یہ حقیقت اب کسی ابہام کی محتاج نہیں رہی کہ پاکستان میں دہشتگردی کا بیانیہ دم توڑ چکا ہے اور ریاست اپنی ثابت قدمی صبر اور دانشمندانہ حکمتِ عملی کے باعث سرخرو ہو چکی ہے۔ کالعدم بی ایل اے جیسے شدت پسند گروہوں سے وابستہ عناصر کا ہتھیار ڈالنا اور اپنی فکری گمراہی کا اعتراف اس امر کی روشن دلیل ہے کہ بندوق کے زور پر مسلط کیا گیا جھوٹ آخرکار سچ کے سامنے ٹھہر نہیں سکا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب نفرت تشدد اور بغاوت کی سیاست بے نقاب ہوئی اور ریاستِ پاکستان کا مؤقف درست ثابت ہوا کہ دہشتگردی کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ہر مسئلے کی جڑ ہے۔
اس قومی کامیابی کے پس منظر میں پاک فوج کی وہ خاموش مگر فیصلہ کن جدوجہد ہے جس نے ملک کو اندھیروں سے نکال کر امن کے راستے پر گامزن کیا افواجِ پاکستان نے نہ صرف میدانِ عمل میں دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ فکری محاذ پر بھی انتہاپسندی کے جھوٹے نعروں کو دفن کر دیا ہمارے جوانوں نے قربانیوں کی ایسی مثالیں قائم کیں جن پر قوم ہمیشہ ناز کرے گی ماؤں نے بیٹے دیے، باپوں نے سائے قربان کیے، مگر ریاست کی رِٹ آئین کی بالادستی اور قومی وحدت پر آنچ نہ آنے دی گئی یہی وہ عزم ہے جس نے دہشتگردی کے سرغنوں کو کمزور اور ان کے پیروکاروں کو سچ ماننے پر مجبور کیا۔

اسی تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا وہ تاریخی اور دو ٹوک بیان یاد آتا ہے جس میں انہوں نے پوری قوتِ یقین کے ساتھ کہا تھا کہ اگر چند سو یا ڈیڑھ ہزار لوگ یہ خواب دیکھتے ہیں کہ وہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کر لیں گے تو وہ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ان کی آنے والی دس نسلیں بھی اس خواب کو تعبیر نہیں دے سکتیں آج وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ محض الفاظ نہیں تھے بلکہ ریاستی عزم کا اعلان تھے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وہ کہہ کر نہیں چھوڑا بلکہ عملاً کر کے دکھا دیا آج انہی سازشوں کے پروردہ ہتھیار ڈال رہے ہیں، اعتراف کر رہے ہیں اور ریاست کے سامنے شکست تسلیم کر چکے ہیں ۔
انتہا پسند تنظیموں کے نام پر فساد پھیلانے والے شرپسند عناصر دراصل اس دھرتی کے مجرم ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے محرومی کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کیا غیر ملکی آقاؤں کے ایجنڈے کو اپنے ہی لوگوں کے خون سے سینچا اور پاکستان کی سالمیت پر حملہ آور ہونے کو بہادری کا نام دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ گروہ نہ کسی خطے کے خیرخواہ ہیں اور نہ کسی قوم کے نمائندہ؛ یہ صرف لاشوں پر سیاست کرنے والے مفاد پرست ہیں۔ ایسے عناصر کو قوم کی زبان میں بے نقاب کرنا اور قانون کے مطابق انجام تک پہنچانا ریاست کی ذمہ داری بھی ہے اور قومی ضرورت بھی تاکہ آئندہ کوئی نوجوان اس زہر کا شکار نہ ہو ۔
تاہم ریاستِ پاکستان اور پاک فوج کی عظمت اس امر میں بھی نمایاں ہے کہ وہ گمراہ اور مجرم کے درمیان فرق کرتی ہے جو واقعی بھٹک گئے تھے، جو تشدد سے لاتعلقی اختیار کر کے آئین اور قانون کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہیں، ان کے لیے قومی دھارے میں واپسی کا راستہ موجود ہے یہی توازن ایک مہذب خود اعتماد اور مضبوط ریاست کی پہچان ہے سختی ان پر جو فساد پھیلائیں، اور موقع ان کے لیے جو سچ کی طرف لوٹنا چاہیں۔

آج پاکستان ایک واضح موڑ پر کھڑا ہے جہاں یہ پیغام پوری قوت سے دنیا کو دیا جا چکا ہے کہ اس ملک کا مستقبل بندوق نہیں آئین طے کرے گا نفرت نہیں وحدت جیتے گی اور انتشار نہیں، ریاست کی رِٹ غالب رہے گی۔ پاک فوج اس ریاست کی فولادی دیوار ہے خاموش باوقار اور قربانی کے جذبے سے سرشار جو وطن کے خلاف سازش کرے گا، وہ تاریخ کے اندھیروں میں دفن ہو جائے گا، اور جو وطن کی طرف لوٹے گا، اسے قانون کے دائرے میں نئی زندگی کا حق ملے گا یہی اس عہد کا فیصلہ ہے، یہی قوم کی فتح، اور یہی ناقابلِ تردید سچ ہے کہ دہشتگردی ہار گئی ریاست جیت گئی۔



