
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی اولین ترجیح ہسپتالوں کے نظام کو درست کرنا ہے مگر محکمہ صحت کی آستینوں میں چھپے سنگ چور ناگوں نے وزیراعلی کی تمام کاوشوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ آج پنجاب کے مختلف ہسپتالوں کا یہ حال ہے کہ کسی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی نااہلی مریضوں کو سفر آخرت پر بھجوا رہی ہے تو کسی ہسپتال میں مہنگی اور نایاب ادویات سیکرٹریٹ کے اعلی حکام کے چہیتوں کی آشیر باد سے دیدہ دلیری سے چوری کر کے مارکیٹ میں بیچی جا رہی ہیں۔
اسی طرح کسی ہسپتال میں دو سالوں کے دوران خریدی جانے والی ادویات اور ڈسپوزیبل سامان نہ صرف مہنگے داموں پر خریدا جا رہا ہے بلکہ ضرورت سے زیادہ خریدا جا رہا ہے۔ آج لاہور میں قائم دل کا ہسپتال روز بروز انتہائی تیز رفتاری سے بدحالی کی بدترین سطح کی طرف گامزن ہے جہاں سابقہ دور میں کبھی جعلی زائد المیاد ادویات سینکڑوں مریضوں کے لیے لقمہ اجل بن جاتی ہے اور ہسپتال کے مسیحائوں کو مکھن سے بال کی طرح نکال کر کلین چٹ دے دی جاتی ہے۔
کبھی اسٹنٹوں کی چوری سکینڈل پر مقدمہ درج کرایا جاتا ہے اور پھر وہاں بھی کلین چٹ مل جاتی اسی دل کے ہسپتال میں پیس میکرز کی مختلف فرموں سے خریداری کا سکینڈل منظر عام پر اتا ہے مگر ان تمام سکینڈلوں کے باوجود سیکرٹریٹ میں بیٹھے بادشاہ گر اور ہسپتال میں سیاہ و سفید کے مالک ان تمام سکینڈلوں کو عمر و عیار کی زنبیل میں ڈال کر دریا برد کر دیتے ہیں۔
آج پنجاب کی عوام اپنی ہر دلعزیز وزیر اعلی مریم نواز شریف کی جانب سوالیہ نگاہوں سے درخواست گزار ہے کہ کیا ہسپتالوں کی انتظامیہ آسمان سے اتری ہوئی ہے کہ ان ہسپتالوں میں ہونے والی بےضابطگیوں کی تحقیقات احتسابی اداروں سے کیوں نہیں کروائی جاسکتی۔ کیا وجوہات ہیں کہ محکمہ صحت سیکرٹریٹ کے بادشاہ گر ان ہسپتالوں کی انتظامیہ سے (ہر لحاظ سے) مستفید ہو کر معاملات کو کھوہ کھاتے ڈال دیتے ہیں اور نتیجہ صفر ہوتا ہے جبکہ ان ہسپتالوں کی انتظامیہ کے سنگچور نئی توانائی سے ایک بار پھر ہسپتال کے خزانے کو دنوں میں چاٹ جاتے ہیں۔
(سنگ چور سانپ پتھر تک چاٹ جاتا ہے)۔ آج میں ہر دلعزیز وزیر پنجاب مریم نواز شریف کی توجہ پنجاب کے سب سے بڑے دل کے ہسپتال پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی جانب دلوانا چاہ رہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کی نظر کیے جانے والے دستاویزی ثبوتوں کے بعد آپ ان معاملات کی مختلف احتسابی اداروں سے تحقیقات کروائیں گی تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکے۔
محترم وزیراعلی صاحبہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی انتظامیہ نے سال 2023،24 میں صرف ایک شعبہ بے ہوشی کے لیے مختلف نوعیت کے ڈسپوزیبل ائٹم چونتیس کروڑ ستاسٹھ لاکھ چودہ ہزار چھ سو ساٹھ کے خریدے جبکہ سال 2024،25 میں پانچ کروڑ باون لاکھ ستاون ہزار دو سو پینتالس کے خریدے ۔اگر انتہائی باریکی سے ان ڈسپوزیبل آئٹم کی قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو نہ صرف ان میں واضح فرق نظر اتا ہے بلکہ ہسپتال کے قواعد و ضوابط سے ہٹ کے ایک سال میں زائد خریداری کی گئی۔
