انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

وزیر اعظم کی سفارتی حکمت عملی اور فیلڈ مارشل کا سٹریٹجک وژن

دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں پرانے عالمی ادارے اپنی افادیت کھوتے دکھائی دیتے ہیں اور نئے طاقت کے مراکز تیزی سے جنم لے رہے ہیں۔ سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام جس کی بنیاد اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، عالمی مالیاتی اداروں اور مغربی طاقتوں کی سیاسی بالادستی پر تھی اب داخلی تضادات، علاقائی تنازعات اور طاقت کے عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے۔ اسی پس منظر میں ’’بورڈ آف پیس‘‘ جیسے تصورات سامنے آ رہے ہیں جو بظاہر عالمی امن کے قیام کے دعوے کے ساتھ متعارف کرائے جا رہے ہیں مگر درحقیقت یہ عالمی سیاست میں نئی صف بندیوں اور اثر و رسوخ کی کشمکش کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔

peace-board

بورڈ آف پیس کا تصور ایک ایسے عالمی فورم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو روایتی اقوام متحدہ کے فریم ورک سے ہٹ کر تنازعات کے حل میں فعال کردار ادا کرے گا۔ اس کے حامیوں کے مطابق یہ بورڈ عالمی تنازعات کو تیز رفتاری سے حل کرنے کے لیے تشکیل دیا جا رہا ہے کیونکہ اقوام متحدہ اپنی ساخت، ویٹو پاور اور طاقتور ممالک کے مفادات کے باعث اکثر فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ فلسطین، کشمیر، یوکرین اور یمن جیسے تنازعات اس ناکامی کی واضح مثالیں ہیں جہاں دہائیوں گزر جانے کے باوجود امن قائم نہ ہو سکا۔

peace-board-1

 

بورڈ آف پیس کے قیام کے پیچھے ایک اہم مقصد عالمی فیصلہ سازی کو محدود ممالک کے ہاتھوں سے نکال کر ایک نسبتاً وسیع مگر منتخب گروہ کو دینا بتایا جا رہا ہے۔ اس تصور کے مطابق دنیا کے وہ ممالک جو مالی، عسکری یا سفارتی طاقت رکھتے ہیں انہیں اس بورڈ میں شامل کیا جائے گا تاکہ وہ تنازعات کے حل کے لیے وسائل فراہم کر سکیں اور فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دراصل ایک نیا طاقتور کلب ہوگا جو عالمی سیاست کو مزید طبقاتی بنا دے گا اور کمزور ممالک کی آواز ایک بار پھر نظرانداز ہو جائے گی۔بورڈ آف پیس کے قیام کا ایک اور بنیادی مقصد عالمی معیشت اور سلامتی کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔

peace-board-2

موجودہ دور میں جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ توانائی، تجارت، سپلائی چین اور مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ اس لیے بورڈ آف پیس کے خدوخال ایسے بنائے جا رہے ہیں جہاں امن کو معاشی استحکام سے مشروط کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فورم میں شمولیت کے لیے مالی شرائط، دفاعی تعاون اور سفارتی ہم آہنگی جیسے عوامل کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔پاکستان کے لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا سوال ایک سادہ سفارتی انتخاب نہیں بلکہ ایک گہرا اسٹریٹجک فیصلہ ہے۔

peace-board-3

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت، ایٹمی صلاحیت اور دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد کے باعث عالمی سیاست میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ افغانستان، ایران، چین اور بھارت کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان خطے کے امن میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی لیے اگر پاکستان اس بورڈ سے باہر رہتا ہے تو خطے کے حوالے سے فیصلے اس کی غیر موجودگی میں بھی ہو سکتے ہیں جو اس کے مفادات کے خلاف جا سکتے ہیں۔بورڈ آف پیس میں شمولیت کے ذریعے پاکستان کو سب سے بڑا فائدہ یہ حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ کشمیر جیسے دیرینہ مسئلے کو ایک نئے عالمی فورم پر اجاگر کر سکے۔

اقوام متحدہ کی قراردادیں ہونے کے باوجود کشمیر کا مسئلہ عالمی بے حسی کا شکار رہا ہے۔ اگر پاکستان ایک نئے امن بورڈ کا رکن بنتا ہے تو وہ اس فورم کو استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کر سکتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔ اس طرح پاکستان کی سفارتی آواز ایک نئے دائرے میں سنی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر اپنی سکیورٹی قربانیوں کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے انسانی جانوں اور معیشت کی صورت میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔

