
اسلام آباد:(ویب ڈیسک )ون کانسٹیٹیوشن ایونیو پر وزیراعظم کی بنائی گی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہواوفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس کی صدارت کی ۔وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔
کمیٹی نے چیئرمین سی ڈی اے سے ون کانسٹیٹیوشن پر تفصیلات طلب کر لیں ۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کے پہلے اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف،ممبر سٹیٹ زمان وٹو بھی موجود تھے۔
چیئرمین سی ڈی اے نے ون کانسٹیٹیوشن کے حوالے سے حقائق کمیٹی کے سامنے رکھے۔کمیٹی نے منگل کو بھی سی ڈی اے سے معاملے پر بریفنگ طلب کر لی۔
ذرائع کے مطابق وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سی ڈی اے کے بعد ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے متاثرین کو ان کے نمائندوں کے ذریعے سنا جائے گا۔
کمیٹی وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرنے سے پہلے تمام تر قانونی اور تکنیکی نکات کا جائزہ لے گی۔کمیٹی اسلام آباد ہائی کورٹ کے تحریری فیصلے سے آگاہ ہے۔سیکرٹری کابینہ ڈویژن اور سیکرٹری کامرس بطور رکن کمیٹی میں شریک ہوئے ۔
دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر میرا موقف بالکل آج بھی وہی ہے جو پہلے دن سے تھا۔صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کا بھی موقف یہی ہے کہ یہ غیر قانونی طور پر بیچا گیا، اب کمیٹی بنا دی گئی ہے تو اس کے سامنے بھی ہم یہی موقف رکھیں گے، جیت قانون کی ہو گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ قانون سب کے لئے برابر ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ غریب کے لئے قانون الگ ہو اور امیر کے لئے قانون الگ، پاکستان کی تاریخ میں اتنا بڑا فراڈ نہیں ہوا ہوگا جس میں ہر کوئی ملوث ہے، 21 سال وہ پیسے کھلاتا رہا اور یہ لوگ کھاتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تجویز دوں گا کہ ہمیں بلڈنگ کے پیچھے نہیں جانا چاہئے بلکہ ان لوگوں کے پیچھے بھی جانا چاہئے جنہوں نے اس ملک کو نقصان پہنچایا، میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ جو سی ڈی اے کا موقف ہے، میں اس کی بھرپور حمایت کروں گا اور مکمل سپورٹ کروں گا۔



