غزہ کی سرزمین آج ایک ایسی تصویر پیش کر رہی ہے جو دل دہلا دیتی ہے، تباہ شدہ گھر، بے گھر خاندان، اور ہزاروں لاشیں جو ملبے تلے دبی ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ، جو خصوصی رپورٹر فرانسیسکا البانیز نے تیار کی ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتی ہے عالمی کمپنیاں، جن میں امریکی ٹیکنالوجی دیو جیسے مائیکروسافٹ، ایمیزون اور گوگل شامل ہیں، اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور غزہ میں مبینہ نسل کشی کو سہارا دے رہی ہیں۔

یہ صورتحال تاریخی استعماری قبضوں سے ملتی جلتی ہے، جیسے کہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی اور ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ایشیا اور افریقہ میں زمینوں اور وسائل کی لوٹ مار کے ذریعے مقامی آبادیوں کو کچلا تھا۔ نومبر 2024 میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔
کیا ان کمپنیوں کے خلاف بھی قانونی کاروائیوں کا آغاز ہو سکتا ہے؟ آئیے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

غزہ آج ایک کھنڈر بن چکا ہے، جہاں زندگی مشکل سے سانس لے رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے 52,535 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا، جن میں 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔ 118,491 افراد زخمی ہوئے، اور 80 فیصد آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ گھر، اسکول، ہسپتال، اور زرعی زمینوں کا 70 فیصد حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔

ہزاروں لاشیں ملبے تلے دبی ہیں، جنہیں دفن کرنے کا موقع تک نہیں ملا۔ اسرائیل نے پانی، بجلی، ایندھن اور خوراک کی سپلائی بند کر دی، جس سے غزہ کی 2.1 ملین آبادی بھوک، بیماری اور موت کے منہ میں دھکیل دی گئی۔ مارچ 2025 سے ناکہ بندی اور سخت ہوئی، جس نے غزہ کو ایک ایسی جیل بنا دیا جہاں بنیادی ضروریات تک رسائی ناممکن ہے۔ رپورٹ اسے "نسل کشی” قرار دیتی ہے۔ یعنی ایک منظم منصوبہ جو فلسطینیوں کی زندگی کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

17ویں اور 18ویں صدی میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں تجارت کے نام پر مقامی آبادیوں کی زمینوں اور وسائل پر قبضہ کیا، جبکہ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے انڈونیشیا اور دیگر علاقوں میں اسی طرح کی لوٹ مار کی۔ ان کمپنیوں نے مقامی لوگوں کو غلام بنایا، ان کے وسائل چھینے، اور ان کی ثقافت کو کچلا۔
آج کے دور میں، مائیکروسافٹ، ایمیزون اور گوگل جیسی کمپنیاں اسی طرح کے کردار ادا کر رہی ہیں، جو اسرائیل کے قبضے کو ٹیکنالوجی اور مالیاتی مدد سے مضبوط کرتی ہیں۔ 30 جون 2025 کو پیش کی گئی رپورٹ، جس کا عنوان From Economy of Occupation to Economy of Genocide ہے، بتاتی ہے کہ یہ عالمی کمپنیاں غزہ کی تباہی میں براہ راست ملوث ہیں۔

فرانسیسکا البانیز کہتی ہیں، "غزہ میں زندگی ختم ہو رہی ہے، اور یہ سب اس لیے جاری ہے کیونکہ کچھ لوگوں کے لیے یہ منافع کا ذریعہ ہے۔” اکتوبر 2023 میں اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے "مکمل محاصرے” کے حکم نے غزہ کو زندہ دفن کر دیا۔ اسلحہ، ٹیکنالوجی، تعمیرات، رئیل اسٹیٹ، توانائی، زراعت، سیاحت، اور مالیاتی شعبوں کی کمپنیاں اس قبضے کو مضبوط کرتی ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ اقوام متحدہ کے رہنما اصول برائے کاروبار و انسانی حقوق (UNGPs) کمپنیوں سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بچیں، ورنہ انہیں قانونی نتائج بھگتنا ہوں گے۔

رپورٹ 48 کمپنیوں کی فہرست دیتی ہے جو اسرائیل کے اقدامات سے منسلک ہیں۔ یہ کمپنیاں نہ صرف منافع کما رہی ہیں بلکہ فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ، ایمیزون، اور گوگل کا پروجیکٹ نمبس اسرائیل کی فوجی نگرانی اور ڈیٹا تجزیہ کو طاقت دیتا ہے۔
آئی بی ایم فلسطینیوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کے لیے ڈیٹابیس چلاتا ہے۔ این ایس او گروپ کا پیگاسس اسپائی ویئر فلسطینی کارکنوں کو نشانہ بناتا ہے۔ لاک ہیڈ مارٹن ایف-35 طیارے بناتا ہے، جو غزہ پر حملوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ کیٹرپلر، ایچ ڈی ہنڈائی، اور وولو گروپ کا سامان فلسطینی گھروں اور 81 فیصد زرعی زمینوں کی تباہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
کیلر ولیمز غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں جائیدادوں کی مارکیٹنگ کرتی ہے، جو فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرتی ہیں۔ جے پی مورگن چیس، وینگارڈ، اور بارکلیز اسرائیلی بانڈز کی مالی اعانت کرتے ہیں، جو قبضے کو مالی استحکام دیتے ہیں۔ یہ کمپنیاں فلسطینیوں کے دکھوں سے اربوں ڈالر کما رہی ہیں اور رپورٹ انہیں "نسل کشی کی معیشت” کا حصہ قرار دیتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے برٹش اور ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنیوں نے استعماری دور میں مقامی آبادیوں کے استحصال سے منافع کمایا تھا۔
نومبر 2024 میں، آئی سی سی نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے نیتن یاہو اور یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔ ان پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں، جن میں بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا اور شہریوں پر حملے شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک مغربی حمایت یافتہ رہنما کو آئی سی سی نے ہدف بنایا۔
آئی سی سی کے 125 رکن ممالک، جیسے فرانس اور برطانیہ، کو ان کی گرفتاری کی ذمہ داری دی گئی ہے، لیکن ہنگری جیسے کچھ ممالک نے سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اس سے گریز کا عندیہ دیا۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی انصاف کی طرف ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کی کامیابی عالمی تعاون پر منحصر ہے۔
اقوام متحدہ کے رہنما اصول کہتے ہیں کہ ریاستیں اپنی کمپنیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکنے کی پابند ہیں۔ کمپنیوں کو اپنی سرگرمیوں کے اثرات کی جانچ کرنی چاہیے اور نقصان سے بچنا چاہیے۔ فلسطینیوں کو انصاف اور معاوضے کا حق حاصل ہے۔ 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیا، جس سے کمپنیوں پر دباؤ بڑھا کہ وہ اپنی سرگرمیاں بند کریں۔ اگر مائیکروسافٹ، ایمیزون یا گوگل جیسے ادارے اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے اسرائیل کی فوج کی مدد جاری رکھتے ہیں، تو ان کے ایگزیکٹوز کو آئی سی سی میں فوجداری مقدمات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ تجویز کرتی ہے کہ ریاستیں اسرائیل پر پابندیاں لگائیں اور اسلحہ کی فروخت بند کریں۔ کارپوریٹس کو غیر قانونی بستیوں سے متعلق کاروبار بند کرنا چاہیے اور متاثرین کو معاوضہ دینا چاہیے۔ عام لوگ بائیکاٹ، سرمایہ کاری واپسی، اور پابندیوں کی تحریک کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ ویولیا، جنرل ملز، اور ایڈیڈاس جیسی کمپنیوں نے عوامی دباؤ کے بعد اسرائیل سے اپنی سرگرمیاں واپس لیں، جو ثابت کرتا ہے کہ تبدیلی ممکن ہے، جیسے کہ ماضی میں استعماری کمپنیوں کے خلاف مزاحمت نے کامیابی حاصل کی تھی۔
تاہم، انصاف کی راہ آسان نہیں۔ بین الاقوامی قانون میں کمپنیوں کو براہ راست سزا دینے کے مضبوط نظام کی کمی ہے۔ امریکہ جیسے ممالک اپنی کمپنیوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ البانیز پر اسرائیل مخالف ہونے کے الزامات لگے، لیکن انسانی حقوق کے گروپ ان کی رپورٹ کی حمایت کرتے ہیں۔ غزہ کا المیہ صرف ایک جنگی کہانی نہیں، بلکہ انسانیت کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ مائیکروسافٹ، ایمیزون، گوگل اور دیگر کمپنیاں اپنے منافع کے لیے فلسطینیوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے استعماری دور میں کمپنیوں نے مقامی آبادیوں کا استحصال کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا بائیکاٹ اور احتجاج کے ذریعے ان کمپنیوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں بند کریں تو فرق تو پڑتا ہے ۔ اگر دنیا بھر کے ممالک اور عوام آواز اٹھائیں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ورنہ امریکہ اور اسرئیل تو فلسطینیوں کو غزہ سے بے،دخل کرنے کے در پےہیں۔



