کیا ہم انتخابی عمل سے لا تعلق ہو چکے ہیں؟
حالیہ ضمنی انتخابات کی سب سے تشویشناک بات بہت ہی کم ٹرن آئوٹ ہے، عوام میں ووٹ ڈالنے کی شرح بہت ہی کم رہی جو بہت ہی تشویش ناک بات ہے اگر صرف 15 سے 17 فیصد لوگ اپنا حق رائےدہی استعمال کرتے ہیں تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ عوام کا انتخابی عمل سے اعتبار اٹھ چکا ہے ۔
یہ بات جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہے مگر وطن عزیر میں اصل جمہوریت رہی ہی کب ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں آج تک شفاف الیکشن نہیں ہوئے مگر جو کچھ 8 فروری 2024 کو ہوا جس طرح عوامی فیصلے کو طاقت وروں نے جوتے کی نوک پر رکھا اور فارم 47 کی حکومت عوام پر مسلط کی گئی اس نے سماج میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔
عوام کو اس بات پر یقین ہو گیا ہے کہ ہمارے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے فارم 45 میں فاتح کو جس طرح فارم 47 میں شکست خوردہ دکھایا جاتا ہے اس نے انتخابی عمل سے عوام کی بےزاری کو عیاں کر دیا ہے اسکی ذمہ داری جہاں طاقت کے اصل مراکز پر عائد ہوتی ہے وہاں نام نہاد سیاسی جماعتیں بھی ذمہ دارہیں جو کہنے کو جمہوری ہیں مگر مورثیت کی بد ترین مثالیں ہیں۔
جب تک ہیت متدرہ کی انتخابی عمل سے لاتعلقی نہیں ہوتی اور چیف الیکشن کمشنر سے جان نہیں چھوٹ جاتی تب تک ایسا مردہ الیکشن دیکھنے کو ملے گا ، پاکستان میں جو جمہوریت نافذ ہے وہ صدائے جمہور ہرگز نہیں ہے لفظ جمہور عوام کے بارے میں کہا جاتا ہے ادھر کہاں ہے عوام اور کہاں ہے انکی رائے اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو حالات کس نہج پر جا سکتے ہیں ، اسکی مثالیں ہم کو اڑوس پڑوس سری لنکا نیپال اور بنگلہ دیش میں مل جاتی ہیں۔
پاکستان کی ایک اکائی کشمیر میں بھی جھلک دیکھنے کو ملی تھی مگر کیا پاکستان میں ایسی ملک گیر تحریک چل سکتی ہے جسے سری لنکا نیپال اور بنگلہ دیش کے عوام نے حکمران اشرفیہ کو اٹھا کر طاقت کے ایوانوں سے باہر پھنک دیا تھا ہنوز وطن عزیز میں تو یہ سب ناممکن لگتا ہے کیونکہ ہمارا مزاج انقلابی نہیں ہے ہم الیکشن میں جا کر صرف ووٹ ڈالنے تک یقین رکھتے ہیں مگر ووٹ چوری ہونے پر کوئی ردعمل نہیں دیتے بس گھر بیٹھ کر دو چار گالیاں نکال کر غصہ ٹھنڈا کر لیتے ہیں ہیں۔
مگر اب کی بار تو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے انتخابی عمل کا حصہ بننے کو بھی ہم تیار نہیں کیونکہ ہم نے یقین کر لیا ہے کہ ہم جس کو ووٹ ڈالیں گیں نتیجہ وہی نکلے گا جو ہیت متدرہ کی منشا ہو گا لہذا ووٹ ڈالنے جانا ہی نہیں چاہیے ، بدقسمتی سے یہ عوامی سوچ ہمارے سماج کے لیے بہت خطرناک ہے افسوس صد افسوس ہماری حکمران اشرفیہ یہ سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔



