انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

دنیا عالمی جنگ کی طرف بڑھنے لگی

تحریر: محمد قیصر چوہان

دہشت گردی کے عالمی چمپئن امریکا اورناجائز ریاست اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کرنے کے بعد اب یہ تصادم کئی محاذوں پر پھیل چکا ہے۔ فضا، سمندر اور پراکسی جنگوں کے ذریعے ایک ایسا دائرہ تشکیل پا رہا ہے جو کسی بھی لمحے ایک بڑی عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ لبنان کی سرحدوں سے لے کر خلیج فارس کے پانیوں تک اور یمن سے لے کر اسرائیل کے جنوبی علاقوں تک، ہر سمت بارود کی بو اور سائرن کی آوازیں اس بات کا اعلان کر رہی ہیں کہ یہ وقتی لڑائی نہیں ہے، بلکہ عالمی نظام کی ازسرنو تشکیل کی جنگ ہے اور اس کے بعد امریکا، اسرائیل یا ایران، روس، چین اور پاکستان کوئی پہلے جیسا نہیں ہوگا۔

ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملے، اسرائیل کی جوابی کارروائیاں، اور امریکا کے بات چیت راگ کے ساتھ حملے جاری ہیں۔ اب جبکہ یمن کے حوثی بھی اس جنگ میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ حزب اللہ کی سرگرمیاں پہلے ہی شمالی محاذ کو گرم رکھے ہوئے ہیں۔ خلیجی ریاستیں، اگرچہ براہِ راست میدان میں نہیں، مگر اس کشیدگی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ تیل کی ترسیل، بحری راستے، اور عالمی تجارت سب اس جنگ کے سائے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔ اسی پس منظر میں امریکا کا تیسرا بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکا ہے۔

یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش جیسے طیارہ بردار بحری بیڑے کی تعیناتی محض دفاعی اقدام نہیں بلکہ ایک واضح عسکری پیغام ہے کہ واشنگٹن اس جنگ کو محدود رکھنے کے بجائے اس میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کر رہا ہے، یہ بیڑا اسی سے زائد جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے امریکی سینٹرل کمانڈ کے تحت تعینات کیا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا مذاکرات کی آڑ میں ایران پر زمینی آپریشن بھی کر سکتا ہے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا اصل منصوبہ ”گریٹر اسرائیل“ ہے۔

اس کے علاوہ ایران کے توانائی ذخائر پر قبضہ کرنا بھی شامل ہے۔امریکا کی جانب سے خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ اور ممکنہ زمینی کارروائیوں کی تیاری بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے، اگر یہ جنگ زمینی سطح پر داخل ہو جاتی ہے تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے۔ نہ صرف ہزاروں جانیں ضایع ہوں گی بلکہ پورا خطہ ایک طویل عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی، اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے عوامل عالمی اقتصادی نظام کو متاثر کریں گے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ صرف ہتھیاروں اور فضائی حملوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں سیاسی، معاشی اور عالمی سطح پر طاقت کے توازن کی بھی بڑی حکمت عملی شامل ہے۔ ایران نے نہ صرف اپنے دفاعی اور جوہری پروگرام کو محفوظ رکھا ہے بلکہ امریکا اور اسرائیل کو ایک سیاسی و اقتصادی دلدل میں پھنسایا ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے طویل اور پیچیدہ تنازع کا امکان بڑھ گیا ہے۔ موجودہ حالات میں عالمی معیشت بھی اس جنگ کے اثرات سے آزاد نہیں۔

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، شپنگ اور تجارت کی مشکلات نے عالمی سطح پر معاشی عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔ جنگ کے تسلسل نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا کے دیگر حصوں کو بھی غیر مستحکم کر دیا ہے۔ ایران اس دلدل میں بڑی کامیابی سے کھیل رہا ہے۔ اس جنگ کا اصل مقصد محض ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنا نہیں بلکہ خطے میں ایک طویل مدتی سیاسی اور عسکری حکمت عملی نافذ کرنا ہے۔ ایران کی مزاحمت اور اس کی حکمت عملی نے امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کو شدید دباﺅمیں ڈال دیا ہے۔ موجودہ مذاکرات، امن منصوبے اور بین الاقوامی دباﺅ کے باوجود ایران نے اپنی شرائط کو برقرار رکھا ہوا ہے اور اس نے دکھا دیا ہے کہ وہ خطے میں اپنی حکمت عملی کے تحت کھیلنے کے لیے تیار ہے۔

یہ تمام حقائق واضح کرتے ہیں کہ موجودہ کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایران نے اپنی حکمت عملی، دفاعی تیاری اور عالمی طاقتوں پر قابو پانے کی صلاحیت سے ایک مضبوط موقف قائم کیا ہے، جس کی بنیاد پر وہ مذاکرات اور جنگ دونوں میں اپنی شرائط پر عمل کر رہا ہے، موجودہ جنگ صرف عسکری محاذ پر نہیں بلکہ سیاسی، اقتصادی اور عالمی طاقت کے توازن کے محاذ پر بھی جاری ہے، اور اس کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ کشیدگی ایک ایسا نکتہ ہے جہاں ہر فریق اپنی حکمت عملی، طاقت اور سیاسی مقاصد کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

ایران نے اپنی حکمت عملی کے ذریعے خطے میں برتری حاصل کی ہے، امریکا اور اسرائیل محدود نتائج کے لیے اپنی عسکری و اقتصادی طاقت استعمال کر رہے ہیں، اور عالمی برادری خطرناک حد تک عدم استحکام کے سامنے کھڑی ہے۔ یہ صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ جنگ کسی بھی لمحے ایک بڑے عالمی بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے بھنور میں پھنستا دکھائی دے رہا ہے جہاں تاریخ، طاقت، نظریات اور مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں اور اس ٹکرائو کی بازگشت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی محض ایک وقتی تنازع نہیں بلکہ اس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط تاریخی، سیاسی اور اسٹرٹیجک عوامل میں پیوست ہیں۔اگر اس تنازع کے تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی وقت کے ساتھ ساتھ مختلف شکلیں اختیار کرتی رہی ہے۔ کبھی یہ اقتصادی پابندیوں کی صورت میں سامنے آئی، کبھی خفیہ آپریشنز کی شکل میں،اور کبھی براہِ راست عسکری دھمکیوں کے ذریعے۔ حالیہ بحران اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے، مگر اس بار صورتحال زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ اس میں اسرائیل، خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو چکی ہیں۔

اس صورتحال میں پاکستان کی میزبانی میں چار اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے، جس نے عالمی سطح پر امید کو جنم دیا ہے۔ دنیا کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر مرکوز ہیں کہ یہ کوششیں ایک ممکنہ جنگ کو روکنے میں کیا رنگ لاتی ہیں۔ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ بحران ایک امتحان ہے نہ صرف عالمی قیادت کے لیے بلکہ انسانیت کے لیے بھی۔ اگر طاقت کے استعمال کو ہی مسائل کا حل سمجھا جاتا رہا تو اس کے نتائج نہایت بھیانک ہو سکتے ہیں۔

پاکستان اور دیگر ذمہ دار ممالک کی کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ابھی بھی امید باقی ہے، مگر اس امید کو حقیقت میں بدلنے کے لیے امریکا سمیت عالمی برادری کی سنجیدہ، مسلسل اور مخلصانہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس موقع کو ضایع کیا تو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button