انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

وقت کے پرندے کب اُڑ گئے

تحریر: محمد محسن اقبال

بچپن کے وہ دن، جب دنیا وسیع، پُرسکون اور امیدوں سے لبریز محسوس ہوتی تھی، آج بھی یادوں کے دریچوں میں روشن ہیں۔ اُن ایّام میں اتوار ایک ایسی خوشی کا پیامبر ہوتا تھا جس کا انتظار پورے ہفتے شدتِ اشتیاق سے کیا جاتا۔ گویا وہ ہفتے بھر کی محنت اور معمولات کے بعد مسرت کا ایک روشن چراغ تھا، جس کی آمد کا تصور ہی دل میں بے چینی اور خوشی کی لہریں دوڑا دیتا۔
اتوار کے لیے منصوبے کئی دن پہلے بننے لگتے۔ دوستوں کے ساتھ سرگوشیوں میں آئندہ تفریحات کا ذکر ہوتا اور تنہائی کے لمحات میں انہی خیالوں کی آبیاری کی جاتی۔ ہفتہ کی رات اکثر نیند آنکھوں سے کوسوں دور رہتی، کیونکہ ذہن مسلسل اس سوچ میں مگن رہتا کہ صبح طلوع ہوتے ہی کون سا خواب حقیقت کا روپ دھارے گا۔ کیا ہم سبز میدانوں میں کرکٹ کا پرجوش مقابلہ کھیلیں گے، یا کسی عزیز رشتہ دار کے گھر جانے کا پروگرام بنے گا؟ ان تمام امکانات میں سب سے محبوب نانی اماں کے گھر کا سفر ہوتا، جہاں محبت کی مہک فضا میں گھلی ہوتی، کہانیوں کی شیرینی دلوں کو مسحور کر دیتی اور بزرگوں کی شفقت روح کو سکون بخشتی۔ دادا دادی یا نانا نانی کی موجودگی میں ملنے والی محبت، تحفظ اور اپنائیت کی جو لہریں انسان محسوس کرتا ہے، وہ زندگی کے چند نایاب ترین تجربات میں سے ہیں۔ یہ نعمتیں عموماً اسی سنہری دور کا حصہ ہوتی ہیں جسے ہم بچپن کہتے ہیں، جب معصومیت ہر لمحے کو حسن عطا کرتی ہے۔

پھر وقت نے کروٹ لی، حالات بدلے اور اتوار کی جگہ جمعہ نے تعطیل کے دن کی حیثیت اختیار کر لی۔ ابتدا میں جمعہ بھی اسی شوق و انتظار کا مرکز بنا رہا، مگر وقت، جو ہمیشہ خاموشی سے اپنا سفر جاری رکھتا ہے، رفتہ رفتہ اپنی رفتار تیز کرتا چلا گیا۔ جو دن کبھی طویل محسوس ہوتے تھے، وہ اب پلک جھپکتے گزر جاتے ہیں۔ جمعے آتے ہیں اور یوں رخصت ہو جاتے ہیں جیسے ابھی ان کا استقبال بھی نہ کیا ہو۔ وہی دن جو طالب علمی کے زمانے میں دور سے جھانکتے اور بڑی دیر بعد آتے محسوس ہوتے تھے، اب لمحوں میں بیت جاتے ہیں۔ دن ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں، مہینے صبح کی دھند کی مانند تحلیل ہو جاتے ہیں اور سال بہتے دریا کے پانی کی طرح نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔

ایک پرانی کہاوت اس حقیقت کی نہایت خوبصورتی سے ترجمانی کرتی ہے کہ چڑھائی کا سفر طویل محسوس ہوتا ہے جبکہ اترائی چند لمحوں میں طے ہو جاتی ہے۔ انسانی زندگی بھی اسی اصول کی عکاس ہے۔ جوانی تک پہنچنے کا سفر آہستہ آہستہ طے ہوتا ہے، مگر پھر عمر کی ڈھلان حیرت انگیز تیزی سے گزرنے لگتی ہے اور انسان اپنے ابدی سفر کی منزل کے قریب پہنچتا چلا جاتا ہے۔