ایک عالمی امن فورم پر یہ بیانیہ پیش کر کے پاکستان نہ صرف اپنی قربانیوں کا اعتراف کروا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں سکیورٹی تعاون اور مالی معاونت کے نئے راستے بھی کھول سکتا ہے۔اقتصادی زاویے سے دیکھا جائے تو بورڈ آف پیس میں شمولیت پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ عالمی سرمایہ کار ہمیشہ سیاسی استحکام اور عالمی قبولیت کو اہمیت دیتے ہیں۔ اگر پاکستان ایک ایسے فورم کا حصہ بنتا ہے جسے عالمی امن اور استحکام سے جوڑا جا رہا ہو تو اس سے ملک کا سافٹ امیج بہتر ہو سکتا ہے۔ یہ بہتر امیج براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارتی معاہدوں اور مالیاتی اداروں کے اعتماد میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی نئے عالمی نظام میں خود کو الگ تھلگ نہ ہونے دے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو ممالک بدلتے عالمی رجحانات سے خود کو ہم آہنگ نہیں کر پاتے وہ بعد میں فیصلوں کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اندھا دھند ہر فیصلے کی حمایت کرے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان فیصلہ سازی کی میز پر موجود ہو اور اپنے مفادات کا دفاع کر سکے۔جہاں تک ڈیووس کانفرنس کا تعلق ہے تو یہ فورم عالمی معیشت، سیاست اور مستقبل کی سمت کے تعین میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کے تحت منعقد ہونے والی ڈیووس کانفرنس دنیا کے طاقتور ترین سیاست دانوں، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ پاکستان کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک خود کو عالمی اقتصادی مکالمے سے الگ نہیں رکھنا چاہتا۔ڈیووس کانفرنس میں پاکستان نے سب سے اہم مقصد یہ حاصل کیا کہ اس نے عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے اپنی معیشت کا نیا بیانیہ پیش کیا۔ ایک عرصے تک پاکستان کو سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا۔ ڈیووس میں پاکستانی قیادت نے اصلاحات، ڈیجیٹل معیشت، زراعت، آئی ٹی اور توانائی کے شعبوں میں مواقع کو اجاگر کر کے یہ پیغام دیا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک سنجیدہ اور ابھرتی ہوئی منڈی ہے۔

اس کانفرنس میں پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو بھی مؤثر انداز میں اٹھایا۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی آلودگی میں اس کا حصہ بہت کم ہے۔ ڈیوس میں اس نکتے کو اجاگر کر کے پاکستان نے نہ صرف اخلاقی برتری حاصل کی بلکہ ماحولیاتی فنڈنگ اور گرین انویسٹمنٹ کے حوالے سے بھی عالمی توجہ حاصل کی۔ڈیوس کانفرنس کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے ساتھ براہ راست رابطے کیے۔ ایسے مواقع روایتی سفارت کاری میں کم ہی میسر آتے ہیں جہاں ایک ہی جگہ پر فیصلہ ساز موجود ہوں۔

پاکستان نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مالی استحکام، اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کے روڈ میپ پر اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی۔بورڈ آف پیس اور ڈیوس کانفرنس کو اگر ایک ہی فریم میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا تیزی سے نئے عالمی نظم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس نئے نظم میں وہ ممالک آگے ہوں گے جو سفارت کاری، معیشت اور امن کے بیانیے کو یکجا کر کے پیش کر سکیں گے۔

پاکستان کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے کہ وہ صرف ردعمل کی سیاست تک محدود رہے یا عالمی مکالمے کا فعال حصہ بنے۔ بورڈ آف پیس کا تصور خواہ کتنا ہی متنازع کیوں نہ ہو، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا نئے اداروں اور نئے فارمز کی طرف جا رہی ہے۔ پاکستان کے لیے اس میں شامل ہونا اپنی بقا، وقار اور مفادات کے تحفظ کے لیے اہم ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس فورم کو قومی مفاد کے تناظر میں استعمال کرے۔ اسی طرح ڈیوس کانفرنس میں شرکت پاکستان کے لیے ایک موقع تھا جس کے ذریعے اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ عالمی معیشت اور امن کے مباحث میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہی وہ سمت ہے جہاں پاکستان کو محاذ آرائی کے بجائے مکالمے، تنہائی کے بجائے شمولیت اور وقتی فائدے کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی کو ترجیح دینا ہوگی۔ بدلتی دنیا میں وہی قومیں اپنا مقام برقرار رکھ پاتی ہیں جو وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر فیصلے کرتی ہیں اور پاکستان کے لیے یہ فیصلہ آنے والے برسوں کی سیاست اور معیشت کا رخ متعین کر سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button