سندھ حکومت کا ’’بے نظیر‘‘اقدام؟،75سالہ شیما کرمانی سمیت خواتین پر تشدد،تنقید کا طوفان

لندن،کراچی :(حسنین جمیل ،ویب ڈیسک)سندھ حکومت کا ’’بے نظیر‘‘اقدام؟،شیما کرمانی سمیت خواتین پر تشدد،سوشل میڈیا صارفین برہم ہوگئے۔
’آپ اونچی آواز میں بات کر رہی ہیں، گدھے جیسی آواز ہوتی ہے اونچی۔‘یہ الفاظ ہیں کراچی پولیس کے ایک افسر کے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں نامور کتھک ڈانسر اور عورت مارچ کی آرگنائزر شیما کرمانی سے ان کی گرفتاری سے قبل بات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
اس کے بعد خواتین پولیس اہلکاروں نے شیما کرمانی کے احتجاج کے باوجود انھیں ان کی گاڑی سے گھسیٹ کر نکالا اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔
کراچی پولیس نے منگل کی شام کو عورت مارچ کی آرگنائزر شیما کرمانی، منیزہ احمد، سفینہ جاوید اور شہزادی رائے سمیت کئی خواتین کارکنوں کو حراست میں لیا تھا، جو 10 مئی کو عورت مارچ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنے آئی تھیں تاہم انھیں کراچی پریس کلب کے اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
جب خواتین پولیس اہلکار شیما کرمانی کو گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں بٹھا رہی تھیں تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی خواتین رہنماؤں کو مخاطب کر کے کہہ رہیں تھیں: ’شہلا رضا، شیری رحمان، پولیس 75 سالہ عورت سے ایسے پیش آ رہی ہے، یہ طریقہ ہے ان لوگوں کو۔‘
اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کی ہدایت پر ڈی ایس پی صدر ناصر آفریدی، ایس ایچ او وومن حنا مغل اور ایس ایچ او آرٹلری میدان تھانہ ندیم حیدر کو معطل کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل
شیما کرمانی اور دیگر حقوق نسواں کی کارکنوں کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عام شہریوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ کمیشن شیما کرمانی اور عورت مارچ کے دیگر منتظمین کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہے اور پرامن احتجاج تمام شہریوں کا آئینی حق ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ ’یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ زیادتی نہیں بلکہ ایک وسیع اور نہایت تشویشناک رجحان کا حصہ ہے، جس میں شہریوں کو اپنے حقوق کے اظہار کے لیے عوامی جگہوں سے منظم طریقے سے محروم کیا جارہا ہے۔‘
ایکس پر صحافی طوبیٰ سید لکھتی ہیں کہ ’پیپلز پارٹی کی جمہوریت کا عملی مظاہرہ۔ شیما کرمانی، جو 75 سال کی ہیں اور ملک کی نہایت معزز فنکار خواتین میں شمار ہوتی ہیں، ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جا رہا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہوں۔‘
لمز یونیورسٹی کی استاد اور ایکٹوسٹ ندا کرمانی لکھتی ہیں کہ عورت مارچ کراچی کی ٹیم کے کئی ارکان کو کراچی پریس کلب میں ایک پہلے سے بُک پریس کانفرنس کرنے کی کوشش پر گرفتار کر لیا گیا۔
’بظاہر اب سندھ حکومت میں پریس کانفرنسز کی بھی اجازت نہیں رہی۔‘آرٹسٹ اور ایکٹوسٹ لینا غنی لکھتی ہیں کہ ’یہ واضح طور پر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش اور خواتین کی آواز دبانے کے لیے ریاستی اقدام ہے۔‘
شیما کرمانی اور عورت مارچ کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور شدید ردِعمل سامنے آنے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ڈی آئی جی جنوبی کو ہدایت کی گئی ہے کہ گرفتار خواتین رہنماؤں کو رہا کیا جائے جس کے بعد تمام خواتین رہنماؤں کی رہائی عمل میں آئی۔
اپنی رہائی کے بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیما کرمانی نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواتین پر تشدد کیا گیا اور ایسا ایک ایسی جماعت کی حکومت کے دور میں ہو رہا ہے، جس کی ماضی میں سربراہ ایک خاتون رہی ہیں۔
ان کا اشارہ سابق وزیرِ بےنظیر بھٹو کی طرف تھاان کا کہنا تھا کہ ’خواتین کو پنک سکوٹر دینے کا کیا فائدہ، جب انھیں اتنی آزادی بھی نہ ہو؟‘
شیما کرمانی نے دعویٰ کیا کہ جب وہ تھانے پہنچے تو پولیس اہلکاروں کو کچھ پتا ہی نہیں تھا کہ انہیں کیوں لایا گیا’تھانے کے اہلکار ہم سے پوچھ رہے تھے کہ آپ لوگوں نے کیا کیا ہے جو آپ کو یہاں لایا گیا؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا، مکمل افراتفری تھی۔‘
عورت مارچ نے 10 مئی کو کراچی کے ساحلی مقام سی ویو پر ’ماؤں کے عالمی دن‘ پر عورت مارچ کا اعلان کیا ہے۔
شیما کرمانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس پروگرام کی این او سی کے لیے متعلقہ حکام کو درخواست دی ہے لیکن مسلسل ٹال مٹول کی جا رہی ہے اور اجازت نہیں مل رہی۔
’ہم قانون کی پاسداری کرتے ہیں اور یہ دن ہم ضرور منائیں گے۔ ہم نے جمعے کو آصفہ بھٹو کو خط لکھا، جس میں ہم نے پوچھا ہے کہ کیا پہلی خاتون وزیرِاعظم والی حکومت خواتین سے خوفزدہ ہے؟‘
حکومت کا مؤقف
دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے دعویٰ کیا کہ ان کے محکمے کے پاس ابھی تک این او سی کی درخواست نہیں آئی، ’اگر کسی کلرک کے پاس جمع کروائی گئی ہے تو وہ اس سے لاعلم ہیں۔‘
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ خواتین کے ساتھ پولیس کا اس طرح کا رویہ کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں، نہ پیپلز پارٹی کے لیے اور نہ ہی حکومت کے لیے۔
’اگر کسی کے خلاف کوئی ٹھوس چیز ہے تو آپ اسے گرفتار کریں لیکن یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کسی خاتون کو گاڑی سے گھسیٹا جائے۔‘
ریلی کی این او سی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کی وجہ سے ریلیوں اور جلوسوں پر پابندی ہے لیکن بعض صورتوں میں محکمہ داخلہ استثنیٰ بھی دیتا ہے جس طرح یوم مزدور پر ریلیاں نکالی گئی تھیں۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ شہر میں دہشت گردی کے خدشات کی وجہ سے دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔



