مسکراہٹ مسکراہٹ… مسکراہٹ بڑا سُنا سُنا سا نام لگتا ہے۔ کیا مسکراہٹ اسی جہاں میں رہتی ہے یا کسی اور جہاں کی باسی ہے؟ میں آج کے جدید ترین، جادوئی اور سائنسی دور میں بھی اسے ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔ میں نے سوچا شاید مسکراہٹ تاریخ کے اوراق میں مل جائے۔ میں نے لٹریچر کی کتابیں کھولیں، مختلف تحریریں پڑھیں مگر اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ آخر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس کی تلاش میں نکلوں گا اور اسے ڈھونڈ کر ہی دم لوں گا۔
میری تلاش کا سفر شروع ہوا۔ میں مسکراہٹ ڈھونڈتے ڈھونڈتے بلوچستان پہنچا، مگر وہاں جنگ کے شور اور خوف کے ماحول میں مسکراہٹ کہیں گم شدہ سی محسوس ہوئی، جیسے کسی نے اس کے وجود کو خاموشی کے پردوں میں چھپا دیا ہو۔
پھر میں فلسطین پہنچا اور مسکراہٹ کا پتہ پوچھا۔ وہاں اجڑے ہوئے بازار، ٹوٹی ہوئی گلیاں، معصوم بچوں کی بے جان آنکھیں اور ماؤں کی سسکیاں مجھے بتا رہی تھیں کہ مسکراہٹ یہاں سے رخصت ہو چکی ہے۔
میں نے شام، لبنان اور یوکرائن کا رخ کیا۔ ہر طرف تباہی کے مناظر تھے، فضا بارود کی بو سے بھری ہوئی تھی، اور انسان اپنی ہی بنائی ہوئی آگ میں جلتا دکھائی دے رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے دنیا نے ترقی تو کر لی ہے، مگر انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔
پھر میں نے سوچا… کیوں نہ ایران کا رخ کیا جائے۔
وہ سرزمین جس نے عالمی پابندیوں کے باوجود خود انحصاری کی مثال قائم کی، جہاں کے لوگوں کی محنت اور ذہانت نے مشکل حالات میں بھی زندگی کو سنبھالے رکھا۔ میرے دل میں ایک امید جاگی کہ شاید مسکراہٹ نے ان لوگوں کے حوصلے اور صبر کو دیکھ کر وہیں پناہ لے لی ہو۔
مگر جب میں وہاں پہنچا تو حقیقت نے ایک بار پھر دل توڑ دیا۔ حالیہ جنگ کے سائے، اسکولوں پر حملے، معصوم بچوں کی چیخیں، اور بکھرے ہوئے خواب… یہ سب اس بات کا اعلان کر رہے تھے کہ مسکراہٹ یہاں بھی موجود نہیں۔
یہ وہ دنیا ہے جہاں انسان کو پیٹ میں روٹی ملے یا نہ ملے، مگر گولی بڑی آسانی سے مل جاتی ہے۔ جہاں تندور کی آگ ٹھنڈی پڑ چکی ہے، مگر بارود کی آگ ہر طرف دہک رہی ہے۔ جہاں خوشیوں کے چراغ بجھائے جا رہے ہیں اور غموں کے اندھیرے بانٹے جا رہے ہیں۔
میں حیران تھا کہ آخر یہ کیسی نعمت ہے، جس کا ذکر میں نے اپنے آباؤ اجداد سے سنا تھا، مگر آج وہ جیسے منوں مٹی تلے دفن ہو چکی ہے۔ میں اس کی تلاش میں اس قدر بے چین تھا کہ اس کی ایک جھلک دیکھنے کو ترس گیا تھا۔
آخرکار ایک دن، ایک سنسان اور اندھیری راہداری کے آخر میں، مجھے ایک بند کوٹھری نظر آئی۔ دروازہ بوسیدہ تھا اور اندر ایک عجیب سی خاموشی بسی ہوئی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا—تو دیکھا کہ مسکراہٹ قید تھی۔
میں حیران ہو کر اس کے قریب گیا اور بولا:
“تم یہاں کیوں قید ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ دنیا کے انسان تمہیں ڈھونڈنے کو ترس رہے ہیں؟ باہر آؤ اور انسانوں کے چہروں پر سجا دو…”
مسکراہٹ نے سکون سے میری طرف دیکھا، اور آہستہ سے بولی:
“تم مجھے آزاد کروانے آئے ہو؟ مگر پہلے یہ سوچو کہ مجھے قید کس نے کیا ہے۔”
میں خاموش ہو گیا۔
وہ بولی:
“یہ وہی دنیا ہے جہاں انسان کو زندہ رکھنے کے وسائل کم ہیں، مگر مارنے کے ہتھیار بے شمار۔ جہاں تم نے اپنی ترجیحات کھو دی ہیں۔
میری قید کا سبب صرف جنگ نہیں… بلکہ وہ سوچ ہے جو جنگ کو جنم دیتی ہے۔ جب مفاد، انسانیت پر غالب آ جائے… جب طاقت، انصاف کو روند دے… تب میں قید ہو جاتی ہوں۔”
پھر اس کی آواز میں ایک ہلکی سی امید ابھری:
“لیکن یاد رکھو، ہر اندھیرے میں کچھ چراغ بھی جلتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو خوف کے خلاف کھڑے ہیں، جو امن کے لیے لڑ رہے ہیں، تاکہ لوگوں کے چہروں پر سکون واپس آ سکے۔ جہاں یہ جدوجہد جاری ہے، وہاں میں زنجیروں میں ہوتے ہوئے بھی سانس لینے لگتی ہوں۔”
پھر وہ خاموش ہوئی، اور آہستہ سے بولی:
“اگر تم چاہتے ہو کہ میں آزاد ہو جاؤں، تو پہلے خود کو آزاد کرو۔ اپنی سوچ کو آزاد کرو۔ اپنی عزت کرو اور انسانیت کی عزت کرو۔ جب انسان نفرت کو چھوڑ کر محبت کو اپنائے گا، تو مجھے ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑے گی—میں خود ہر چہرے پر آ جاؤں گی۔”
اس کی بات سن کر مجھے احساس ہوا کہ مسکراہٹ کہیں دور نہیں تھی، وہ ہمیشہ انسان کے اندر موجود تھی—مگر ہم نے اسے اپنی نفرتوں، جنگوں اور خودغرضی کے اندھیروں میں خود قید کر رکھا تھا۔
شاید جس دن انسان کو روٹی، گولی سے زیادہ اہم لگنے لگے گی…
شاید جس دن تندور کی آگ، بارود کی آگ پر غالب آ جائے گی…
شاید جس دن محبت، نفرت کو شکست دے دے گی…
اسی دن مسکراہٹ دوبارہ آزاد ہو جائے گی۔



