
شہروں کی سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی پابندی ہر مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ ان قوانین کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ لیکن جب قانون نافذ کرنے کا عمل عوامی سہولت کے بجائے محض ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ بن جائے تو پھر سوالات جنم لیتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں ٹریفک چالانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں میں یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کرنے سے زیادہ خزانہ بھرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
عام شہریوں کی شکایت ہے کہ معمولی نوعیت کی غلطیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ کئی مقامات پر ٹریفک اہلکار ایسے مقامات پر کھڑے نظر آتے ہیں جہاں سائن بورڈ واضح نہیں ہوتے یا قوانین کے بارے میں عوام کو مناسب آگاہی فراہم نہیں کی گئی ہوتی۔ نتیجتاً شہری انجانے میں خلاف ورزی کرتے ہیں اور پھر جرمانے کی صورت میں مالی بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ عوام کا مؤقف ہے کہ اگر مقصد اصلاح ہے تو پہلے آگاہی دی جائے، سہولت فراہم کی جائے اور پھر قانون کی سختی سے عملداری کی جائے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہمارے معاشرے کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ہیلمٹ نہ پہننا، سگنل توڑنا، ون وے کی خلاف ورزی اور تیز رفتاری جیسے عوامل ہر سال بے شمار حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے جرمانوں کا مکمل خاتمہ کسی صورت مناسب نہیں۔ تاہم جب جرمانوں کی تعداد اور شدت اس حد تک بڑھ جائے کہ عوام انہیں اصلاحی اقدام کے بجائے مالی استحصال سمجھنے لگیں تو متعلقہ اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں ناجائز یا غیر ضروری چالان شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ اگر کسی مقام پر بار بار خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہاں ٹریفک انجینئرنگ، سائن بورڈز یا سڑک کے ڈیزائن میں خامیاں موجود ہیں۔ صرف جرمانے وصول کرنا مسئلے کا مستقل حل نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک قوانین کے نفاذ میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ تمام چالانوں کا ریکارڈ ڈیجیٹل نظام کے تحت عوام کے لیے قابلِ تصدیق ہو، شہریوں کو اپیل کا مؤثر حق دیا جائے اور جرمانوں کے ساتھ ساتھ آگاہی مہمات بھی چلائی جائیں۔ قانون کی عملداری ضرور ہونی چاہیے، مگر اس انداز میں کہ عوام کو انصاف محسوس ہو، نہ کہ یہ تاثر ملے کہ سڑکیں خزانہ بھرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔
ریاست اور عوام کا تعلق اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔ اگر شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ قوانین ان کی حفاظت کے بجائے ان کی جیبوں پر بوجھ ڈالنے کے لیے نافذ کیے جا رہے ہیں تو یہ اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹریفک نظم و ضبط اور عوامی سہولت کے درمیان توازن قائم کرے، تاکہ قانون کا احترام بھی برقرار رہے اور شہری خود کو بے بس اور خوار محسوس نہ کریں۔



