پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

بپھری موجیں، انسانی غلطیاں اور قدرت کا انتقام

تحریر :عاطف عاری

قدرت سے چھیڑ خوانیاں حضرتِ انسان کا ہمیشہ سے وطیرہ رہی ہیں۔ دریا کے قدرتی بہاؤ کو روکنا، اس کی زمین پر قبضے کرنا، اور بے دریغ درختوں کی کٹائی جیسے اقدامات ہم نے ترقی کے نام پر کیے، لیکن شاید یہ بھول گئے کہ قدرت کا اپنا ایک نظام ہوتا ہے، جو وقت آنے پر اپنا حساب ضرور برابر کرتا ہے۔

پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے بدترین اثرات کی زد میں ہے۔ صرف گزشتہ دو ماہ کے دوران مون سون کی غیر معمولی بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے نے شمالی علاقہ جات کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے مطابق، 2025 کے مون سون سیزن میں اب تک سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ ہزاروں مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

شمالی علاقوں کے ساتھ ساتھ پنجاب، خصوصاً لاہور اور گرد و نواح کے علاقے بھی شدید خطرے میں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ وہ انسانی فیصلے ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں سے کیے جا رہے ہیں۔ دریائے راوی، جو ماضی میں لاہور کی شناخت کا حصہ ہوا کرتا تھا، اب ایک سوکھا نالہ بن چکا ہے۔ اس خشک ہوتی زمین کو موقع جان کر پراپرٹی ڈویلپرز نے اونے پونے داموں خرید کر ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم کر لیں۔

صرف لاہور کے گرد و نواح میں راوی کی زمین پر 15 سے زائد ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم کی گئیں جنہوں نے اربوں روپے کمائے۔
ان منصوبوں کی بنیاد ایک مفروضے پر رکھی گئی کہ بھارت کی طرف سے ڈیمز کی تعمیر کے بعد راوی کبھی اپنے کناروں سے باہر نہیں آئے گا۔ لیکن قدرت اور سیاست دونوں غیر متوقع ہوتے ہیں۔

اس وقت بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع کے پانی چھوڑا گیا ہے، جسے "آبی دہشت گردی” کا نام دیا جاتا ہے۔ بھارتی پنجاب میں واقع بھاکڑا اور پونگ ڈیم مسلسل بارشوں سے لبریز ہو چکے ہیں، جس کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر دریاؤں میں پانی چھوڑ دیا۔ اس اچانک آنے والی طغیانی نے راوی کو 1988 کے بعد کی بدترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

لاہور کو بچانے کے لیے حاجی کوٹ کے مقام پر حفاظتی بند توڑنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ بند ٹوٹا، تو پانی کا رخ کس طرف ہوگا، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ البتہ شاہدرہ، کوٹ خواجہ سعید، اور بیگم کوٹ سمیت کئی علاقے خطرے کی زد میں آ چکے ہیں۔

ریسکیو 1122 اور ضلعی حکومت کی جانب سے سوسائٹیوں کو الرٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔ سن برگ، الزہرہ، اور مدینہ گارڈن جیسی نئی سوسائٹیاں پانی کی زد میں آنے کے خدشے کے تحت ممکنہ انخلاء کے لیے تیار رہنے کو کہا جا چکا ہے۔

یہ صرف ایک وقتی بحران نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے۔ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ماحولیاتی توازن کے بگاڑ کو اب بھی سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آئندہ آنے والی نسلیں ہماری غلطیوں کی قیمت چکاتی رہیں گی۔

فی الحال یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا کرم فرمائے اور اس قدرتی آفت سے ہمیں محفوظ رکھے۔ لیکن اس کے بعد ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ہم نے مستقبل میں راوی سے کیا سلوک کرنا ہے صرف زمین بیچنی ہے، یا اس کی بقا کے لیے سنجیدہ فیصلے کرنے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button