لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ ( ویب ڈیسک) ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری، کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز ہوائوں اور بارش کے باعث حادثات میں 6افراد جاں بحق اور 3زخمی ہوگئے۔ شارع فیصل پر نرسری سے بلوچ کالونی پل جانے والا ٹریک ٹریفک کیلئے بند ہوگیا۔
نارتھ ناظم آباد میں شیر شاہ سوری روڈ پر فلائی اوور کے اطراف پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق پرانا گولیمار میں گھرکی دیوار رکشے پر گرنے سے ایک رکشہ ڈرائیور جاں بحق ہوگیا جبکہ اورنگی ٹائون اجتماع گاہ میں گھرکی دیوار گرنے سے 3 بچے زخمی ہوئے۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ نیوکراچی حسن بروہی گوٹھ میں گھر میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔دریں اثنا ملک میں مغربی ہوائوں کا نیا سلسلہ داخل مختلف علاقوں میں بارشوں کا نیا سپل شروع ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے آج جمعہ سے 5اپریل تک بارشوںکی پیشگوئی کی ہے، گلگت بلتستان اور کشمیر کی بالائی وادیوں میں درجہ حرارت مزیدکم ہونے کا امکان ہے، جبکہ مری،گلیات اور اسلام آباد میں وقفے وقفے سی بارش متوقع ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ آسمانی بجلی اور تیز ہوائوں کے باعث کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ہے۔
اسی طرح لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور سیالکوٹ سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی آندھی اور بارش کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث شمال مشرقی بلوچستان اور جنوبی خیبر پختونخوا کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے، لہٰذا شہری سفر سے گریز کریں۔ادھر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بارشوں و سیلاب کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سمیت دیگر واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 30ہوگئی جبکہ 77 افراد زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے 25 مارچ سے اب تک ہونے والی بارشوں کے باعث صوبہ کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پی کے میں جاں بحق افراد میں 18 بچے، 2 مرد اور 5 خواتین جبکہ زخمیوں میں 33 مرد، 9 خواتین اور 35 بچے شامل ہیں۔
بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 88 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 71گھروںکو جزوی جبکہ 17 گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے۔دوسری جانب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش اور ژالہ باری سے پھلوں کے باغات کو نقصان پہنچا ۔رپورٹس کے مطابق کوئٹہ میں تیز ہواکے ساتھ موسلادھار بارش نے جل تھل ایک کر دیا جبکہ چمن، قلعہ عبداللہ اور زیارت سمیت بلوچستان کے شمالی علاقوں میں طوفانی بارش اور ژالہ باری ریکارڈ کی گئی، ہرنائی، چمن، قلات، سوراب اور دیگر علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں اور گاڑیاں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں۔
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں اب تک بارشوں اور سیلاب سے 7 افراد جاں بحق اور 4افراد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق بالا ناڑی میں پشتہ ٹوٹنے سے 100 مکانات تباہ اور 50 مویشی ہلاک ہوئے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز آسمانی بجلی گرنے سے لورالائی اور کچھی میں 2 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ لورالائی میں دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، کوہلو میں چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ جعفر آباد میں ایک بچہ ندی میں بہہ کر جاں بحق ہوا۔



