تیل، طاقت اور تہران: ایک نئی عالمی شطرنج
تاریخ گواہ ہے کہ جہاں زمین کے نیچے سونا بہتا ہو وہاں زمین کے اوپر سکون کم ہی ملتا ہے۔ کبھی نوآبادیاتی طاقتیں مختلف وسائل اور تجارتی راستوں کے لیے لڑتی تھیں، آج کی طاقتیں تیل اور گیس کی رگوں پر اثر و رسوخ کے لیے صف آرا ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے اور ایران اس بساط کا اہم خانہ بن چکا ہے۔ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد ایران نے پیش رفت کا دعویٰ کیا، مگر امریکی نائب صدر JD Vance نے واضح کیا کہ تہران ابھی واشنگٹن کی “ریڈ لائنز” تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ امریکی صدر Donald Trump پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ سفارتکاری کی ایک حد ہوتی ہے۔

یہ محض سفارتی جملوں کا تبادلہ نہیں؛ یہ توانائی کی سیاست کا وہ تسلسل ہے جو پہلی جنگِ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔ 1953 میں ایران کی سیاسی ہلچل سے لے کر خلیجی جنگوں تک، ہر مرحلے پر توانائی کے ذخائر عالمی فیصلوں کی خاموش مگر طاقتور سطر رہے ہیں۔ جس خطے کے پاس توانائی کے وسائل ہوں، وہ عالمی طاقتوں کی ترجیحات میں سرفہرست رہتا ہے۔ امریکہ دنیا کی بڑی معیشت اور توانائی صارفین میں شامل ہے، اس لیے جہاں تیل ہو وہاں اس کی اسٹریٹجک دلچسپی فطری طور پر نمایاں ہوتی ہے۔
دوسری جانب چین ابھرتی ہوئی معاشی قوت ہے اور اس کی صنعت، برآمدات اور اقتصادی رفتار مسلسل توانائی فراہمی سے جڑی ہے۔ ایران چین کے لیے صرف ایک سپلائر نہیں بلکہ ایک جغرافیائی کڑی بھی ہے جو مشرقِ وسطیٰ کو ایشیا سے جوڑتی ہے۔ بیجنگ نے تہران کے ساتھ طویل المدتی اقتصادی معاہدے کیے، بندرگاہوں اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی اور پابندیوں کے باوجود تیل کی خریداری کے متبادل راستے نکالے۔ چین عموماً براہِ راست فوجی تصادم سے گریز کرتا ہے؛ اس کی حکمتِ عملی معاشی شراکت، سفارتی توازن اور متبادل مالیاتی نظام کی تعمیر پر مبنی ہے۔ اسی لیے وہ ایران کے ساتھ کھڑا تو نظر آتا ہے، مگر کھلے عسکری اتحاد کے انداز میں نہیں بلکہ محتاط، تدریجی اور پسِ پردہ اثر بڑھانے کی صورت میں۔
یہی مقام عالمی طاقتوں کی نئی آزمائش بن سکتا ہے۔ اگر ایران کسی ممکنہ تصادم میں چین کی ٹیکنالوجی یا خفیہ سفارتی مدد پر انحصار کرے اور امریکی عسکری یا تکنیکی برتری غالب آ جائے تو اس کا اثر صرف تہران تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ بیجنگ کی ساکھ پر بھی پڑے گا۔ لیکن اگر چین کی حمایت مؤثر ثابت ہوتی ہے اور امریکی دباؤ مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو عالمی طاقت کا بیانیہ بدل سکتا ہے۔ ایسی صورت میں دنیا ایک نئے پاور گیم میں داخل ہوگی جہاں اتحاد، مالیاتی نظام اور توانائی کے وسائل ازسرِنو ترتیب پائیں گے۔

روس، بھارت اور یورپ کا زاویہ بھی کم اہم نہیں۔ روس اپنی دفاعی ٹیکنالوجی کی ساکھ برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا، بھارت خطے میں اپنے مفادات کو متوازن رکھے گا، اور یورپی ممالک، جو ایران سے توانائی کی خریداری میں دلچسپی رکھتے رہے ہیں، کھلے تصادم کے بجائے استحکام کو ترجیح دیں گے۔ یوں ایران ایک ایسا نقطۂ اتصال بن جاتا ہے جہاں عسکری، معاشی اور سفارتی عوامل ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔

اگر امریکہ ایران کی طرف پوری طاقت کے ساتھ پیش قدمی کرتا ہے — چاہے وہ سخت پابندیوں کی صورت ہو، بحری ناکہ بندی ہو یا محدود عسکری کارروائی — تو یہ صرف ایک ملک کے خلاف اقدام نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات عالمی منڈی، تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر مرتب ہوں گے۔ چین اس صورت میں براہِ راست محاذ آرائی سے بچتے ہوئے پسِ پردہ سفارتی اور معاشی سہارا دے سکتا ہے، کیونکہ اس کی ترجیح استحکام ہے، کھلی جنگ نہیں۔ مگر اگر دباؤ اس حد تک بڑھ جائے کہ خطے میں وسیع تصادم کا خطرہ پیدا ہو، تو عالمی طاقتوں کو نئی صف بندی کرنا پڑے گی۔
یہی وہ لمحہ ہوگا جہاں سوال ایران یا امریکہ سے آگے نکل جائے گا۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا عالمی نظام یک قطبی رہے گا یا کثیر قطبی شکل اختیار کرے گا؟ اگر واشنگٹن اپنی برتری ثابت کرتا ہے تو موجودہ طاقت کا توازن برقرار رہے گا۔ اگر نہیں، تو بیجنگ اور اس کے شراکت داروں کو نئی جگہ مل سکتی ہے، اور دنیا ایک نئے دور کی دہلیز پر کھڑی ہوگی۔
تاریخ کا پہیہ ایک بار پھر توانائی کے گرد گھوم رہا ہے۔ ایران اس کھیل کا مرکز ضرور ہے، مگر اصل مقابلہ طاقت کے تصور اور اس کے استعمال کا ہے۔ تیل اب بھی طاقت ہے، مگر آنے والا باب یہ طے کرے گا کہ یہ طاقت ایک ہی ہاتھ میں رہے گی یا کئی ہاتھوں میں تقسیم ہو کر دنیا کی سیاست کو نئی شکل دے گی۔



