکستان اور بھارت کے ہم منصبوں سے بات کریں گے۔
پہلگام واقعے کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اہم پریس بریفنگ میں کہا کہ پہلگام واقعے کو 7 دن ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک الزامات کے کوئی ثبوت نہیں پیش کیےگئے، سات دن میں وہاں صرف زبانی جمع خرچ چل رہا ہے، ہم آپ کے سامنے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے مکمل ثبوت پیش کر رہے ہیں،25 اپریل کو بھارتی تربیت یافتہ دہشت گرد عبدالمجیدکو جہلم کے قریب سے پکڑا گیا، اس کےگھر سے انڈین ساختہ ڈرون اور دس لاکھ روپے برآمد ہوئے، اس دہشت گردکا ہینڈلر بھارت کا ایک فوجی ہے، اس ہینڈلر کی گرفتار ہونے والے دہشت گرد سےگفتگو بھی سامنے آئی ہے۔
دہشت گردکے موبائل فون سے بھارت میں ہوئی بات چیت پکڑی گئی، اس کمیونی کیشن میں چار بھارتی آرمی افسران کی نشاندہی کی گئی ہے‘ ان بھارتی فوجی افسران میں میجر سندیپ ورما،صوبیدار سکھویندر، حوالدار امیت اور ایک سپاہی شامل ہے، بھارتی ہینڈلر ان دہشت گردوں سے کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں شہریوں کی لاشیں چاہئیں‘پاکستان میں کارروائی کرو تاکہ دنیا کو بتایا جائے کہ یہاں دہشت گردی ہے، بھارتی ہینڈلرز دہشت گردوں کو بم بنانے کے طریقے پر مشتمل ویڈیوز بھیجتے ہیں۔
کمیونی کیشن میں میجر سندیپ نے اعتراف کیا ہےکہ وہ بلوچستان سے لاہور تک دہشت گردی کر رہے ہیں۔ ستمبر 24 کو سکھویندر نے برنالہ بھمبر میں بارودی مواد کی نشاندہی کی، دہشت گرد عبدالمجید نے برنالہ بھمبر سے بارودی مواد حاصل کیا، 13 اکتوبر کو دہشت گرد نے ضلع باغ میں فوجی گاڑی پر بم حملہ کیا، حملے میں فوج کے تین جوان زخمی ہوئے، اس بم حملے کے لیے دہشت گردکو بھارتی ہینڈلر نے 1لاکھ 80 ہزار روپے دیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 22 نومبر کو سکھویندر نے بم کے حصول کے لیے مجید کو ہیڈ مرالہ کے قریب جگہ کی نشاندہی کی‘دہشت گرد نے اس جگہ سے تباہ شدہ ڈرون اور آئی ای ڈی حاصل کی، 30 نومبر کو عبدالمجید نے جلالپور جٹاں میں آئی ای ڈی فوجی گاڑی پر لگائی جس سے 4 جوان زخمی ہوئے، دہشت گرد نے ٹاسک مکمل ہونے پر 6 لاکھ 56 ہزار روپے حاصل کیے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ میجر سکھویندر نے 18 مارچ کو کوٹلی کے قریب آئی ای ڈی کی لوکیشن فراہم کی، 19مارچ کو کوٹلی کے قریب اس مشکوک بیگ کی اسکول کے بچوں نے نشاندہی کی۔
آرمی یونٹ نے کوٹلی کے قریب مشکوک بیگ سے بم برآمد کیا،کوٹلی میں بم کی برآمدگی پر بھارتی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں 5 بم برآمد ہونےکا جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ 22اپریل 2025 کو سکھویندر نے ندالہ کے قریب آئی ای ڈی کی ڈیلیوری کی، 23 اپریل کو سکھویندر نے دہشت گردکو بس اسٹینڈ پر بم حملےکا ٹاسک دیا۔بھارتی حکومت اپنی فوج سے یہ کام کروارہی ہے جس میں حاضر سروس فوجیوں دہشتگردی کا کام لیا جارہا ہے۔
ادھر سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھمبر کے علاقے مناور سیکٹر میں دشمن نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے جاسوسی کی کوشش کی تاہم پاک فوج نے بھارتی کواڈ کاپٹر کی ایل او سی پر فضائی حدود کی خلاف ورزی ناکام بناتے ہوئے سے مار گرایا جبکہ مودی حکومت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کے خلاف پر مہم جوئی سے انکار کرنے والے بھارتی لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سچندر کمار کو کمانڈر ناردرن کمانڈ کے عہدے سے فارغ کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق انہیں پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا تھا تاہم جنرل ایم وی ایس کمار نے ایسا نہیں کیا ۔ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل پراتک شرما کو تعینات کرنے کا حکم جاری کیا، جو یکم مئی کو انڈین آرمی کی ناردرن کمانڈ کا چارج سنبھالیں گے مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ سیکٹر میں برہمن فوج کی دو یونٹوں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں پانچ سکھ فوجی ہلاک ہو گئے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارتی فوج میں پائی جانے والی بوکھلاہٹ کی جانب واضح اشارہ ہے۔لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار کی طرف سے انکار پر مودی سرکار کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔بھارت کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل پراتک شرما نےسومنات ہال سری نگر میں آرمی آفیسرز اور جوانوں سے ملاقات میں بھارتی فوج کے آفیسروں اور جوانوں کو مطمئن نہیں کرسکےبھارتی آرمی آفیسر نے آگاہ کیا کہ جموں کشمیر کے مسلمانوں میں پہلگام واقع کے بعد بھارتی فوج اور حکومت کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہےجبکہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ سیکٹر میں برہمن فوج کی دو یونٹوں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں پانچ سکھ فوجی ہلاک ہو گئے۔
یہ واقعہ 25 اور 26 اپریل کی درمیانی شب لائن آف کنٹرول کے قریب جاپالہ بریج کے مقام پر پیش آیا،بارہ مولا میں تعینات 185 بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے 12 بریگیڈ کی 13 سکھ لائٹ انفنٹری رجمنٹ پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچ سکھ اہلکار کی موت واقع ہو گئی،اس واقعے کے بعد 13 سکھ لائٹ انفینٹری کے سکھ جوانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں، ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات ہو چکے ہیں۔پاکستان کے سیکورٹی فورسز نے زیارت کے علاقے چو تیر اورتربت میں ٹارگٹڈ آپریشن کیا جس میں فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم کے 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور ان سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ، سکیورٹی ذرائع کے مطابق تربت میں 3 اور زیارت کے علاقے چوتیر میں 7دہشتگرد مارے گئے ، کان کنوں کو شہید کرنے سمیت متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔
پہلگام واقعے کے بعد بھارتی جارحانہ عزائم واضح ہیں اور اوربھارت پہلگام فالس واقعے کو وجہ بنا کر کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔جنگ ہمارے سروں پر کھڑی ہے ۔پوری قوم کو اس موقع پر متحد ہونا پڑے گا اور قوم کو پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا ۔جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بھارت کو اس بات کو سمجھنا ہو گا ورنہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ سے 3 ارب انسان لقمہ اجل بن جائینگے شاید جنگی جنون میں مبتلا بھارتی حکمران اس حقیقت سے آگاہ نہ ہوں ۔



