عمران سے پھر ملاقات نہ ہوئی،بہنوں،کارکنوں کی پیشقدمی،صورتحال کشیدہ،سہیل آفریدی بھی اڈیالہ جیل روانہ
راولپنڈی:(ویب ڈیسک) اڈیالہ جیل کے باہر صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ عمران خان کی بہنیں اور کارکنان پیش قدمی کے دوران پولیس رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش میں مصروف رہے، جس پر شدید دھکم پیل اور ہاتھا پائی کے بعد پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔
علیمہ خان نے کارکنان کے ساتھ دوبارہ دھرنا دے کر احتجاج مزید تیز کر دیا ہے۔ ملاقات کا وقت ختم ہونے کے باوجود بانی پی ٹی آئی کی کسی بہن یا رہنما کو جیل حکام کی جانب سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔
اڈیالہ جیل کے گورکھپور ناکے پر علیمہ خان کا دھرنا جاری ہے، جبکہ جیل کے مختلف اطراف میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔علیمہ خان اور کارکنوں کا جلوس فیکٹری ناکے تک پہنچ گیا، جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور شرکا کو مزید آگے جانے سے روک دیا گیا ہے۔
قبل ازیں اڈیالہ جیل میں آج بانی پی ٹی آئی سے اہلِ خانہ کی ملاقات کا طے شدہ دن تھا، مگر مقررہ وقت ختم ہونے کے باوجود ان کی بہنیں ان سے ملاقات نہیں کر سکیں۔ تینوں بہنیں کارکنان کے ہمراہ جیل کے باہر موجود ہیں اور صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں۔
اس دوران بانی پی ٹی آئی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی اڈیالہ جیل کی طرف روانہ ہوئے ہیں، ذرائع کے مطابق وہ وہاں موجود قیادت اور اہلِ خانہ سے ملاقات کریں گے۔
قبل ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر ان کی بہنوں نے اڈیالہ روڈ پر دھرنا دے دیا، بڑی تعداد میں کارکنان جمع ہوگئے جنہوں نے شدید نعرے بازی بھی کی۔
منگل کو عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کا دن ہے، اڈیالہ جیل جانے کے لیے پی ٹی آئی کارکنوں کی آمد شروع ہوگئی۔
علیمہ خان دیگر بہنوں کے ہمراہ گورکھ پور ناکے پر پہنچیں، کارکنوں کی جانب سے استقبال کیا گیا اور نعرے بازی کی گئی جس پر پولیس نے پوزیشنیں سنبھال لیں۔ پولیس کی بھاری نفری نے کارکنوں کو داہگل اور گورکھ پور ناکے پر روک لیا، پولیس نے بانی کی بہنوں کو گورکھ پور سے آگے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا جس پر مزید کارکنان وہاں جمع ہوگئے۔
علیمہ خان کارکنوں کے ہمراہ گورکھ پور سے اڈیالہ جیل کی جانب روانہ ہوگئیں، کارکنوں نے نعرے بازی کی۔ علیمہ خان دیگر بہنوں کے ہمراہ گاڑی میں موجود تھیں جب کہ کارکنوں کا جلوس پیدل گاڑی کے ساتھ روانہ ہوا۔
راولپنڈی فیکٹری ناکے پر کارکن اور پولیس آمنے سامنے آگئے۔ پولیس نے مظاہرین کو سڑک کے بائیں جانب پلاٹ میں جانب جانے کی ہدایت کردی۔ کارکنوں نے شدید نعرے لگائے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر ان کی بہنوں نے اڈیالہ روڈ پر دھرنا دے دیا۔ فیکٹری ناکے سے اڈیالہ روڈ مکمل بند ہوگیا، اسکولز کالجز سے گھر جانے والے طالب علموں کی بڑی تعدا رش میں پھنس گئی، سڑک بند ہونے سے مسافر بھی پریشان ہوگئے۔
دریں اثنا راولپنڈی اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت ہوگیا مگر عمران خان کی بہنوں سمیت کسی بھی رہنماء کو ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ بیرسٹر گوہر علی خان کو بھی ملاقات کی اجازت نہ ملی۔
علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین خان کا دھرنا فیکٹری ناکے پر جاری رہا۔ اس دوران راولپنڈی پولیس نے اڈیالہ روڈ پر دھرنے کی دوسری طرف سے ٹریفک کی روانی بحال کردی جس پر شہریوں نے پریشانی ختم ہوگئی۔
فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفت گو میں علیمہ خان نے کہا کہ جب تک ملاقات نہیں کرائی جاتی ہم یہیں بیٹھے رہیں گے، بانی کو قید تنہائی میں رکھ کر یہ ظلم کر رہے ہیں، یہ غیر قانونی و آئینی ہے، اس وقت جنگل کا قانون ہے، انہیں ڈرنا چاہیے کہ اگر یہ آئین وقانون کے مطابق نہ چلے تو پاکستان جنگل کا قانون بن جائے گا۔
علیمہ خان نے کہا کہ جو لوگ کہہ رہے ہیں ہم ڈرامہ کر رہے ہیں تو ٹھیک کہا، اتنی پولیس ڈرامے کے لیے یہاں موجود ہے، ہم پرانے احتجاج کے لئے یہاں بیٹھے ہیں، یہ ہمارا ملک ہے اور ہماری مرضی ہے، گزشتہ منگل کو میری بہن کو سڑک پر کیوں گھسیٹنا پڑا تھا؟ یہ بے شرم خواتین پولیس اہلکار ہیں جو غیر قانونی احکامات پر عمل کررہی ہیں، لیڈیز پولیس اہلکاروں کو خواتین کی بدنامی کرنے کے لئے یہاں لایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کو لگتا ہے ایسا کرکے مریم نواز خوش ہوں گی اور انہیں ترقیاں ملیں گی، یہ ہمیں گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں ہم نہیں ڈرتے۔