وقت کی یہ برق رفتاری محض بڑھاپے کا وہم نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ ہر دور کے اہلِ دانش نے کیا ہے۔ قرآنِ مجید نے سورۃ العصر میں خود زمانے کی قسم کھا کر اس حقیقت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان فرمایا ہے:
زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کرتے رہے، حق کی تلقین کرتے رہے اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔
ان مختصر مگر جامع آیات میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ وقت انسان کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ جو لمحہ گزر جائے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ ہر گزرتا ہوا لمحہ ہمیں اپنے خالق کے حضور حاضری کے ایک قدم اور قریب لے جاتا ہے، اس لیے اسے غفلت میں ضائع کرنا دانشمندی نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے بھی وقت کے تیزی سے گزرنے کو قیامت کی نشانیوں میں شمار فرمایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب سال مہینے کی مانند، مہینہ ہفتے کی مانند، ہفتہ دن کی مانند اور دن ایک لمحے کی مانند محسوس ہوگا۔ ایک اور حدیثِ مبارکہ میں آپ ﷺ نے نصیحت فرمائی کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: بڑھاپے سے پہلے جوانی، بیماری سے پہلے صحت، تنگدستی سے پہلے خوشحالی، مصروفیت سے پہلے فراغت، اور موت سے پہلے زندگی۔
یہ ارشادات ہر اُس شخص کے دل میں گونجتے ہیں جس نے بچپن کے بے فکر دنوں کو جوانی اور پھر عمر کے اگلے مراحل میں تبدیل ہوتے دیکھا ہو۔
جوانی کے ایّام میں وقت ایک فراخ دل دوست کی مانند محسوس ہوتا ہے، جو خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں ڈھالنے کے لیے وافر مہلت دیتا ہے۔ ایک تعطیل، ایک دعوت، یا خاندان کے ساتھ گزارا ہوا ایک دن دل کو بے پایاں خوشی سے بھر دیتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے ذمہ داریاں بڑھتی ہیں، انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وقت ریت کی مانند انگلیوں سے پھسلتا جا رہا ہے۔ وہ کرکٹ کے میدان، وہ نانی اماں کا گھر، وہ دوستوں کی محفلیں سب یادوں کے افق پر ستاروں کی مانند دور ہوتے جاتے ہیں۔
تب انسان پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ دنیا کی زندگی محض ایک عارضی قیام گاہ ہے، ایک مختصر پڑاؤ، جس کے بعد اصل اور دائمی منزل ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ اترائی اس لیے تیز محسوس ہوتی ہے کہ منزل قریب آ رہی ہوتی ہے۔
تاہم اس حقیقت کا تقاضا مایوسی نہیں بلکہ شکرگزاری اور بامقصد زندگی ہے۔ یہی تیزی سے گزرتا ہوا وقت ہر روز ہمیں ایک نیا موقع دیتا ہے کہ ہم نیکی کے قریب ہوں، رشتوں کو مضبوط کریں، انسانیت کی خدمت کریں اور ایسے اعمال انجام دیں جو موت کے بعد بھی ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بن جائیں۔
مومن کا اطمینان اس یقین میں پوشیدہ ہے کہ دنیا کی تمام خوشیاں عارضی ہیں، مگر ایمان، اخلاص اور نیکی کا اجر دائمی ہے۔ دادا دادی اور نانا نانی اپنی شفقت کی داستانیں چھوڑ کر رخصت ہو جاتے ہیں، دوست زمانے کی ہواؤں میں بکھر جاتے ہیں، جوانی کی توانائیاں ماند پڑ جاتی ہیں، لیکن وہ روح جو ایمان اور عملِ صالح سے آراستہ ہو، اپنے اصل وطن کی طرف سربلندی کے ساتھ سفر کرتی ہے۔
آئیے، گزرے ہوئے دنوں پر نظر ڈالیں اور آنے والے لمحوں کی قدر کرنا سیکھیں۔ ہر جمعہ، یا زندگی کا ہر وہ دن جو ہمیں راحت اور فراغت عطا کرے، اسی شوق اور تازگی کے ساتھ استقبال کا مستحق ہے جو کبھی بچپن کے اتوار کے لیے ہمارے دلوں میں موجزن ہوتی تھی۔ البتہ اب اس اشتیاق کا مقصد صرف کھیل اور تفریح نہ ہو، بلکہ ان اقدار کا حصول ہو جو زندگی کو حقیقی معنوں میں بامقصد بناتی ہیں۔
جب کبھی کرکٹ کے میدانوں، نانی اماں کے آنگن، یا بچپن کی کسی حسین یاد کا خیال دل میں ابھرے تو اسے وقت کی قدر کرنے کی ایک خاموش نصیحت سمجھئے۔ کیونکہ بالآخر زندگی کی عظمت اس کی طوالت میں نہیں، بلکہ اس ایمان، صبر، محبت اور نیکی میں پوشیدہ ہے جس سے اس کے ایّام کو بھر دیا جائے۔
یوں ہر مسافر اپنے سفر کا اختتام کرتا ہے اور آخرکار اپنے ربِ کریم کی ابدی رحمت کی جانب روانہ ہو جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button