انٹر نیشنلبلاگتازہ ترین

بی جے پی کو انتخابات میں برتری،مودی کے پھروزیراعظم بننے کاامکان؟

حسنین جمیل

بھارت میں پانچ ریاستوں میں الیکشن کا مرحلہ ختم ہونے کے بعد نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے بنگال، آسام ،پونڈی چری بی جے پی کا ہوا تامل ناڈو ایک نئی سیاسی جماعت جو سپر اسٹار ایکٹر تھلاپتی وجے جوزف نے چھ ماہ قبل بنائی تھی اس نے میدان مار لیا ہے جبکہ کیرالہ سےکانگریس اور اسکے اتحادی جیت گئے ہیں ۔

بھارت کی 29 ریاستوں میں سے 20 ریاستوں میں اب بھاجیہ کی حکومت ہے مرکز میں وہ 12سال سے حکمران ہیں ، ڈیرھ سال قبل لوک سبھا کے الیکشن میں اگرچہ مودی تیسری بار پردھان منتری تو بن گئے تھے مگر انکی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے پچھلے دو الیکشن کی نسبت کم سیٹں حاصل کی تھیں اور یو پی کے جس شہر میں رام مندر بنایا تھا ایودھیا سے بھی لوک سبھا کا چنائو ہار گئے تھے اور عام تاثر تھا کہ مودی کی مقبولیت میں اب وہ بات نہیں رہی اور یہ ان کا آخری اقتدار ہو گا مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔

مودی کی قیادت میں بی جے پی نے شاندار کم بیک کیا بھارتی تحزیہ کاروں کے مطابق آپرشن سیندورکے بعد دو بڑی ریاستوں بہار اور بنگال کے الیکشن کی جیت بہت اہم ہے اور مسلسل چوتھی بار مرکز میں بی جے پی حکومت بنا سکتی ہے مودی 2029 پردھان منتری بنے یا نہ بنے یہ انکی مرضی ہو گی مگر حکومت انکی ہی حماعت کی ہو گی کیونکہ لوک سبھا کی سب زیادہ سٹیں یوپی بہار اور بنگال میں ہوتی ہیں۔

یوپی میں تو پہلے ہی بی جے پی کے یوگی وزیر اعلی ٰتھے مگر بہار میں نتیش کمار کی جماعت 15 سال سے اقتدار میں تھی جسے بی جے پی نے اب ہرا دیا اور بنگال میں 78 سا ل میں پہلی بار بی جے پی کو کامیابی ملی ہے ممتا بنرجی کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا یوں بہار اور بنگال جہاں آج تک مودی کا جادو نہیں چلا وہاں اب بی جے ہی کا موکھ منتری بن چکا ہے۔

اب 29 میں سے 9 ریاستں ایسی ہیں جہاں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ نہیں ہے ، جن میں جنوب بھارت کی 5 ریاستیں ، تامل ناڈو ،آندھراپردیش، ،تلنگانہ، کرناٹاک ،کیرالہ شامل ہیں اسکے علاوہ پنجاب اور ہریانہ نمایاں ہیں ، پنجاب سے عام آدمی پارٹی کے7 ارکین راجیہ سبھا کے ارکیین جن راگھو چڈا ،اشوک متل ، سندیپ پٹیل اور کرکٹر ہربھجن سنگھ شامل ہیں وہ بے جی پی میں شامل ہو چکے ہیں ان سات میں سے راگھو چڈا اور ہر بھجن سنگھ پنجاب سے ہیں جن کی وفاداری کی تبدیلی پنجاب میں بے جے پی کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

اب بھارتی جنتا پارٹی جزوی طور پر بھارت کے مشرق مغرب اور شمال جہاں سے زیادہ آبادی وہاں حکمران ہے صرف جنوب کے 25 کروڑ کے لگ بھگ آبادی والی ریاستوں میں اسکی حکومت نہیں ہے ، یہ بی جے پی کے عروج کا دور ہے 2029 سے ایک سال قبل 2028 میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست 25 کروڑ کی آبادی والی ریاست یوپی کے ریاستی الیکشن ہوں گے جہاں بی جے پی 8 سال سے اقتدار میں ہے اور ہیٹ ٹرک کر سکتی ہے یوں کانگریس کی سیاست کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھک جائے گا اور بھاجیہ ناقابل شکست ہو جائے گی جیسے 25 سال قبل کانگریس تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button