انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

افغان سر زمین سے پاکستان میں دہشت گردی

تحریر:حافظ محمد صالح

یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑا داخلی چیلنج دہشت گردی کی وہ لہر ہے جو سرحد پار سے منظم ہو کر آتی ہے اور جس کے پیچھے نظریاتی گمراہی، بیرونی سرپرستی اور ریاست دشمن ایجنڈا کارفرما ہے۔بھارت کی جانب سے برسوں سے جاری پراکسی سرگرمیوں، سرحدی اشتعال انگیزیوں اور پاکستان کو دبائو میں لانے کے بے نتیجہ حربوں نے خطے کو مستقل کشیدگی کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔افغانستان کی سر زمین تسلسل کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

طالبان نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکیوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے میں بہت سی شرائط رکھی گئی تھیں۔ ان میں ایک شرط یہ تھی کہ طالبان افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد وہاں موجود دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کریں گے۔دوسری شرط یہ تھی کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ افغانستان کی سرزمین کو کوئی دہشت گرد گروہ دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ وہ خواتین کو آزادانہ طور پر کاروبار اور تعلیم کا حق دیں گے۔

افغانستان میں موجود تمام نسلی اور لسانی گروہوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے حکومت میں نمایندگی دیں گے۔ افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان ان میں سے کسی ایک شرط پر بھی پورا نہیں اتر سکے۔ افغانستان میں موجودہ عبوری حکومت میں تاجک، ازبک، ہزارہ، مینگول، پامیری، گرجرز اور دیگر گروہوں کی نمائندگی اول تو موجود نہیں ہے اور اگر کہیں ہے بھی تو وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

افغانستان میں داعش خراسان صوبہ، القاعدہ، ٹی ٹی پی اور اس کی سسٹرز آرگنائزیشن جیسے گل بہادر گروپ وغیرہ افغانستان میں آزادانہ طور پر موجود ہیں بلکہ انھیں حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ان کے تربیتی کیمپ آزادانہ طور پر چل رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی اور گلبہادر گروپ کے لوگ وہاں کاروبار کر رہے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کو آپریٹ کرتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ وسط ایشیا میں وارداتیں کرنے والی مختلف تنظیموں کے لوگ بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت ان گروپوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہی؟۔اس کا ایک جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ افغان طالبان اور ان تنظیموں کا نظریاتی تعلق ہے، ان کا تنظیمی اشتراک بھی موجود ہے۔ یوں یہ سب ایک ہی ہیں، بس ناموں کا فرق ہے۔ وہ دنیا کو دکھانے کے لیے مختلف قسم کے پروپیگنڈا ٹولز استعمال کرتے ہیں۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان کی حکومت ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف سرے سے کارروائی کرنا ہی نہیں چاہتی۔

اس کا دوسرا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ افغانستان کے اقتدار پر جو گروپ قابض ہے، اس میں اتنی قوت ہی نہیں ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کر سکے۔

پاکستان نے بارہا واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس کی جنگ نہ تو کسی مخصوص گروہ کے خلاف ہے اور نہ ہی اسے کسی دوسرے ملک کی داخلی سیاست میں مداخلت کا شوق ہے، لیکن جب سرحد پار سے منظم دہشت گردانہ حملے ہوں، پاکستان دشمن گروہوں کو پناہ گاہیں فراہم کی جائیں اور خوارج جیسی تنظیمیں افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کریں، تو پھر خاموشی نہ تو ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی مناسب۔

فیلڈ مارشل نے یہ کہہ کر حقیقت کو اس کے اصل تناظر میں پیش کیا کہ طالبان کے پاس دو ہی راستے ہیں یا وہ خوارج کا ساتھ چھوڑ کر علاقائی امن اور ہمسائیگی کے تقاضوں کا احترام کریں یا پھر ایسے عناصر کے ساتھ کھڑے رہیں جنھوں نے مسلم ممالک کی جڑیں کھوکھلی کرنے اور خطے میں بدامنی پھیلانے کو اپنا ایجنڈا بنایا ہوا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس توقع کا اظہارکیا ہے کہ افغان قیادت خطے کی اجتماعی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے گروہوں سے لاتعلقی اختیار کرے گی، جو امن کے دشمن اور ریاستوں کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔

بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی سیکیورٹی ماحول نے جدید جنگی حکمت عملی کو ملٹی ڈومین آپریشنز کے تصور سے جوڑ دیا ہے، جہاں بری، بحری اور فضائی افواج محض اپنی اپنی سطح پر نہیں بلکہ ایک ہم آہنگ، مربوط اور مشترکہ آپریشنل فریم ورک میں کام کرتی ہیں۔ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام اسی اہم تناظر میں کیا گیا ہے۔ دنیا کی جدید افواج پہلے ہی اس ماڈل کی طرف گامزن ہیں، جہاں ادارہ جاتی ہم آہنگی کو طاقت کا بنیادی محرک سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھی اس جدید ماڈل کو اپناتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ دفاعی امور میں جدیدیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔

پاکستان ایک نازک مگر فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے جہاں داخلی سلامتی، علاقائی سیاست، فکری انتشار اور عالمی دبائوایک دوسرے میں گتھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایسے میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف وآف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا قومی علماءو مشائخ کانفرنس سے خطاب محض ایک عسکری بیان نہیں بلکہ ایک فکری، نظریاتی اور قومی سمت کا تعین تھا۔

ان کے خیالات میں ریاست کی بالادستی، دین کی صحیح تعبیر، قومی سلامتی اور امت کے اجتماعی مفاد کا واضح تصور جھلکتا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ انکشاف بھی کیاکہ پاکستان میں دراندازی کرنے والے ٹی ٹی پی جنگجوئوں میں ستر فیصد افغان ہوتے ہیں ، ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ خون آلود کہانیاں ہیں جو معصوم پاکستانی بچوں، خواتین، علما، فوجیوں اور عام شہریوں کی قربانیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔

یہ سوال بجا طور پر اٹھایا گیا کہ کیا افغانستان کی سرزمین پاکستانی بچوں کے خون سے رنگین نہیں ہو رہی؟ اور اگر ہو رہی ہے تو اس کی اخلاقی، دینی اور سیاسی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ پیچیدہ رہے ہیں۔ ایک طرف تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتے ہیں تو دوسری جانب قومی سلامتی کے ناقابلِ تردید تقاضے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں علم و قلم کی اہمیت پر زور دے کر ایک نہایت بنیادی نکتے کی طرف توجہ دلائی۔

جدید دور میں جنگیں صرف بندوق اور بارود سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ بیانیے، علم، تحقیق اور فکری برتری بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں صرف ہتھیار نہیں اٹھاتیں بلکہ وہ ذہنوں پر حملہ کرتی ہیں، نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہیں اور دین و سیاست کے نام پر نفرت پھیلاتی ہیں۔ اس کے مقابلے کے لیے ریاست، تعلیمی اداروں، علما، دانشوروں اور میڈیا کو مل کر ایک ایسا فکری محاذ قائم کرنا ہوگا جو سچ، اعتدال اور قومی مفاد پر مبنی ہو۔

نوٹ:حافظ محمد صالح کا تعلق کراچی سے ہے ۔ 1998سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں ۔کئی برس تک روزنامہ قومی اخبار کراچی سے وابستہ رہے ہیں ۔ پھر پانچ سال تک روزنامہ امت کراچی اور ہفتہ روزہ تکبیر کراچی سے بھی بطور رپورٹر وابستہ رہے ہیں ۔ ملک کے مختلف اخبارات میں کالم بھی لکھتے رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button