انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجیعلاقائی خبریںکالم

خاموش فیصلے، بدلتی سمت ،پاکستان کا نیا عالمی کردار

پاکستان کی تاریخ میں کچھ ادوار ایسے آتے ہیں جب ریاستی فیصلے محض وقتی ضرورت نہیں ہوتے بلکہ آنے والی دہائیوں کی سمت متعین کرتے ہیں۔ یہ فیصلے نعروں سے نہیں، خاموشی سے ہوتے ہیں بیانات سے نہیں، توازن سے پہچانے جاتے ہیں۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں پاکستان اسی نوعیت کے ایک دور سے گزر رہا ہے۔

ایک ایسا دور جہاں ریاست نے دباؤ کا جواب شور سے نہیں، وقار سے دیا ہےجب منفی پروپیگنڈا، سفارتی دباؤ اور علاقائی چیلنجز ایک ساتھ صف آرا ہوں تو ریاستیں یا تو ردِعمل میں بکھر جاتی ہیں یا پھر خود کو ازسرِنو ترتیب دیتی ہیں۔ پاکستان نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ عسکری، انٹیلی جنس اور اسٹریٹجک قیادت نے ایک ایسی حکمتِ عملی اپنائی جو بیک وقت مضبوط بھی ہے اور محتاط بھی ایسی حکمتِ عملی جو طاقت کو جارحیت کے بجائے ریاستی وقار میں ڈھالتی ہے۔

اسی تناظر میں صدرِ متحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید آل نہیان کا دورۂ پاکستان محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ اس نئے پاکستان کی بین الاقوامی توثیق تھا۔ یہ دورہ اس بات کا غیر لفظی اعتراف تھا کہ پاکستان اب خطے میں صرف ایک ردِعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ ایک ایسا ملک بن چکا ہے جس کے فیصلے علاقائی اور عالمی پالیسیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

FIELD-MARSHAL

اس پورے منظرنامے میں اگر کسی قیادت کی سوچ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے تو وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دفاعی و اسٹریٹجک قیادت ہے۔ ان کی سوچ میں طاقت نمائش نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، اور دفاع جذبات نہیں بلکہ نظم و ضبط سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عسکری پالیسی اس دور میں نہ تو اشتعال انگیز بیانیہ بن سکی اور نہ ہی کمزوری کا تاثربلکہ ایک پُرامن مگر فیصلہ کن ریاستی کردار کے طور پر ابھری۔

dgispr
فائل فوٹو

اسی قیادت کے تحت پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے غیر معمولی ہم آہنگی، صبر اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کام کیا۔ یہ وہ محاذ ہے جہاں کامیابیاں اخباری سرخیوں میں نہیں بلکہ خاموش نتائج میں ناپی جاتی ہیں۔ بروقت معلومات، درست تجزیہ اور غیر ضروری نمائش سے اجتناب نے پاکستان کو نہ صرف اندرونی استحکام دیا بلکہ بیرونی محاذ پر بھی برتری دلائی۔ یہی خاموش حکمتِ عملی پاکستان کے نئے اسٹریٹجک تشخص کی بنیاد بن رہی ہے۔

اسی تسلسل میں لیبیا کے ساتھ دفاعی تعاون کا حالیہ معاہدہ ایک اور سنگِ میل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ لیبیا جیسے ملک کا پاکستان پر اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب خود کو محض ایک علاقائی ریاست نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، دفاعی طور پر خود کفیل اور اسلامی اقدار سے جڑی طاقت کے طور پر منوا چکا ہے۔ یہ معاہدہ کسی ایک ڈیل سے بڑھ کر پاکستان کی عالمی دفاعی سفارت کاری کا اعلان ہے۔

یہ پیش رفت اس منفی تاثر کو بھی زائل کرتی ہے جو برسوں سے پھیلایا جاتا رہا کہ پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کی عسکری تربیت، نظم، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی استحکام کو اب سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے طاقت کو جارحیت کے بجائے ذمہ داری کے ساتھ جوڑا ہے۔ دفاع کو تجارت نہیں بلکہ استحکام اور امن کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہی وہ ریاستی سوچ ہے جو پاکستان کو ایک اسلامی، خوددار اور اصولی ملک کے طور پر عالمی سطح پر متعارف کرا رہی ہے۔

ispr
سکرین گریب

محمد بن زاید کا دورہ ہو یا لیبیا کے ساتھ دفاعی تعاون یہ تمام واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ اس نئے پاکستان کی علامت ہیں جہاں عسکری قیادت، انٹیلی جنس ادارے اور ریاستی سمت ایک صفحے پر ہیں؛ جہاں فیصلے جذبات سے نہیں، دانش سے ہوتے ہیں۔
پاکستان آج صرف اپنے مخالفین کے بیانیے کا جواب نہیں دے رہا،بلکہ اپنی خاموش کامیابیوں کے ذریعےدنیا کو خود اپنا تعارف کرا رہا ہےاور یہی کسی ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button