انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

مشرق وسطیٰ کی جنگ اورتوانائی بحران

فرخ ریاض بٹ

مشرق وسطیٰ کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ عالمی سیاست کے مرکز میں رہا ہے۔ یہاں ہونے والی ہر سیاسی، عسکری اور سفارتی پیش رفت نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ عالمی طاقتوں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کراتی ہے۔خلیجی خطہ دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور یہاں ہونے والی کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے، اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر دنیا کے تقریباً ہر ملک کی معیشت پر پڑتا ہے، اسی لیے عالمی طاقتیں اس خطے میں استحکام برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے عالمی سیاست اور معیشت کو ایک بار پھر غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ ہماری معیشت کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر انحصارکرتا ہے اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاو ¿ براہ راست یہاں کے عوام اور معیشت کو متاثر کرتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی معاشی دباو ¿ کا شکار ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح، بجلی اورگیس کے بڑھتے ہوئے نرخ اور عام شہری کی قوت خرید میں کمی نے معاشرتی سطح پر بے چینی کو جنم دیا ہے۔ ایسے حالات میں جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ یا ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں، صنعتی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ عام شہری پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کے بحران کو محض ایک تکنیکی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے اثرات براہ راست عوامی زندگی پر پڑتے ہیں۔ملک میں کئی دہائیوں سے توانائی کی قلت اور درآمدی ایندھن پر انحصار جیسے مسائل موجود ہیں مگر ان کے مستقل حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، اگر ماضی میں متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے اور مقامی وسائل کے بہتر استعمال پر بھرپور توجہ دی جاتی تو آج پاکستان اس قدر بیرونی ایندھن پر انحصارکرنے پر مجبور نہ ہوتا۔دنیا کے کئی ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو اپنی پالیسیوں کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔ یورپ، چین اور دیگر خطوں میں شمسی اور ہوا سے توانائی کے منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں وہاں توانائی کے بحران کے اثرات نسبتاً کم دیکھنے میں آتے ہیں۔پاکستان کے پاس بھی قدرتی وسائل کی کمی نہیں ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں سورج کی روشنی سال کے بیشتر حصے میں دستیاب رہتی ہے جب کہ ساحلی علاقوں میں ہوا سے توانائی پیدا کرنے کی بھی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے باوجود ان وسائل سے مکمل فایدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔موجودہ بحران ایک طرح سے پاکستان کے لیے ایک وارننگ بھی ہے کہ اگر ہم نے توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو مستقبل میں ایسے بحران مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ توانائی کی درآمدات پر انحصارکا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی ہر تبدیلی ہمارے معاشی نظام کو متاثرکرے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ توانائی کی پالیسی کو طویل المدتی بنیادوں پر مرتب کیا جائے اور مقامی وسائل کے استعمال کو ترجیح دی جائے۔ پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک موقع بھی ہے، اگر اس بحران کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اس کے نتیجے میں توانائی، معیشت اور حکمرانی کے نظام میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں تو یہ ملک کے لیے ایک مثبت تبدیلی کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔ توانائی کی بچت، قابل تجدید ذرائع کا فروغ، حکومتی اخراجات میں کمی اور شفاف معاشی پالیسی وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف موجودہ بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی ملک کو زیادہ مستحکم بنا سکتے ہیں۔اس وقت سب سے زیادہ ضرورت قومی اتحاد اور اجتماعی ذمے داری کی ہے۔ حکومت، اپوزیشن،کاروباری طبقہ اور عوام سب کو مل کر اس مشکل دور کا مقابلہ کرنا ہوگا، اگر سیاسی اختلافات کو ایک حد تک پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے تو ایسے حالات میں بہتر فیصلے ممکن ہو سکتے ہیں۔ بحران کے اوقات میں قومیں اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب وہ اجتماعی حکمت عملی اور مشترکہ عزم کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا توانائی بحران ایک یاد دہانی ہے کہ عالمی حالات کس قدر تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں دانشمندانہ پالیسی، ذمے دار قیادت اور عوامی تعاون ہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ موجود ہے کہ وہ اس بحران کو محض ایک مسئلہ نہ سمجھے بلکہ اسے اصلاحات اور بہتری کے ایک موقع کے طور پر استعمال کرے، اگر ایسا کیا گیا تو ممکن ہے کہ آج کا یہ مشکل وقت مستقبل میں ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد ثابت ہو۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button