پاکستانتازہ ترین

وزیر اعظم شہبازشریف کا پٹرول، ڈیزل مہنگا کرنے سے انکار: قیمتیں برقرار، سمری مسترد

کفایت شعاری مہم سے ایک ایک پیسہ بچا کر اربوں روپے عام آدمی کیلئے وقف کر دئیے، قوم سے خطاب:مٹی کا تیل 4روپے 66پیسے فی لٹر مہنگا

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کو مسترد کرتے ہوئے قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔ وزیراعظم نے قوم سے کئے گئے خطاب میں کہا کہ آج سے شروع ہونے والے ہفتہ میں پٹرول پر فی لٹر 95روپے، ڈیزل پر 203 روپے اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی، تاہم عوامی مشکلات کے پیش نظر ان تجاویز کو مسترد کر دیا اور یہ بوجھ وفاقی حکومت نے ایک بار پھر خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرنے کے بعد اس کا حجم 56ارب روپے بنتا ہے اور حکومت یہ اضافی بوجھ خود اٹھائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی کے حساب سے پاکستان میں پٹرول 544روپے فی لٹر ہونا چاہیے تھا مگر 322روپے میں دیا جارہا ہے، ڈیزل کی قیمت آج کے دن 790روپے فی لٹر ہوتی مگر حکومت نے ریلیف دیا اور 335روپے میں فراہم کر رہی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ تین ہفتے کے اندر 125ارب کا بوجھ حکومت نے اپنے کاندھوں پر اٹھا کر عوام کے کاندھوں کو بوجھ سے جھکنے سے روک دیا، یہ خطیر رقم فلاح اور تعمیر کیلئے استعمال ہوسکتی تھی، مگر عوام کا معاشی تحفظ سب سے زیادہ عزیز ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم مشکل وقت میں کفایت شعاری اور سادگی کو اپنائے، اس حوالے سے حکومت جامع منصوبہ بنا رہی ہے جس پر عوام کو تعاون کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کیلئے اپنا سفارتی اور ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، ہماری یہ کاوشیں اللہ کی رضا اور امت مسلمہ کے اتحاد کیلئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں امن کا خواہاں ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار مفاہمت کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا مشکل ترین صورتحال سے نبرد آزما ہے، بڑی بڑی معیشتیں خاموش اور بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہیں، دنیا کی بڑی معیشتوں کو بھی بحران کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کر رہے ہیں، چاہتے ہیں خطہ تباہ کن جنگی اثرات سے نجات پائے اس لیے پاکستان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی وجہ سے دنیا غیر معمولی اور مشکل صورت حال سے نبردآزما ہے، ترقی یافتہ ممالک بھی شدید معاشی بحران سے دوچار ہیں اور ایسے میں پاکستان پر اس معاشی بوجھ کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے مگر ہم نے اس طوفان کا مقابلہ کرنے کیلئے پہلے ہی تیاری شروع کردی تھی۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے معاشی بحران سے نکلنے کیلئے پہلے ہی مشکل فیصلے کئے، ترقیاتی منصوبوں کیلئے 100ارب کی کٹوتی کی، سادگی، کفایت شعاری کی مہم سے ایک ایک پیسہ بچا کر اربوں روپے عام آدمی کیلئے وقف کر دئیے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کے ہر ایک لٹر کے پیچھے حکومتی بچت کی پالیسیاں اور احساس ذمہ داری کی جھلک موجود ہے۔ مزید برآں وزیر اعظم نے زمین کے تحفظ کو اجتماعی اور کلیدی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر فرد اور ہر کمیونٹی کو ماحولیاتی تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
آج منائے جانے والے ارتھ آور کی مناسبت سے اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے قوم سے اپیل کی کہ اس دن کی مناسبت سے رات 8:30بجے سے 9:30بجے تک ایک گھنٹے کے لئے بجلی اور غیر ضروری روشنی بند رکھیں یا کم سے کم استعمال کریں۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے بھرپور اس دور میں ارتھ آور یاد دہانی کراتا ہے کہ زمین کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ اور کلیدی ذمہ داری ہے۔دریں اثنا عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پاکستان میں مٹی کا تیل 4روپے 66پیسے فی لٹر مہنگا کر دیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی نئی قیمت 433روپے40پیسے فی لٹر ہوگئی۔ قیمت میں اضافے کا اطلاق آج سے ہوگا۔ دوسری جانب نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت پٹرول پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 95روپے 59پیسے فی لٹر پی ڈی سی کی مد میں ادا کرے گی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت ڈیزل پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 203روپے 88پیسے فی لٹر پی ڈی سی کی مد میں ادا کرے گی۔ وزیر اعظم

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button