انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینفن اور فنکارکالم

پوڈکاسٹ ،سنجیدہ مکالمہ ختم، تضحیک ،ذاتی حملوں کا آغاز؟

بازغہ چشتی

پوڈکاسٹ،یہ لفظ کبھی سنجیدہ مکالمے، علم کی ترسیل اور فکری وسعت کا استعارہ ہوا کرتا تھا، مگر آج ہمارے معاشرے میں اس کی صورت کچھ اور ہی بن چکی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پوڈکاسٹ ایک مہذب اور باوقار گفتگو کا ذریعہ ہے، جہاں میزبان اور مہمان کے درمیان ہونے والی بات چیت نہ صرف معلوماتی ہوتی ہے بلکہ سامعین کے شعور میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ وہاں سوالات کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا یا متنازع بیانات حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ سچائی تک پہنچنا اور مختلف پہلوؤں کو متوازن انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس روایت کو جس انداز میں بدل دیا گیا، وہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ فکری زوال کی ایک واضح علامت بھی ہے۔

پاکستان میں پوڈکاسٹ کا دائرہ اب سنجیدہ مکالمے سے نکل کر سنسنی خیزی، ذاتی حملوں اور تضحیک آمیز سوالات تک محدود ہو چکا ہے۔ یہاں میزبان کی ترجیح معلومات نہیں بلکہ وائرل ہونا بن گئی ہے۔ گفتگو کے دوران ایک خاص قسم کی مسکراہٹ، بار بار ذاتی نوعیت کے سوالات، اور مہمان کو نفسیاتی دباؤ میں لا کر ایسی باتیں کہلوانا جو بعد میں اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں یہ سب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ صحافت کے بنیادی اصولوں کے بھی سراسر خلاف ہے۔

ارشاد بھٹی کا شمار ان ناموں میں ہوتا ہے جو ایک عرصے سے صحافت اور تجزیہ نگاری سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کا انداز ہمیشہ سے بے باک اور قدرے طنزیہ رہا ہے، جس نے انہیں مقبولیت بھی دی اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ اسی طرح ریحان طارق نے ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اپنی شناخت بنائی اور پوڈکاسٹنگ کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا۔ دونوں شخصیات اپنے اپنے دائرے میں اثر و رسوخ رکھتی ہیں، مگر حالیہ واقعات نے ان کے طرز عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

فلم “سائیکو” کی تشہیر کے دوران اداکارہ میرا کے ساتھ ہونے والا انٹرویو ایک ایسی مثال بن کر سامنے آیا جس نے پوڈکاسٹنگ کے نام پر ہونے والی زیادتیوں کو بے نقاب کر دیا۔ ایک ایسی خاتون، جو خود یہ اعتراف کر چکی تھیں کہ وہ ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل سے گزر چکی ہیں، ان سے بار بار ذاتی نوعیت کے سوالات کرنا، ان کے ماضی کو کریدنا، اور انہیں ایک غیر آرام دہ صورتحال میں ڈالنا کسی بھی لحاظ سے قابلِ قبول نہیں۔ یہ نہ صحافت ہے، نہ تفریح—یہ صرف ایک انسان کی تذلیل ہے، جسے کانٹینٹ کا نام دے دیا گیا۔

اس واقعے کے بعد ارشاد بھٹی کی جانب سے معافی سامنے آئی، جسے بظاہر ایک مثبت قدم کہا جا سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بعض زخم ایسے ہوتے ہیں جو محض الفاظ سے نہیں بھرتے۔ جب کسی کو عوام کے سامنے اس طرح بے بس اور شرمندہ کیا جائے، تو اس کے اثرات وقتی نہیں ہوتے بلکہ گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔ ذہنی اذیت ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظر انداز کرنا آسان ہے مگر سہنا انتہائی مشکل۔ ایسے حالات میں ایک حساس انسان کس حد تک متاثر ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں۔

یہ معاملہ صرف ایک انٹرویو یا ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کی عزت کو اس کے کردار یا پیشے سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اگر وہ گھریلو ہے تو قابلِ احترام، اور اگر وہ شوبز یا کسی عوامی شعبے سے وابستہ ہے تو اس کی تذلیل کو جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ سوچ نہ صرف فرسودہ ہے بلکہ انتہائی خطرناک بھی۔ عزت ایک انسانی قدر ہے، جو ہر عورت کا حق ہے، چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتی ہو۔

اگر ماضی کی طرف دیکھا جائے تو صحافت کا ایک وقار تھا۔ پرنٹ میڈیا کے دور میں سنجیدہ اخبارات اور جرائد اپنی ذمہ داری کو سمجھتے تھے۔ کسی بھی خبر کو شائع کرتے وقت نہ صرف حقائق کی تصدیق کی جاتی تھی بلکہ متاثرہ افراد کی عزتِ نفس کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ کسی خاتون کا نام مکمل شائع کرنا تو دور کی بات، اکثر صرف ابتدائی حرف تک محدود رکھا جاتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ یہ احتیاط ختم ہوتی گئی اور سنسنی خیزی نے جگہ لے لی۔

1990 کے بعد زرد صحافت کا رجحان بڑھنے لگا، جہاں سچائی کے بجائے سکینڈلز کو ترجیح دی جانے لگی۔ یہ وہ دور تھا جب خبروں میں ذاتی زندگیوں کو موضوع بنایا جانے لگا، اور رفتہ رفتہ یہ رجحان ڈیجیٹل میڈیا تک منتقل ہو گیا۔ آج سوشل میڈیا نے ہر شخص کو ایک پلیٹ فارم دے دیا ہے، مگر اس کے ساتھ آنے والی ذمہ داری کا احساس کہیں کھو گیا ہے۔ اب ہر کوئی خود کو صحافی، تجزیہ کار اور نقاد سمجھنے لگا ہے، بغیر کسی تربیت یا اخلاقی حدود کے۔

یوٹیوب اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر مواد کی بھرمار ہے، جہاں ویوز اور لائکس کی دوڑ نے معیار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کسی کی عزت اچھالنا، ذاتی زندگی کو موضوع بنانا، اور تضحیک آمیز گفتگو کرنا اب ایک عام بات بن چکی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ ناظرین بھی ایسے مواد کو دیکھ رہے ہیں، شیئر کر رہے ہیں، اور یوں اس رجحان کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔

یہ صورتحال کسی ایک فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم خود یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ ہمیں کس قسم کا مواد دیکھنا اور فروغ دینا ہے، تب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ آزادیِ اظہار ایک اہم حق ہے، مگر اس کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی لازم ہے۔ اگر اس توازن کو برقرار نہ رکھا جائے تو یہی آزادی دوسروں کے لیے اذیت بن جاتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ صحافت کو اس کے اصل اصولوں کی طرف واپس لایا جائے، جہاں سچائی، احترام اور ذمہ داری بنیادی اقدار ہوں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی ایک ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے، جو نہ صرف مواد بنانے والوں بلکہ ناظرین کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرے۔

یہ وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہمیں ایک مہذب اور باشعور معاشرہ بنانا ہے یا محض تماشائی بن کر دوسروں کی تذلیل سے لطف اندوز ہونا ہے۔ کیونکہ الفاظ کی طاقت صرف تعمیر نہیں بلکہ تباہی بھی لا سکتی ہے، اور یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس سمت میں استعمال کرتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button