امریکہ کے وینزویلا پر حملے،متعددہلاکتیں،صدراوراہلیہ گرفتار،ٹرمپ کی تصدیق
کراکس،واشنگٹن:(ویب ڈیسک)امریکہ کے وینزویلا پر حملوں میں متعددہلاکتوں کا انکشاف ہوا ہے جبکہ امریکی صدرٹرمپ نے وینزویلا کے صدراوراہلیہ کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
امریکی حملوں کے بعد وینزویلا کا اگلا اقدام کیا ہو سکتا ہے؟ اس حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سمیت مختلف شہروں میں امریکا کی جانب سے حملے کیے گئے، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد کیے گئے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر نکولس مادورو کے زیرِ اثر فوج کسی پیشگی سیاسی یا سفارتی مفاہمت کے بغیر اقتدار چھوڑنے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔
تاحال وینزویلا کی فوج نے تازہ صورتحال پر کوئی باضابطہ ردِعمل بھی جاری نہیں کیا۔
اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو خود کو مغربی حمایت یافتہ ممکنہ متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہیں، تاہم مادورو کے سیاسی مخالفین کی ایک بڑی تعداد بھی امریکی مداخلت کی مخالفت کرتی ہے، جس سے اپوزیشن صفوں میں تقسیم واضح ہوتی ہے۔
دوسری جانب، چاویزم تحریک جس کی قیادت اس وقت مادورو کے ہاتھ میں ہے ابھی تک ملک بھر میں قابلِ ذکر عوامی حمایت رکھتی ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر سیاسی تصادم شدت اختیار کرتا گیا تو وینزویلا خانہ جنگی یا ایک تباہ کن مسلح تنازع کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے، جس کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس ہو سکتے ہیں۔
مزید براں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملوں اور صدر مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری کی بھی تصدیق کردی۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ٹرمپ نے وینزویلا پر حملوں کے حوالے سے کہا کہ وینیزویلا اور اس کی قیادت کیخلاف آپریشن کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو پکڑ کر ملک سے باہر منتقل کردیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ آپریشن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کیا گیا ہے۔ امریکی صدر اس حوالے سے مزید تفصیلات آج رات پریس کانفرنس میں بتائیں گے۔
دوسری جانب کولمبیا اور کیوبا نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کیوبا کے صدر کا کہنا تھا کہ وینزویلا پر امریکا کی جانب سے کیے گئے مجرمانہ حملے کے خلاف بین الاقوامی برادری کے فوری ردِعمل کا مطالبہ کرتا ہوں۔
اسی طرح روس نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس اور کئی ریاستوں پر فضائی حملے کردیے ہیں جس میں ملک کی اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دارالحکومت کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے سنے گئے۔ شہریوں نے نچلی فضا میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹر سی ایچ 47 چینوک کو بھی اُڑتے ہوئے دیکھا جس کے بعد امریکی دھمکیوں کے حوالے سے جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔



