لاہور:(رپورٹ/اسد مرزا)بالاج ٹیپو قتل کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے گوگی بٹ کو گناہ گار قراردینے کے بعد اہم پیشرفت سامنے آئی ہیں۔
جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ امیربالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ سے رابطہ میں رہا،گوگی بٹ ٹیپو خاندان کے تمام سابقہ قتل کیس میں بھی نامزد ملزم رہا ہے، جے آئی ٹی آئندہ پیشی پر گوگی بٹ کی ضمانت خارج کروانے کی استدعا کرے گی دوسری جانب لاہور کی فضا میں ایک بار پھر شرطیں لگ رہی ہیں، لیکن یہ شرطیں کسی کرکٹ میچ یا گھڑ دوڑ پر نہیں بلکہ عدالت کے در و دیوار پر لگی ہیں۔ جواریوں نے تاش کے پتوں اور بدمعاشوں نے پسٹل کے بٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا ہے "گوگی بٹ کی ضمانت کنفرم ہو گی یا نہیں؟”۔
یہ ہے نیا پاکستان کا اصل جوا، جہاں قاتلوں کی ضمانتیں اور مجرموں کی عزتیں، عوامی دلچسپی کے سب سے بڑے کھیل میں بدل چکی ہیں۔ لیکن اس بار لاہور پولیس کی جے آئی ٹی نے کمال کر دکھایا گوگی بٹ اور اس کے یار طیفی بٹ کے خواب و خیال میں بھی یہ نہیں تھا کہ کبھی کوئی سرکاری ٹیم ان کے آگے ڈٹ جائے گی۔
بڑے بڑے نوٹوں کے ٹرک ایمانداری کے قلعے کے سامنے الٹا دیئے گئے لیکن لاہور پولیس کا کمانڈر وہ نکلا جسے بلیک منی کا رنگ بھی اندھا نہیں کر سکا۔ نتیجہ یہ کہ بدمعاشوں کا منڈیٹ اور سفارشیوں کی جے جے کار سب پر پانی پھر گیا۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں نظامِ انصاف کے تماش بین ششدر رہ گئے۔ وہ شخصیات جو سمجھتی تھیں کہ لاہور پولیس ان کے اشارے پر ڈھول بجاتی ہے، آج سر پکڑ کر بیٹھی ہیں۔ لگتا ہے پہلی بار تاریخ نے ان کو بتایا ہے کہ "رشوت کی چڑیا” ہر جگہ دانہ نہیں چگ سکتی۔
جے آئی ٹی کے کردار کو سراہنا اس لیے بھی لازم ہے کہ ایسے کیسوں میں عموماً پولیس رپورٹ ملزم کے وکیل سے پہلے ہی ملزم کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ مگر یہاں تو کہانی الٹ لکھی گئی: قاتل کو قاتل کہا گیا،بدمعاش کو بدمعاش لکھا گیا،اور انصاف کو کاغذ پر صرف انگریزی حروف کی طرح سجایا نہیں گیا بلکہ کچھ حقیقت میں بھی برتا گیا۔
گوگی بٹ اور طیفی بٹ کے سفارشیوں کی فہرست اگر کبھی عوام کے سامنے آ گئی تو ممکن ہے لوگ اپنی دیواروں پر لٹکے "محترم رہنما” کی تصویریں اتار کر کوڑے دان میں پھینک دیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ عدالت کیا کرتی ہے؟ اگر عدالت نے بھی پولیس کی طرح ڈٹ کر فیصلہ دے دیا تو یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا وہ دن ہوگا جس پر بدمعاشوں کی پوری نسل بددعائیں دے گی اور عوام تالیاں بجائیں گےورنہ اگلی شرط یہی ہوگی: "کون سا بدمعاش اگلی بار گٹکا بانٹے گا اور کس کے نام پر پولیس رپورٹ کا کفن لپیٹا جائے گا؟”



