مشرقِ وسطیٰ :جنگ، معیشت اور عالمی توازن
عمران حیدر
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے تاریخی لمحے سے گزر رہا ہے جسے آنے والی نسلیں شاید ایک نئے عالمی دور کی ابتداء کے طور پر یاد کریں گی۔ خلیج کے پانیوں میں اب صرف تیل بردار جہاز نہیں چل رہے، بلکہ طاقت کے کھیل کے اشارے تیر رہے ہیں۔ جنگی بیڑے، میزائل دفاعی نظام اور خفیہ سفارتی مذاکرات اس خطے کو ایک ایسے سٹیج میں بدل رہے ہیں جہاں صرف علاقائی سیاست نہیں بلکہ عالمی معیشت کا مستقبل بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔
ایران کے گرد گھومتی ہوئی کشیدگی کو اگر صرف ایک فوجی تنازع سمجھا جائے تو یہ ایک بڑی غلط فہمی ہوگی۔ درحقیقت یہ اس بڑے عالمی مقابلے کی علامت ہے جس میں امریکہ، چین، روس اور یورپ اپنی اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کیا ہوگا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کشمکش کے بعد دنیا کی طاقت کا توازن کہاں جا کر رُکے گا۔
مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت ہمیشہ صرف جغرافیہ تک محدود نہیں رہی۔ اس خطے کی اصل طاقت اس کے نیچے چھپے ہوئے توانائی کے خزانے ہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز دراصل جدید دنیا کی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ یہاں اگر چند دن کے لیے بھی کشیدگی بڑھ جائے تو لندن، نیویارک، ٹوکیو اور شنگھائی کی سٹاک مارکیٹیں بھی لرزنے لگتی ہیں،لیکن اب ایک اور بڑی تبدیلی آہستہ آہستہ جنم لے رہی ہے۔گزشتہ تیس برسوں میں خلیجی ریاستوں نے اپنی معیشتوں کو جس انداز میں ترقی دی وہ بنیادی طور پر مغربی سرمایہ داری کے ماڈل پر کھڑا تھا۔ دبئی کی فلک بوس عمارتیں، دوحہ کے مالیاتی مراکز اور ریاض کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری دراصل اس نظام کا حصہ تھیں جس میں امریکی ڈالر، مغربی بینک اور عالمی سرمایہ کار مرکزی کردار ادا کرتے تھے۔لیکن اگر خطہ مسلسل جنگی دباؤ کا شکار رہتا ہے تو یہی ماڈل سب سے پہلے دباؤ میں آ سکتا ہے۔
سرمایہ ہمیشہ امن کا دوست ہوتا ہے، اگر خلیج کا ماحول غیر یقینی ہو جائے تو مغربی سرمایہ کار زیادہ محتاط ہو سکتے ہیں۔ اسی جگہ ایک نئی طاقت خاموشی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے اور وہ ہے چین۔چائنہ گزشتہ دو دہائیوں میں صرف ایک فیکٹری نہیں رہا بلکہ ایک مکمل اقتصادی نظام بن چکا ہے۔ اس کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ دراصل دنیا کے تجارتی راستوں کو دوبارہ ترتیب دینے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ بندرگاہیں، ریل نیٹ ورک، توانائی کے منصوبے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے چین ایک ایسا عالمی اقتصادی جال بُن رہا ہے جس میں ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔اگر خلیجی ریاستیں اپنی معاشی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرتی ہیں تو یہ ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں ان کی معیشتیں صرف مغرب پر انحصار کرنے کے بجائے چین اور ایشیائی اقتصادی ماڈل کی طرف بھی جھکنے لگیں۔
یہ ماڈل مغربی سرمایہ داری سے مختلف ہے۔ یہاں ریاست کا کردار زیادہ مضبوط ہوتا ہے، بڑے انفراسٹرکچر منصوبے مرکزی حکمت عملی کے تحت چلتے ہیں اور تجارت کو جغرافیائی سیاست کے ساتھ جوڑا جاتے ہیں۔ اگر خلیجی ریاستیں اس سمت بڑھتی ہیں تو یہ عالمی معیشت میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی،لیکن تبدیلی صرف معیشت تک محدود نہیں رہے گی۔مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ چند برسوں میں ایک اور خاموش مگر اہم تبدیلی ہوئی ہے اور وہ ہے مسلم ریاستوں اور اسرائیل کے تعلقات کا نیا باب۔ کچھ خلیجی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی روابط قائم کیے ہیں۔ اس فیصلے کے پیچھے کئی عوامل ہیں، جیسے ایران کا خوف، ٹیکنالوجی اور تجارت کے مواقع اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کا توازن۔لیکن اگر عالمی طاقت کا مرکز آہستہ آہستہ ایشیا کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اس پورے سیاسی فارمولے میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
ممکن ہے کہ مستقبل میں مسلم دنیا کے کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو صرف سکیورٹی یا امریکی دباؤ کے تناظر میں نہ دیکھیں بلکہ اسے ٹیکنالوجی، تجارت اور علاقائی استحکام کے وسیع تر فریم ورک میں رکھیں۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ ممالک دوبارہ زیادہ محتاط پالیسی اختیار کریں اور اپنے عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تعلق کی رفتار کو سست کریں۔یعنی آنے والے برسوں میں مسلم دنیا اور اسرائیل کے تعلقات ایک سیدھی لکیر کی طرح آگے نہیں بڑھیں گے، بلکہ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے توازن کے ساتھ بدلتے رہیں گے۔اس پورے سکیچ میں جنوبی ایشیا بھی ایک اہم کردار رکھتا ہے۔
پاکستان اور بھارت دونوں کی معیشتیں خلیج کے ساتھ گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے لاکھوں شہری خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور ان کی بھیجی ہوئی ترسیلاتِ زر پاکستانی معیشت کی زندگی کی علامت ہیں۔ دوسری طرف بھارت کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ بھی اسی خطے سے پورا ہوتا ہے۔اگر خلیج میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں تک پہنچیں گے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج سفارتی توازن ہوگا۔ ایک طرف ایران اس کا ہمسایہ ہے اور دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک اس کے اہم اقتصادی شراکت دار ہیں۔ ایسے میں کسی بھی بڑے بحران کے دوران پاکستان کو نہایت محتاط سفارت کاری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔بھارت کے لیے مسئلہ زیادہ تر اقتصادی ہوگا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔لیکن اصل سوال ابھی بھی باقی ہے۔
کیا دنیا واقعی ایک ایسے دور کے دہانے پر کھڑی ہے جہاں عالمی طاقت کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے؟اگر ایسا ہوتا ہے تو خلیجی ریاستیں اس تبدیلی کا مرکز بن سکتی ہیں۔ وہ اپنی دولت، جغرافیائی اہمیت اور توانائی کے وسائل کی بدولت ایک نئے عالمی اقتصادی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ شاید تاریخ کی سب سے دلچسپ بات یہی ہوتی ہے کہ بڑے فیصلے اکثر خاموشی سے ہوتے ہیں۔ جب دنیا کی نظریں جنگی جہازوں، میزائلوں اور سیاسی بیانات پر ہوتی ہیں، اسی وقت کہیں پس پردہ ایسے اقتصادی اور سفارتی فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں جو آنے والی صدی کی سمت طے کرتے ہیں۔ آج خلیج کے پانیوں میں چلتے ہوئے جہاز صرف تیل نہیں لے جا رہے۔وہ دراصل دنیا کے اگلے معاشی اور سیاسی دور کا راستہ بھی طے کر رہے ہیں۔



