انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

ٹرانزٹ فیز

سپیڈبریکر، میاں حبیب

پاکستان اس وقت ہر لحاظ سے اہمیت کا حامل ملک بن چکا ہے خاص کر اقوام عالم میں اس وقت پاکستان کی پذیرائی نقطہ عروج پر ہے ماسوائے بھارت اور اسرائیل ہر ملک پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنے کا خواہاں ہے خاص کر امریکہ اور اس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو پاکستان پر صدقے واری جا رہے ہیں ۔

وہ دنیا میں جہاں بھی جاتے ہیں کسی نہ کسی طرح پاکستان کا ذکر ضرور چھیڑ دیتے ہیں اور وہ جب بھی پاکستان کا ذکر کرتے ہیں ساتھ ہی بھارت کی شکست اور جنگ بندی میں اپنے کریڈٹ کو یاد ضرور کرواتے ہیں پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے تو وہ ویسے ہی گرویدہ ہیں جب سے پاکستان نے انڈیا کو شکست فاش دی ہے فیلڈ مارشل کی قبولیت اور مقبولیت بام عروج پر ہے پاکستان نے بھارت کے سات طیارے گرا کر اور اس کے نظام کو مفلوج کرکے نہ صرف اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن پر اپنی طاقت اور صلاحیتوں کی دھاک بٹھا دی ہے بلکہ دنیا کو اپنا معترف بنا لیا ہے ۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ افغانستان کو بھی ایسا سبق سکھایا ہے کہ اس کو اس کی اوقات یاد دلا دی ہے اب پاکستان نظر انداز کرنے کی پالیسی کو تبدیل کرکے فوری اور کرارا جواب دینے کی حکمت عملی اپنا چکا ہے پاکستان کی اس پالیسی نے نہ صرف اقوام عالم میں پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان کی اہمیت بھی دوچند ہوگئی ہے قوم میں بھی برتری کی سوچ جنم لینے لگی ہے لیکن ان تمام تر کامیابیوں کے باوجود نہ جانے یہ تاثر کیوں گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہ عارضی فیز ہے کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے بین الاقوامی سطح پر بھی یہی سوچ پائی جا رہی ہے کہ یہ سارا کچھ ٹرانزٹ فیز ہے اصل معاملات کا ابھی کسی کو کچھ پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے آنے والے دنوں میں پاکستان کا عالمی سطح پر کیا کردار ہو گااسی طرح پاکستان کے اندرونی حالات کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے۔

ہر چیز مخفی رکھی جا رہی ہے جس سے کنفیوژن بڑھ رہی ہے اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ریاست کی رٹ قائم ہو چکی ہے کوئی چوں چراں نہیں کر سکتا آخری معرکہ حال ہی میں احتجاج کرنے والی ایک دینی جماعت کے خلاف بھرپور کارروائی تھی جس کے بعد ہر کوئی سمجھ رہا ہے کہ کسی کی کوئی وجہ نہیں، اس لیے اب تو چڑیا بھی اجازت کے بغیر پر نہیں مارتی لیکن عجیب معاملہ یہ ہے کہ حالات مستحکم نہیں ہو رہے فضا میں عجیب سی خنکی ہے جسے محسوس کیا جا سکتا ہے ۔

بیان نہیں کیا جا سکتا تین چار روز قبل ہم ملک منظور جو کہ شیخوپورہ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر اور بزنس کمیونٹی کے لیڈر ہیں اور احمد ہمایوں خان جو کہ کامرس ایڈیٹر ہیں معیشت کے معاملات کو بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں کے ہمراہ فورٹریس سٹیڈیم گئے وہاں ہم نے کھانا کھایا اس ریسٹورنٹ میں بھی رش نہ ہونے کے برابر تھا پھر ہمیں تجسس ہوا کہ آج معمول سے رش ویسے کم دکھائی دے رہا ہے۔

ہم نے سروے شروع کر دیا مختلف دکانداروں کے پاس گئے انھوں نے بتایا کہ اب روٹین کے دنوں میں رش کم ہوتا ہے ویک اینڈ جمعہ ہفتہ اتوار تین دن رش زیادہ ہوتا ہے لیکن آجکل ویسے ہی مندا چل رہا ہے اخراجات پورے کرنا محال ہو رہا ہے نہ کرایہ ادا کیا جا رہا ہے نہ بجلی کے بل اور نہ ہی ملازموں کی تنخواہیں ادا ہو پا رہی ہیں صرف اس آس پر بیٹھے ہیں کہ شادیوں کا سیزن آ رہا ہے شاید بہتری آ جائے فورٹریس سٹیڈیم جہاں دوکان ملنا محال ہوتا تھا وہاں اب کئی دوکانیں خالی پڑی ہیں اور باقی دوکاندار ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔

یہ حال صرف فورٹریس سٹیڈیم کا نہیں ہر بازار اور مال کا ہے میرے ایک دوست بتا رہے تھے کہ اسلام آباد مین بلیوارڈ پر دوکانیں خالی ہو رہی ہیں ایک دوکاندار نے ہمیں بتایا کہ اخراجات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ جو لوگ شادیوں پر پوری پوری فیملی کو انوائیٹ کرتے تھے وہ بھی اب ایک ایک دو دو افراد کو بلاتے ہیں ایک اور انکشاف یہ ہوا کہ لاہور کے شادی ہالوں میں ون ڈش دو ہزار سے سات ہزار تک فی کس ہے جبکہ کراچی میں 15سو سے ساڑھے تین چارہزار تک دو تین ڈشوں تک فی کس چارج ہو رہے ہیں ۔

حکومت نے پنجاب کے شادی ہالوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے بہرحال بات حالات کے حوالے سے ہورہی تھی حقیقت یہ ہے کہ پچھلے دو اڑھائی سالوں سے ایک عارضی فیز چل رہا ہے نہ جانے کیوں کاروباروں پر جمود طاری ہے ہر چیز سٹک نظر آتی ہے نہ جانے کیوں بازاروں کی رونقیں نہیں بڑھ رہیں جو بھی کاروبار ہو رہا ہے صرف چل چلاو ہے صرف روزمرہ کے معاملات کو چلانے کے لیے پہیہ چل رہا ہے معاشی سرگرمیوں میں ٹھراو نہیں آ رہا حکمرانوں اور صاحب اختیار لوگوں کو چاہیے کہ اب جب انھوں نے ہرقسم کے معاملات پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے تو اب ملک میں معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی طرف بھی توجہ دیں کیونکہ جب تک معاشی سرگرمیاں تیز نہیں ہوں گی اس وقت تک عام لوگوں کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button