انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبسائنس و ٹیکنالوجیکالم

اے آئی جن نہیں جادوئی چراغ،آج کا طالب علم کل کا معمار

تحریر: فیاض احمد رانا

انسان نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے،وہ اپنی زندگی کو سہل بنانے اور کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے کی جستجو میں رہا ہے۔پتھروں کے دور سے لے کر صنعتی انقلاب تک،ہر دور کی اپنی ایک خاص ایجاد رہی ہے جس نے انسانی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں،اسے’’مصنوعی ذہانت‘‘ (Artificial Intelligence) کا عہد کہا جاتا ہے۔یہ محض ایک تکنیکی ترقی نہیں بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر انقلاب ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے،خاص طور پر تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ہمارا تعلیمی نظام پہلے ہی کئی دہائیوں پرانے نصاب،رٹا سسٹم اور وسائل کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے،وہاں مصنوعی ذہانت کادور ایک طرف تو بڑے چیلنجز لے کر آیا ہے اور دوسری طرف ترقی کے وہ بند دروازے کھولنے کی نوید بھی سنا رہا ہے جن تک ہماری رسائی پہلے ناممکن تھی۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس تبدیلی کے لیے تیار ہیں؟یا ہم ایک بار پھر اس نئی ٹیکنالوجی کو محض تفریح کا ذریعہ سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے؟

تعلیم کے میدان میں اے آئی (AI) کا سب سے بڑا فائدہ ’’انفرادی تدریس‘‘ ہے۔ روایتی کلاس روم میں ایک استاد کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ چالیس پچاس بچوں کی مختلف ذہنی صلاحیتوں کے مطابق ہر ایک کو الگ وقت دے سکے۔ لیکن مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ وئیر ہر طالب علم کی سیکھنے کی رفتار،اس کی دلچسپی اور اس کی کمزوریوں کا تجزیہ کر کے اسے ایک ایسا نصاب فراہم کرتے ہیں،جو خاص طور پر اسی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہو۔یہ طریقہ کار نہ صرف طالب علموں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ان کے سیکھنے کے عمل کو تیز تر اور موثر بنا دیتا ہے۔

دوسری طرف اساتذہ کے کردار میں بھی ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔اب استاد کا کام صرف معلومات فراہم کرنا نہیں رہا،کیونکہ معلومات تو اب ایک’’کلک‘‘ کی دوری پر دستیاب ہیں۔متعدد ٹولز کسی بھی موضوع پر سیکنڈوں میں جواب فراہم کر سکتے ہیں۔ اب استاد کا اصل کام طالب علموں میں ’’تنقیدی سوچ‘‘ پیدا کرنا اور انہیں یہ سکھانا ہے کہ دستیاب معلومات کا درست استعمال کیسے کیا جائے۔ہمیں اپنے اساتذہ کو اے آئی ٹولز کی تربیت دینی ہوگی تاکہ وہ اسے تدریس کے عمل میں مددگار کے طور پر استعمال کر سکیں،نہ کہ اسے اپنے منصب کے لیے خطرہ سمجھیں۔

تعلیمی ماہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج اخلاقیات اور امتحانی نظام کی شفافیت کا بھی ہے۔اس کے لیے ہمیں اپنے امتحانی نظام کو ’’یاداشت کی جانچ‘‘سے نکال کر’’صلاحیت کی جانچ‘‘پر استوار کرنا ہوگا۔ہمیں ایسے سوالات وضع کرنے ہوں گے جن کا جواب محض ڈیٹا سے نہیں بلکہ فہم اور منطق سے دیا جا سکے۔حکومتِ وقت اور اربابِ اختیار کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اگر ہم نے اپنے قومی نصاب میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو فوری طور پر شامل نہ کیا،تو ہم عالمی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر ڈیجیٹل خواندگی کو لازمی قرار دیا جائے۔ہمیں ایسے ہنرمند نوجوان پیدا کرنے ہیں جو صرف ٹیکنالوجی کے صارف نہ ہوں بلکہ اس کے خالق بھی بن سکیں۔فری لانسنگ اور آئی ٹی کی دنیا میں پاکستان کے نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے،لیکن اسے ایک منظم قومی تحریک کی شکل دینے کی ضرورت ہے۔

مصنوعی ذہانت کوئی جن نہیں ہے جس سے ڈرا جائے، بلکہ یہ ایک ایسا جادوئی چراغ ہے جس کی روشنی سے ہم اپنے تاریک تعلیمی گوشوں کو منور کر سکتے ہیں۔تعلیم کا اصل مقصد ہی انسان کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنا ہے۔اگر ہم آج اس جدید ٹیکنالوجی کو گلے نہیں لگائیں گے،تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں کو مستقبل کی لیبارٹریوں میں تبدیل کریں جہاں مصنوعی ذہانت اور انسانی ذہن مل کر ایک روشن اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھیں۔آج کا طالب علم کل کا معمار ہے،اور اس معمار کے ہاتھ میں جدید ترین اوزار دینا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button