انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

بے اعتباری دنیا

سپیڈبریکر، میاں حبیب

 

ہم سمجھتے تھے کہ ہمارا معاشرہ ہی زوال کا شکار ہے یہاں تو پوری دنیا ہی قحط الرجال سے دوچار ہے اب کسی کو کسی پر اعتبار نہیں رہا اگر دنیا کی سپر پاور کے لیڈر اپنی کہی ہوئی باتوں سے مکر جائیں تو پھر دنیا کی قیادتوں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے اب وعدے وعیدوں کمٹمنٹ اصولوں ضابطوں کی کوئی اوقات نہیں رہی ہر کوئی دوسرے کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنا الو سیدھا کرنے کے چکروں میں ہے مفادات سب سے بڑی حقیقت ہے کسی نے درست کہا تھا کہ دنیا میں سب سے مضبوط رشتہ مفادات کا رشتہ ہوتا ہے ان مفادات نے ہر چیز نیست ونابود کرکے رکھ دی ہے ۔

یقینی، افراتفری، بے اعتباری، بداعتمادی سب مفادات کی پراڈکٹ ہیں اور غیر یقینی کی کیفیت ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس نے اعتبار کی دنیا کا دھڑن تختہ کر دیا ہے بین الاقوامی قیادتوں کا غیراخلاقی رویہ دھوکہ دہی کی معراج کو چھو رہا ہے ہم نے اپنی زندگی میں مذاکرات کا ایسا تماشہ نہیں دیکھا جو امریکہ ایران جنگ میں ہونے والے مذاکرات میں دیکھنے کو مل رہا ہے ایک ماہ کے عرصہ میں درجن بھر ایسے مواقع آئے جہاں سب شیر وشکر دکھائی دیے دنیا کو امید بھر آئی کہ اگلے چند گھنٹوں میں معاملات طے ہو جائیں گے لیکن اگلے ہی لمحے میں سب کچھ ملیا میٹ ہوتا نظر آنے لگا دنیا کو امن کی نوید سنانے والے چند لمحوں بعد ہزاروں سالوں کی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور دنیا کے نقشے سے ختم کرنے کی دھمکیوں پر اتر آتے ہیں امریکہ ایران جنگ نے دنیا کو اتنا کنفیوز کر رکھا ہے کہ دنیا کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا ہے دنیا اتنی بیزار ہو چکی ہے کہ لوگ ڈپریشن میں چلے گئے ہیں ۔

ہر بدلتے لمحے کے ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے ماچس ایسے لوگوں کے ہتھے لگ چکی ہے جن کا کوئی دین مذہب نہیں کہ کس وقت دنیا کو آگ لگا دیں ان معروضی حالات میں کچھ پتہ نہیں کس وقت کیا ہو جائے ایک دن قبل سب اچھا کی رپورٹس آ رہی تھیں آبنائے ہرمز کو آذادی دینے مذاکرات کی نئی تجاویز پر بیٹھک کرنے کی تاریخ طے ہو رہی تھی ایک دوسرے کے لیے سہولت کاری کی پیشکشیں کی جا رہی تھیں اور یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ جنگ کو اب بھول جاو چند دنوں میں سب کچھ معمول پر آ جائے گا لیکن اگلے ہی دن پھر جنگی ماحول عروج پر پہنچ چکا آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جنگی جہازوں کو خلاف ورزی پر ایرانی فوج کا نشانہ بنانا امریکہ کی جانب سے ایران کی چھوٹی کشتیوں کو ہٹ کرنا ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملہ متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں آئل تنصیبات پر میزائل حملے نے سارا ماحول ہی بدل کر رکھ دیاہے۔

صلح ہوتے ہوتے دوبارہ جنگ کے بادل منڈلانہ شروع ہو گئے ہیں ہاتھ ملاتے ملاتے ہاتھ توڑنے کی باتیں ہونے لگی ہیں اب تو یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اس جنگ کا ایک مقصد دنیا کی معیشتوں کو تباہ کرنا بھی ہے نہ جانے منصوبہ سازوں کے عزائم کیا ہیں اور وہ اس جنگ سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ دنیا کے ساتھ کیا کھیل کھیلنا چاہ رہے ہیں لیکن یہ جنگ سے جتنے خوفناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں اگر یہ صورتحال دو چار ماہ مزید برقرار رہی تو یہ کوئی اور ہی صورتحال اختیار کر سکتی ہے اس سے متاثرہ ممالک زیادہ دیر تک ان حالات میں تماشائی بن کر نہیں رہ سکتے وہ اپنی بقا کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں غیر یقینی کی صورتحال پر کوئی موثر تبصرہ بھی نہیں کیا جا سکتا ۔

البتہ اگر امریکہ چین کا دورہ کرتا ہے تو کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا سب سے زیادہ نقصان عرب ممالک کو ہو رہا ہے جو جنگ کیے بغیر تباہ ہو رہے ہیں جو اپنی معیشتیں بچانے کے لیے سب کچھ کر گزرنے کے باوجود کچھ نہیں کر پا رہے جو امریکہ ایران اسرائیل جنگ میں ہائی جیک ہو چکے ہیں آبنائے ہرمز مڈل ایسٹ کی لائف لائن بن چکی اور جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہوتا ماحول نارملائز نہیں ہو سکتا امریکہ نت نئے طریقوں سے آبنائے ہرمز پر اپنا کردار رکھنا چاہتا ہے جبکہ ایران کسی دوسرے کو آبنائے ہرمز کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دینا چاہتا وہ یہ بھانپ چکا ہے کہ امریکہ پراجیکٹ فریڈم کے نام پر جو بحری جہازوں کی آمدورفت میں سہولت کاری کرنا چاہتا ہے ۔

دراصل آبنائے ہرمز میں داخل ہو کر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کا پراجیکٹ فریڈم نہیں پراجیکٹ ڈیڈ لاک ہے نئے پیدا شدہ حالات میں دنیا میں ایک بار پھر مایوسی پھیل گئی ہے لیکن پاکستان تاحال اپنی کوششوں میں مصروف ہے وہ حالات کو بگڑنے سے روکنے کے لیے دونوں فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے وہ ایران کے لیے بھی سہولت کاری کر رہا ہے اور امریکہ کو بھی کسی انتہائی اقدام سے باز رکھنے کے لیے بات چیت میں مصروف رکھنا چاہتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button