یکم مئی ،مزدور کے نام پر جشن، مزدور کے حصے میں محرومی
عاصم رضا خیالوی

مجید سبزی منڈی میں پھیری کا کام کرتا تھا۔ وہ ان مزدوروں میں سے تھا جو اپنے سر پر بوجھ اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ سامان پہنچاتے ہیں۔ اس کے لیے نہ دن کی سخت دھوپ اہم تھی اور نہ سردی کی تیز ہوائیں۔ اس کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا: اپنے بچوں کا پیٹ پالنا اور انہیں وہ زندگی دینا جو اسے کبھی نصیب نہ ہو سکی۔
مجید کے چار بچے تھے، دو بیٹیاں اور دو بیٹے۔ اس نے اپنے بڑے دو بچوں کو اپنے علاقے کے سرکاری اسکول میں داخل کروایا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کے بچے تعلیم حاصل کریں اور بڑے ہو کر عزت کی زندگی گزاریں تاکہ انہیں اپنے باپ کی طرح لوگوں کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔
ایک دن بچے اسکول سے واپس آئے تو بڑے جوش سے بولنے لگے:“بابا! آپ کو پتہ ہے یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن ہے۔ ہماری ٹیچر نے بتایا ہے کہ اس دن مزدوروں کے احترام میں چھٹی ہوتی ہے۔ بابا! آپ بھی تو مزدوری کرتے ہیں، کیا یہ آپ کا دن ہے؟”
مجید نے اپنے بچوں کو محبت سے دیکھا، ایک گہری آہ بھری اور انہیں گود میں بٹھا کر بولا:“ہاں بیٹا، یہ ہمارا دن تو کہا جاتا ہے۔ مگر حقیقت میں یہ ان لوگوں کا دن ہے جو سال کے تین سو چونسٹھ دن ہمارا خون پسینہ نچوڑتے ہیں اور پھر ایک دن تقریریں کر کے مزدوروں سے یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں۔”
وہ کچھ لمحے خاموش رہا اور پھر بولا:
“بیٹا! اس دن بڑے بڑے لوگ پریس کانفرنس کرتے ہیں، خوبصورت الفاظ میں مزدوروں کی تعریف کرتے ہیں، مگر اکثر اسی دن مزدور کی دیہاڑی بھی کٹ جاتی ہے۔”
یہ دن دراصل International Workers’ Day کی یاد دلاتا ہے جس کی بنیاد مزدوروں کی جدوجہد اور قربانیوں پر رکھی گئی۔ تاریخ میں Haymarket Affair جیسے واقعات اس جدوجہد کی علامت بنے، جب مزدوروں نے آٹھ گھنٹے کام کے اصول، بہتر اجرت اور انسانی حقوق کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
انہی جدوجہدوں کے نتیجے میں دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں مزدور کو عزت، بہتر تنخواہ اور سماجی تحفظ ملا۔ وہاں مزدور کو صحت کی سہولیات، چھٹیاں اور قانونی تحفظ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں یکم مئی واقعی خوشی اور فخر کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
لیکن ترقی پذیر معاشروں میں اکثر یہ دن ایک رسمی تقریب بن کر رہ جاتا ہے۔ مزدور کی زندگی بدستور مشکلات سے بھری رہتی ہے۔ مہنگائی بڑھتی رہتی ہے مگر مزدور کی تنخواہ وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے۔ بازار میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں جبکہ مزدور کی دیہاڑی زمین پر ہی رہ جاتی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک میں مزدور آج بھی زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ بظاہر کم از کم تنخواہ کے اعلانات کیے جاتے ہیں، مگر عملی طور پر بہت سے مزدوروں کو وہ تنخواہ بھی پوری نہیں ملتی۔ ایک طرف تنخواہ چالیس ہزار کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف مہنگائی کا بوجھ ڈیڑھ لاکھ روپے کے برابر اس کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ مزدور کو دیہاڑی دیتے وقت اس کے کام میں نقص نکال کر اس کی مزدوری کاٹ لی جاتی ہے۔ دس گھنٹے کام لینے کے بعد اگر وہ مزید ایک گھنٹہ کام نہ کرے تو اس کی کئی گھنٹوں کی مزدوری کم کر دی جاتی ہے۔ یوں مزدور کی محنت سستے داموں خرید کر امیر طبقہ اپنی اشیاء مہنگے داموں فروخت کرتا ہے۔
کئی بار مزدور کے بارے میں ایک جملہ بہت آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے:
“آج اس کی مزدوری کاٹ لو، اس نے کام ٹھیک نہیں کیا۔ آج اس کی اُجرت نہیں ملے گی۔”
مگر یہی معاشرہ مزدور کے نام پر تقاریر کرنے، جلسے منعقد کرنے اور خوبصورت الفاظ میں اسے خراجِ تحسین پیش کرنے پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتا ہے۔ گویا مزدور کو لفظوں میں عزت دینا آسان ہے، مگر اس کی محنت کی قیمت ادا کرنا مشکل۔
اگر کبھی مزدور اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرے تو اسے نظم و ضبط کا مسئلہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر حکمران، بڑے تاجر اور صنعتکار ایک ہی معاشی دائرے کا حصہ ہوتے ہیں۔ وہی لوگ حکومت کے قریب بھی ہوتے ہیں اور بڑے کاروباروں کے مالک بھی۔ یوں مزدور کے مسائل اکثر انہی طاقتور مفادات کے درمیان دب کر رہ جاتے ہیں۔
پاکستان کی سیاست میں ترقی کے نام پر بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ سڑکیں بنتی ہیں، پل بنتے ہیں اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو ترقی کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر نواز شریف اور شہباز شریف کے ادوار میں کنسٹرکشن اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔
بلاشبہ سڑکیں اور پل کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہوتے ہیں، مگر سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ ترقی واقعی مزدور تک پہنچتی ہے؟ یا یہ وہ منصوبے ہیں جو زیادہ تر سیمنٹ، سریا اور کنسٹرکشن کی بڑی صنعتوں سے جڑے معاشی مفادات کو مضبوط کرتے ہیں؟
ترقی کی تختیوں پر حکمرانوں کے نام تو لکھے جاتے ہیں، مگر ان عمارتوں کو بنانے والے مزدور کا نام کہیں درج نہیں ہوتا۔
اسی طرح سیاسی ثقافت میں بھی مزدور کے نام پر نمائشی روایات کو فروغ دیا جاتا ہے۔ کہیں اجرک اور ٹوپی کی تقریبات ہوتی ہیں، کہیں بھٹو بریانی کے دسترخوان سجائے جاتے ہیں اور کہیں سیاسی جلسوں میں پشاوری چپلی کباب کی محفلیں لگتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان سب تقریبات کے بعد مزدور کی زندگی میں کیا تبدیلی آتی ہے؟
کیا اس کے بچوں کی تعلیم بہتر ہو جاتی ہے؟
کیا اس کے گھر کا چولہا آسانی سے جلنے لگتا ہے؟
کیا اس کی اجرت مہنگائی کے برابر ہو جاتی ہے؟
ایسے معاشرے میں مزدور کی شناخت بھی عجیب ہو جاتی ہے۔ اسے انسان یا شہری کے طور پر کم ہی دیکھا جاتا ہے۔ اسے زیادہ تر ایک شناختی کارڈ نمبر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ ایک ایسا شناختی کارڈ جو صرف دو موقعوں پر اہم ہو جاتا ہے: ایک جب اسے مزدوری کے لیے بلایا جائے اور دوسرا جب اسے ووٹ ڈالنے کے لیے یاد کیا جائے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی مزدور اس معاشرے کی معیشت کا اصل ستون ہے۔ فیکٹریاں اسی کے ہاتھوں سے چلتی ہیں، سڑکیں اسی کے ہاتھوں سے بنتی ہیں، عمارتیں اسی کی محنت سے کھڑی ہوتی ہیں اور بازار اسی کی محنت سے آباد ہوتے ہیں۔
مجید اپنے بچوں کو دیکھتے ہوئے سوچتا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بچے بھی ایسے مصنوعی دن منائیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے جہاں مزدور واقعی خوشحال ہو، جہاں یکم مئی صرف تقریروں کا دن نہ ہو بلکہ ایک حقیقی خوشی کا دن ہو—ایسا دن جسے مزدور اپنے خاندان کے ساتھ عید کی طرح منائے۔
جب تک مزدور کو اس کا پورا حق نہیں ملتا اور اس کی محنت کی صحیح قدر نہیں کی جاتی، تب تک یکم مئی صرف ایک تاریخ رہے گی، ایک سرکاری تقریب رہے گی، مگر مزدور کے لیے وہ خوشی کا دن نہیں بن سکے گی جس کے لیے اس دن کی بنیاد رکھی گئی تھی۔