شعبہ بیہوشی کے ڈسپوزیبل ائٹم کی خریداری میں ایک اور اہم بات مشاہدہ میں ائی ہے کہ ایک ہی ائٹم ایک سال میں بار بار خریدا گیا جبکہ قواعد و ضوابط کے مطابق ایک سال میں ضرورت کے مطابق پہلے ہی مکمل خریداری کر لی جاتی ہے۔ میری معلومات کے مطابق پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی انتظامیہ کی جانب سے بے ہوشی سیکشن کے لیے گزشتہ چار پانچ سالوں میں کی جانے والی خریداری کی تحقیقات کرنا انتہائی ضروری ہے جس کا گزشتہ دو سالوں کی خریداری میں شفاف طریقے سے موازنہ نہ کیا جا سکتا ہے تاکہ خریداری کرنے والے اور اینڈ یوزر کی خواہشات کا بھی تجزیہ ہو سکے کیونکہ ہمیشہ انہی کمپنیوں سے اتنی ہی مقدار میں سامان خریدا جاتا ہے جس کی خواہش اینڈ یوزر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کرتا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ جس مخصوص کمپنی اور مقدار کی خواہش کا اظہار کرتا ہے اس میں ریٹ نہیں دیکھا جاتا صرف اینڈ یوزرہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی خواہشات پر عمل درآمد کیا جاتا ہے پھر تمام قواعد و ضابط ختم ہو جاتے ہیں چاہے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی خواہش کے مطابق خریدے جانے والے سامان کی قیمت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو اور عموما ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی خواہشات کے مطابق خریدے جانے والے سامان کے عوض ان مسیحائوں کو ان مخصوص کمپنیوں کی جانب سے تحفتا فیملی سمیت بیرون ممالک کے سفر عنایت کیے جاتے ہیں۔ جس پر حکومتی فرشتوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ پنجاب بھر کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس کے پاس ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ وہ سال میں کئی کئی مرتبہ بیوی بچوں سمیت چھٹیاں لے کر بیشتر ممالک گھوم رہے ہوتے ہیں۔ بہرحال میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کاڈیالوجی انتظامیہ کی جانب سے خریدے جانے والی بیس مختلف ڈسپوزیبل ائٹمز کی قیمتوں کا موازنہ پیش کرتا ہوں ۔
جس کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں سی وی پی لائن ٹرپل لومین،بلڈ ٹرانسفیوین سیٹ، نیزل کینولا،ایرز ٹی پیس،ڈسپوزیبل سرنجز ود آٹو لاک بلسٹر پیک،ڈسپوزیبل سرنجز ود لور لوک بلسٹر پیک ،نیبلائزر کٹ،ایئر وے،ہیمو فلٹر ویڈیو ود ٹیوبنگ ہیمو کنسنٹریٹر سیٹ،سی وی پی لائن ٹرپل لومین،آرٹیریل لائن اینڈ گائیڈ،سی پی اے پی ماسک، فولی سلیکون کیتھیٹر ٹو وے، کلورو ہیکسی ڈائن گولوکونیٹ،کینولا برنولہ ود انجیکشن پورٹ اینڈ اٹیگریٹڈ کون،ای ٹی ٹی ڈبل لیومن،کینولا برنولہ 18 جی،آر ٹیریل لائن اینڈ گائیڈ 20 جی،آر ٹریل لائن اینڈ گائیڈ 18 جی،کینولا برنولہ ود انجیکشن پورٹ اینڈ اٹیگریٹڈ کون 14 جی اور ڈسپوزیبل انسولن سرنجز ود نیڈل بلسٹر پیک 31 جی کی قیمتوں میں واضح فرق نمایاں ہے جبکہ اسی طرح دیگر ڈسپوزیبل ائٹمز کی قیمتوں میں بھی واضح فرق نظر اتا ہے جس کی تحقیقات کرنا ضروری ہے۔



