انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

پاکستان اور کالا دھن !!!

عقیل انجم اعوان

پاکستان میں کالا دھن ایک ایسا لفظ بن چکا ہے جو ہر بحث کا لازمی حصہ ہے مگر اس کے معنی اور حقیقت کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ جو پیسہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں یا جو دستاویزی نظام سے باہر ہے وہ لازماً غلط ہے۔ یہی سوچ ہمارے معاشی مسائل کی ایک بڑی جڑ بن چکی ہے کیونکہ اس نے حقیقت کو سادہ بنا کر پیش کیا ہے جبکہ زمینی حقائق کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ جب ایک ہی اصطلاح کے اندر مختلف نوعیت کے سرمائے کو ڈال دیا جائے تو نہ صرف پالیسی سازی میں ابہام پیدا ہوتا ہے بلکہ اس کے نتائج معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ "کالا دھن” ایک جیسی چیز نہیں ہے۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں اور ہر صورت کا حل بھی الگ ہونا چاہیے۔ اگر ہم ہر طرح کے پیسے کو ایک ہی نظر سے دیکھیں گے تو ہم نہ صرف انصاف نہیں کر پائیں گے بلکہ معیشت کو بھی نقصان پہنچائیں گے۔ ایک ملک کی ترقی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ اپنے وسائل کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ اگر وسائل کو شک کی نظر سے دیکھا جائے اور انہیں نظام سے باہر رکھا جائے تو ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔
اس اصطلاح کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اسے تین حصوں میں تقسیم کرنا زیادہ مناسب ہے۔ پہلا حصہ وہ ہے جو واقعی جرائم سے جڑا ہوتا ہے۔ اس میں منشیات کی اسمگلنگ، رشوت، غیر قانونی تجارت اور دیگر مجرمانہ سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس قسم کی آمدنی کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے کیونکہ یہ نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کمزور کرتی ہے۔ اس کے خلاف قانون کا مضبوط اور بلا امتیاز استعمال ہی واحد حل ہے۔
دوسرا حصہ وہ ہے جو قانونی ذرائع سے حاصل ہوتا ہے مگر ٹیکس سے بچنے کے لیے چھپایا جاتا ہے۔ یہ ایک عام مسئلہ ہے اور دنیا کے کئی ممالک اس کا سامنا کرتے ہیں۔ کاروباری افراد یا پیشہ ور افراد بعض اوقات اپنی آمدنی کم ظاہر کرتے ہیں یا اخراجات بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ ٹیکس کم دینا پڑے۔ یہ عمل غلط ہے لیکن اس کا حل مکمل سختی یا خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک منصفانہ اور آسان ٹیکس نظام فراہم کرنا ہے جہاں لوگ رضاکارانہ طور پر ٹیکس دینا پسند کریں۔
تیسرا حصہ سب سے اہم ہے اور پاکستان میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو نہ تو جرائم سے حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی ہمیشہ جان بوجھ کر چھپائی جاتی ہے بلکہ یہ ایک ایسے نظام کا نتیجہ ہے جو لوگوں کے لیے پیچیدہ اور غیر یقینی ہے۔ عام آدمی جب سرکاری دفاتر کے چکر لگاتا ہے جب اسے طویل انتظار، رشوت یا غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ فطری طور پر اس نظام سے دور رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ نقد لین دین کو ترجیح دیتے ہیں سونے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں یا جائیداد کو محفوظ سمجھتے ہیں۔
یہ تیسری قسم دراصل پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا چیلنج بھی ہے اور سب سے بڑا موقع بھی۔ اگر اس سرمائے کو درست طریقے سے نظام میں شامل کیا جائے تو یہ معیشت کے لیے ایک طاقتور انجن ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم اسے بھی شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یوں یہ سرمایہ مزید چھپ جاتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ رسمی اور غیر رسمی معیشت کو الگ الگ سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ دونوں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایک چھوٹا دکاندار بڑی کمپنی سے سامان خریدتا ہے، ایک بڑا تاجر چھوٹے کاروبار کو فروخت کرتا ہے اور یہ سلسلہ مسلسل چلتا رہتا ہے۔ جائیداد کے معاملات میں بھی اکثر مکمل رقم ظاہر نہیں کی جاتی جس سے ٹیکس کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو لوگ ایمانداری سے ٹیکس دیتے ہیں وہ خود کو نقصان میں محسوس کرتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ نسبتاً فائدے میں رہتے ہیں۔
یہ صورتحال اعتماد کے بحران کو جنم دیتی ہے۔ جب لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ نظام ان کے ساتھ منصفانہ نہیں ہے تو وہ اس کا حصہ بننے سے کتراتے ہیں۔ وہ اپنے پیسے کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسے راستے اختیار کرتے ہیں جو بظاہر محفوظ ہوتے ہیں مگر معیشت کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتے۔ نقد رقم، سونا اور جائیداد ایسی ہی مثالیں ہیں جہاں پیسہ رکا رہتا ہے اور معیشت میں گردش نہیں کرتا۔
معیشت کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ بچت کو سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جائے۔ بینک اور مالیاتی ادارے اس عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کی بچت کو کاروباروں تک پہنچاتے ہیں۔ مگر جب لوگ بینکوں پر اعتماد نہیں کرتے یا اپنے پیسے کو نظام میں لانے سے ڈرتے ہیں تو یہ عمل متاثر ہوتا ہے۔ نتیجتاً کاروبار کو سرمایہ نہیں ملتا، نئی صنعتیں نہیں لگتیں اور روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کا بیرونی قرضوں پر انحصار بھی اسی مسئلے کی ایک جھلک ہے۔ ملک کے اندر وسائل موجود ہیں مگر وہ استعمال نہیں ہو رہے۔ حکومت کو جب اپنے ہی وسائل تک رسائی نہیں ہوتی تو اسے بیرونی قرض لینا پڑتا ہے۔ اس سے معیشت پر دباؤ بڑھتا ہے اور خود مختاری متاثر ہوتی ہے۔
حکومتی پالیسیاں بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے بعض اوقات مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیمیں وقتی ریلیف تو دیتی ہیں مگر طویل مدت میں یہ پیغام دیتی ہیں کہ ٹیکس نہ دینا کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ بعد میں رعایت مل سکتی ہے۔ اسی طرح غیر متوقع کارروائیاں اور سختی بھی لوگوں کو ڈراتی ہیں اور وہ نظام سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اصل حل یہ ہے کہ سوچ کو بدلا جائے۔ ہر قسم کے پیسے کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس کی نوعیت کو سمجھا جائے۔ جو دولت جرم سے حاصل ہوئی ہے اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ مگر جو پیسہ جائز ذرائع سے حاصل ہوا ہے اسے آسانی سے نظام میں لایا جائے۔ لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ نظام کا حصہ بن کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس نظام کو سادہ بنایا جائے۔ قوانین واضح ہوں اور غیر ضروری پیچیدگیاں ختم کی جائیں۔ سرکاری اداروں میں شفافیت لائی جائے اور ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جائے تاکہ لوگوں کو آسانی ہو۔ زمین کے ریکارڈ کو درست کیا جائے اور کاروباری ملکیت کو واضح بنایا جائے تاکہ تنازعات کم ہوں۔
سب سے اہم بات اعتماد کی بحالی ہے۔ جب تک لوگوں کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا وہ نظام کا حصہ نہیں بنیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک ایسا ماحول فراہم کرے جہاں لوگوں کو سہولت ملے تحفظ حاصل ہو اور ان کی محنت کی کمائی محفوظ رہے۔
پاکستان کی معیشت میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ یہاں لوگوں میں محنت کرنے کی خواہش بھی ہے اور وسائل بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان وسائل کو صحیح سمت میں استعمال کیا جائے۔ اگر ہم نے اپنے ہی پیسے کو شک کی نظر سے دیکھنا بند نہ کیا تو یہ سرمایہ ہمیشہ نظام سے باہر رہے گا اور معیشت کمزور ہی رہے گی۔
وقت آ چکا ہے کہ ہم نعروں سے نکل کر حقیقت کو تسلیم کریں۔ "کالا دھن” کو ایک مبہم اصطلاح کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے اس کی حقیقت کو سمجھیں اور اس کے مطابق پالیسی بنائیں۔ جب ہم اپنے وسائل کو پہچان لیں گے اور انہیں درست طریقے سے استعمال کریں گے تو پاکستان کی معیشت نہ صرف مضبوط ہوگی بلکہ خود کفالت کی طرف بھی بڑھے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں بیرونی انحصار سے نکال کر ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button