بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

پراکسی وار اور پاکستانی ریاست کا جواب

عاصم رضا خیالوی

خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خیال نہ ہو خود کو بدلنے کا۔
یہ جملہ ہم اکثر سیاسی تقریروں میں بڑے جوش و جذبے سے سنتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم اسے نعرہ سمجھتے ہیں یا اجتماعی ذمہ داری؟ اگر اس فقرے کو اس کی اصل روح کے ساتھ دیکھا جائے تو ایک سادہ مگر کڑوی حقیقت سامنے آتی ہے: حالات بدلنے سے پہلے قوم بننا ضروری ہوتا ہے۔
یہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر آج پاکستان کھڑا ہے۔
کیا پاکستان واقعی ایک قوم ہے، یا محض ایک حساس جغرافیے میں رہنے والے مختلف الخیال گروہوں کا مجموعہ؟
پاکستان جس جغرافیائی مقام پر واقع ہے، وہ دنیا کے حساس ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی لیے دشمن اس پر مسلسل نظر جمائے بیٹھے ہیں۔ مگر یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اگر مجبور کیا جائے تو دشمن کو فیصلہ کن جواب دینے کی طاقت اور ہمت بھی رکھتا ہے۔
افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور بھارت کی جانب سے افغانستان کے راستے پاکستان میں پراکسی جنگ کوئی مفروضہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل سیکیورٹی چیلنج ہے۔ بھارت براہِ راست پاکستان سے جنگ لڑنے کی ہمت نہیں رکھتا، اسی لیے وہ دہشت گردی اور عدم استحکام کے ذریعے پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا چاہتا ہے۔ مگر پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے اور پاکستانی فوج اس پوری صورتِ حال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اسی پس منظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ 2025 کے دوران 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 2,597 دہشت گردوں کی ہلاکت اور ریاست و عوام کے درمیان دہشت گردی کے خلاف ہم آہنگی کا اعلان دراصل دشمن کے لیے ایک واضح پیغام تھا: پاکستان نہ غافل ہے، نہ کمزور۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ دو ٹوک بیان کہ اگر ایک بار پھر پاکستان کو آزمانے کی کوشش کی گئی تو اس بار ایسا جواب دیا جائے گا کہ “شوق” کا لفظ ہی بھلا دیا جائے گا — محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک ریاستی ریڈ لائن کا اعلان ہے۔
تاہم اصل امتحان صرف سرحدوں پر نہیں، اندرونِ ملک بھی ہے۔ پاکستان میں موجود بیشتر سیاسی جماعتیں ریاست، جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں، اور فوج و سیاسی قیادت کے درمیان ایک عملی ہم آہنگی موجود ہے۔ مگر بدقسمتی سے کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو پاکستان کی جغرافیائی حساسیت اور دہشت گردی کے خطرات کو نظرانداز کرتے ہوئے دشمن کی زبان بولتے ہیں اور اپنی ہی فوج و اداروں کے خلاف شکوک پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قومی سلامتی نعروں سے نہیں، اعتماد، اتحاد اور شعور سے محفوظ ہوتی ہے۔ آج کے حالات میں پوری پاکستانی قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی فوج کا بازو بنے، ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہو، اور ان سیاسی قوتوں کا ساتھ دے جو پاکستان کے لیے ایک صفحے پر چلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں—نہ کہ دشمن کو عدم استحکام کے مواقع فراہم کریں۔
اگر ہمیں واقعی اپنی حالت بدلنی ہے تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا:
اپنے رویّے، اپنی ترجیحات اور اپنے قومی فیصلے۔
تب ہی ہم محض ایک جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک باشعور، متحد اور باوقار قوم کہلائیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button