پشاور:(ویب ڈیسک)خیبرپختونخوا حکومت نے بدھ6مئی سے صوبہ بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کردیا۔وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مطابق وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، این ایف سی ایوارڈ، بجلی اور گیس کے معاملات میں خاص طور پر ناانصافی کی گئی۔
بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ذاتی معالج کی نگرانی میں علاج فراہم نہیں کیا جا رہا، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہ دینا بھی غیر قانونی اقدام ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی (ایٹا) کے بورڈ آف گورنرز کا 35 واں اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ایٹا کی مجموعی کارکردگی اور ٹیسٹنگ نظام میں متعارف کرائی گئی اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے ایٹا میں نافذ اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیااور کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایٹا کے تحت ٹیسٹنگ نظام کو پیپر بیسڈ سے کمپیوٹر بیسڈ نظام پر کامیابی سے منتقل کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور نقل و پیپر لیکج کے امکانات کا خاتمہ ممکن ہوا ہے۔
امتحانات کی لائیو سٹریمنگ کی جاتی ہے اور نتائج فوری طور پر جاری کیے جاتے ہیں جبکہ عوامی اعتماد کی بحالی اور پبلک فیڈ بیک کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی فعال بنایا گیا ہے۔ کمپیوٹر بیسڈ نظام کے نفاذ سے کاغذ کے استعمال کا خاتمہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال ایٹا کے تحت 37 پراجیکٹس مکمل کیے گئے جبکہ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 166 ہو چکی ہے۔
نقل کی روک تھام کے لیے فیس ریکگنیشن، کوالٹی چیک، سورس بیسڈ کاؤنٹرنگ اور سخت سزاؤں کا نظام نافذ کیا ہے۔ ٹیسٹ کے لیے رول نمبر کی بجائے فیس لاگ ان سسٹم متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔ ادارے کے مالی اور انتظامی نظام کو مضبوط اور محفوظ بنانے کے لیے ایک جامع مینوئل بھی تیار کر لیا گیا جبکہ امتحانات میں نگران سٹاف میں 50 فیصد خواتین کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ میں ایٹا کے خلاف دائر 90 مقدمات میں سے 86 کا فیصلہ ایٹا کے حق میں آ چکا ہے جبکہ 4 مقدمات زیر التواء ہیں۔ایٹا کے نئے ایکٹ کی کابینہ سے منظوری حاصل ہو چکی ہے اور ادارے کو آئی ایس او 9000 سرٹیفیکیشن بھی مل چکی ہے۔
وفاقی حکومت کے مختلف ادارے اور گلگت بلتستان حکومت بھی ایٹا کی خدمات حاصل کر رہے ہیں، جو ادارے کی کارکردگی پر اعتماد کا مظہر ہے۔
سہیل آفریدی نے چارسدہ فائرنگ واقعے میں ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس کی شہادت کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور پولیس حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
جاری بیان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کہا مولانا محمد ادریس کی شہادت افسوسناک ہے، مشکل کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیر اعلی نے شہید کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعاکی اور واقعے میں زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ مولانا محمد ادریس کی شہادت کی خبر سن کر دل انتہائی افسردہ ہوا، متاثرہ خاندان کے غم میں پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔



