
ہائیکورٹ کے ایک حالیہ منظر نے نہ صرف ایک قانونی مقدمے کو جنم دیا بلکہ ہمارے معاشرے کے ایک تلخ رویے کو بھی بے نقاب کر دیا۔ عدالت میں چند بیٹیاں اپنی والدہ کی بازیابی کے لیے حاضر ہوئیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان کی ماں ایک شخص کے ساتھ چلی گئی ہے۔ جب خاتون کو عدالت میں پیش کیا گیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اپنی مرضی سے گئی ہیں، غلام حسین سے محبت کرتی ہیں اور ان سے شادی کر چکی ہیں۔ عدالت نے ان کے بیان کو تسلیم کیا اور انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ اس دوران بیٹیاں روتی رہیں، چیختی چلاتی رہیں، واویلا کرتی رہیں، مگر ماں اپنے نئے شوہر کے ساتھ روانہ ہوگئی۔
عدالت کے اس مختصر سے منظر کے پیچھے ایک پوری زندگی دفن تھی۔ ایک ایسی زندگی جس کے چوبیس برس قربانی، اذیت، محرومی اور صبر کی داستان تھے۔
یہ وہ عورت تھی جس نے اپنی زندگی کے چوبیس سال اپنے پہلے شوہر کے ساتھ گزارے۔ ایک ایسی عورت جس کے حصے میں آٹھ بیٹیاں آئیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کے بعض حصوں میں آج بھی بیٹی کو نعمت نہیں بلکہ محرومی سمجھا جاتا ہے۔ بیٹا پیدا کرنے کی خواہش میں وہ عورت بار بار ماں بنتی رہی۔ ایک کے بعد ایک بیٹی پیدا ہوتی رہی اور اس کے ساتھ اس کے نصیب میں طعنے، الزام اور ذلت بھی بڑھتی رہی۔
گویا آٹھ بیٹیوں کو جنم دینا اس کا جرم تھا۔جس عورت نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بچوں کو جنم دیا، راتوں کی نیندیں قربان کیں، بیماریوں اور کمزوریوں کا سامنا کیا، اسی عورت کو یہ سننا پڑا کہ وہ بیٹا پیدا نہیں کر سکی۔ اسے ایسے طعنے دیے گئے جیسے اولاد کی جنس کا فیصلہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہو۔ چوبیس برس تک وہ ذہنی اذیت سہتی رہی، نفسیاتی دباؤ برداشت کرتی رہی اور جسمانی تکالیف سے گزرتی رہی۔
آخرکار ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی باقی زندگی بھی اسی اندھیرے میں نہیں گزارے گی۔ اس نے خلع حاصل کی اور اس رشتے سے نکل آئی جس نے اسے سکون سے زیادہ زخم دیے تھے۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی جب اس عورت نے اپنی زندگی کے باقی ماندہ دن خوشی، احترام اور محبت کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے اس کے راستے میں وہی لوگ کھڑے ہوگئے جن کے لیے اس نے اپنی پوری جوانی قربان کر دی تھی۔ اس کی بیٹیاں۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ بیٹیوں کو اپنی ماں سے محبت تھی یا نہیں۔ یقیناً تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا محبت کا مطلب کسی انسان کو اس کی مرضی کے خلاف ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور کرنا ہے جس میں اس کے حصے میں صرف دکھ آئے ہوں؟
کیا ماں صرف اس لیے ہمیشہ قربانی دیتی رہے کہ وہ ماں ہے؟
کیا ماں کا دل نہیں ہوتا؟
کیا اس کی خواہشات نہیں ہوتیں؟
کیا اسے سکون، محبت اور عزت سے جینے کا حق نہیں؟
ہمارے معاشرے میں ماں کو ایک مقدس ہستی تو مان لیا جاتا ہے لیکن اکثر اسے ایک انسان ماننے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہر دکھ برداشت کرے، ہر زخم چھپائے، ہر آنسو پی جائے اور اپنی پوری زندگی اولاد کے نام کر دے۔ لیکن اگر وہ کبھی اپنی خوشی کے بارے میں سوچ لے تو اسے خود غرض قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہ رویہ صرف عورتوں کے ساتھ نہیں ہوتا۔ بہت سے مرد بھی اس اذیت سے گزرتے ہیں۔ بیوی کی وفات یا طلاق کے بعد اگر کوئی مرد دوسری شادی کرنا چاہے تو اس کی اولاد اکثر ناراض ہو جاتی ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ والد یا والدہ کی نئی زندگی ان کے حقوق، یادوں یا جذبات کے خلاف ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ والدین کی ذاتی زندگی پر اولاد کی ملکیت نہیں ہوتی۔
دنیا بھر میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جہاں بچوں نے اپنے والدین کا ہاتھ تھاما، انہیں تنہائی سے نکالا اور نئی زندگی شروع کرنے میں ان کی مدد کی۔ کہیں بیٹیوں نے اپنی بیوہ ماں کی شادی کرائی، کہیں بیٹوں نے اپنے والد کو دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے کا حوصلہ دیا۔ یہ وہ بچے تھے جنہوں نے اپنے والدین کو صرف ماں باپ نہیں بلکہ انسان سمجھا۔
ہائیکورٹ سے اپنے شوہر کے ساتھ روانہ ہونے والی اس عورت کا منظر شاید بہت سوں کو ناگوار گزرا ہو، لیکن اس منظر کو سمجھنے کے لیے عدالت کے چند منٹ نہیں بلکہ اس عورت کے گزرے ہوئے چوبیس سال دیکھنے ہوں گے۔ وہ چوبیس سال جن میں اس نے بیٹیوں کو پالا، گھر سنبھالا، طعنے سنے، محرومیاں برداشت کیں اور اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال دیا۔
اگر اس نے اپنی باقی زندگی کے چند سال خوشی سے گزارنے کا فیصلہ کر لیا تو کیا یہ اتنا بڑا جرم ہے؟
شاید اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم والدین کو اپنی زندگی کا مرکز تو سمجھتے ہیں لیکن ان کی اپنی زندگی کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہم ان سے محبت تو کرتے ہیں مگر ان کی آزادی کو قبول نہیں کر پاتے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ ماں صرف ماں نہیں ہوتی، وہ ایک عورت بھی ہوتی ہے۔ اس کے خواب بھی ہوتے ہیں، اس کے زخم بھی ہوتے ہیں اور اسے خوش رہنے کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔ اگر اس نے اپنی زندگی کے طویل ترین اور مشکل ترین سال دوسروں کے لیے گزار دیے ہیں تو شاید اب اسے اپنی زندگی اپنے لیے جینے کا حق دے دینا چاہیے۔



